گلگت بلتستان الیکشن۔ مذہبی جماعتیں کس موڑ پر ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں تو ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ ان جماعتوں نے اخلاقی بالیدگی، اصلاح معاشرہ کے ساتھ ساتھ سیاست کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کیا ہے اور ملک میں رائج مغربی طرز جمہوریت میں اپنی من پسند تعبیر کے تحت الیکشنز میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کا نام سر فہرست ہے۔ جماعت اسلامی کے بانی سید مودودی صاحب نے تو باقاعدہ اسلامی ریاست اور اس کی طرز حکومت پر اپنا نظریہ قائم کیا اور ایک مفصل کتاب ریاست اسلامی کے عنوان تحریر کر ڈالی اور اس کے لئے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے جدوجہد بھی کی لیکن عوامی حمایت لینے میں قاصر رہی۔

اسمبلی کی دو چار سیٹیں ملنا تو شاید مقصود نہیں تھا۔ جمعیت علمائے ہند کے بارے میں مستند مؤرخین کا کہنا ہے کہ وہ تو قیام پاکستان کے ہی مخالف تھی، گو بعد ازاں جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے ملک میں منعقد ہر الیکشن میں حصہ لیا اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں صوبہ سرحد میں حکومت بھی بنا ڈالی۔ جنرل ضیاء الحق کے دس سالہ مارشل لائی دور میں جماعت اسلامی نے جہاد کشمیر و افغانستان کے نام سے دامے، درمے سخنے حصہ وصول کیا۔

جمعیت علمائے اسلام اپنے مخصوص طرز فکر کے ساتھ ہر الیکشن میں کچھ نشستیں جیتتی رہیں لیکن بڑا معرکہ سر نہیں کر پائی۔ ہاں جنرل مشرف کے دور میں آمریت کے پایہ تخت کو دوام دینے کے لئے مذہبی جماعتوں کا بے جوڑ متحدہ مجلس عمل وجود میں لایا گیا اور اس وقت کے صوبہ سرحد میں حکومت بھی دی گئی۔ لیکن بعد ازاں اس بے جوڑ اتحاد کی قلعی کھل گئی اور اسلامی حکومت کا نظریہ ہوا ہو گیا۔ صدر زرداری کی حکومت کے آخری ایام میں اور پھر نواز شریف کی تیسری حکومت کے دوران طاھر القادری صاحب میدان عمل میں اترے اور اپنی شعلہ بیانی، پراثر آواز اور کئی کئی گھنٹوں پر محیط تقریروں سے دلوں کو گرماتے رہے، انھوں نے بھی اسلامی حکومت کے لئے اپنا ایجنڈا پیش کیا اور بڑے دھرنے بھی دیے مگر الیکش میں ووٹ لے نہیں پائے۔ اب سنا ہے کہ کینیڈا میں عبادت میں مصروف ہیں۔ نفاذ فقہ جعفریہ، تحریک اسلامی، سنی اتحاد کونسل، وحدت المسلمین، لبیک یا رسول اللہ جماعت پریشر گروپ کی طرز پر سیاست میں ہیں مگر کوئی نمایاں کارکردگی نہیں دکھا پائیں۔

جہاں تک گلگت بلتستان کی بات ہے یہاں کے 1994 سے لے کر 2015 تک کے پارٹی بنیادوں پر منعقدہ الیکشنوں پر نظر ڈالی جائے تو مذہبی جماعتوں کی کارکردگی بھی نمایاں نہیں رہی ہے۔

2009 کے الیکش میں مذہبی جماعتیں صرف ایک سیٹ حاصل کر پائیں جبکہ 2015 کے الیکش میں ان مذہبی جماعتوں کو صرف 05 جنرل نشستوں میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اگر 2015 میں ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب دیکھا جائے تو کل ڈالے گئے ووٹوں میں ان تمام مذہبی جماعتوں کا حصہ تقریباً 4 فی صد بنتا ہے۔ وحدت اسلامی اور تحریک جعفریہ بڑے دھوم دھام سے میدان میں اتریں لیکن جب نتائج سامنے آئے تو وحدت المسلمین کو سکردو سے ایک اور نگر سے ایک سیٹ ملی جبکہ تحریک جعفریہ (تحریک اسلامی ) کو سکردو روندو سے ایک اور گلگت سے ایک نشت ملی۔ دوسری جانب گلگت بلتستان کے کسی بھی ضلع سے جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور طاھر القادری کی جماعت کو ایک بھی نشت نہیں ملی۔ گو کہ عوام کی بڑی اکثریت ان مذہبی جماعتوں کی مالی مدد، مدارس کے لئے چندہ اور مذہبی اجتماعات میں پیش پیش رہتی ہے مگر سیاسی میدان میں ان کے سپورٹ سے کنی کتراتی ہے۔

مذہبی جماعتوں کے سیاسی رول اور ناکامی پر ریسرچ کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعتیں ایک تو اپنے اپنے مخصوص نظریات اور مذہبی خول میں بند ہیں جس کی وجہ سے عوام میں مقبولیت کم ہے۔ دوسری جانب مذہبی جماعتوں کی جمہوریت کے بارے میں الگ الگ تفہیم ہے اس طرح مجموعی طور پر کنفیوژن کا شکار ہیں۔ علاوہ ازیں زیادہ تر مذہبی جماعتیں جمہوری حکومتوں کے تختہ الٹ کر قابض ہونے والے آمر حکمرانوں کی منظور نظر رہی ہیں اس لئے ان جماعتوں کو عوام الیکشن میں ووٹ نہیں دیتی۔

اب گلگت بلتستان کے 15 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے لئے جمعیت علمائے اسلام، جمعیت اسلامی، تحریک اسلامی اور وحدت المسلمین نے کچھ کچھ حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں لیکن وہ دم خم نہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے زیادہ تر امیدوار دیامیر ریجن میں ہیں۔ جمعیت اسلامی نے استور اور گلگت میں امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ تحریک اسلامی نے سکردو اور گلگت میں جبکہ وحدت المسلمین نے سکردو میں ایک اور نگر سے ایک امیدوار سامنے لایا ہے جبکہ باقی حلقوں میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا ہوا ہے۔

اب کی بار ابھی تک ان مذہبی جماعتوں کے کوئی مرکزی رہنما الیکشن مہم میں حصہ لینے کے لئے گلگت بلتستان نہیں آئے ہیں۔ دوسری جانب گلگت اور بلتستان کی دونوں مرکزی امامیہ مساجد کے امام جمعہ و جماعت نے کسی بھی پارٹی کی حمایت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے جس سے یقیناً مذہبی جماعتوں کو پڑنے والے ووٹ پر بھی اثر پڑے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ان حالات میں مذہبی جماعتیں کیا کر پاتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •