امریکہ میں نظر آتا خوفناک بحران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلوریڈا جیت لینے کے باوجود ٹرمپ پریشان دِکھ رہا تھا۔ حالانکہ ابھی تک ہوئے رائے عامہ کے سروے مسلسل دعویٰ کررہے تھے کہ 538 اراکین پر مشتمل الیکٹورل کالج میں 29 ووٹوں کی حامل یہ امریکی ریاست بائیڈن کی حامی ہوئی نظر آرہی ہے۔فلوریڈا میں بائیڈن کی شکست ٹرمپ مخالفین کے لئے حیران کن ہی نہیں بلکہ ان کی امیدوں پر پانی ڈالنے کا باعث بھی ہونا چاہیے تھی۔ یہ کالم لکھنے سے چند ہی لمحے قبل لیکن ڈیموکریٹ پارٹی کا امیدوار اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے مثبت انداز میں پُرامید سنائی دیا۔

اس کے مقابلے میں ٹرمپ نے حسبِ عادت ایک غصے بھرا ٹویٹ لکھ دیا ہے۔اس کا دعویٰ تھا کہ ’’انتخاب چوری‘‘ کرنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ٹویٹر کی نگہبان انتظامیہ اس کے لکھے ٹویٹ کے بارے میں ’’وارننگ‘‘‘ جاری کرنے کو مجبور ہوئی۔ مذکورہ ٹویٹ امریکہ کو نظر بظاہر خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے کی اشتعال آمیز کوشش تھی۔

بالآخر نتیجہ جو بھی آئے۔ایک بات تو طے ہوگئی اور وہ یہ کہ دُنیا بھرمیں رائے عامہ کا جائزہ لینے والے سروے کی روایات متعارف کروانے والا امریکہ اپنے عوام کی سیاسی ترجیحات کا درست انداز میں جائزہ لینے میں ناکام رہتا ہے۔ ہیلری کلنٹن کے حوالے سے 2016 میں بھی ایسے ہی ہوا تھا۔ رائے عامہ کے سروے درحقیقت امریکی صدارتی انتخاب میں الیکٹورل کالج کی کلیدی اہمیت کو نمایاں نہیں ہونے دیتے۔فقط پاپولر ووٹوں کو نگاہ میں رکھیں تو ہیلری کلنٹن نے 2016 میں امریکہ کا صدارتی انتخاب 30 لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے جیت لیا تھا۔

یہ حقیقت مگر الیکٹورل کالج کی وجہ سے اسے وائٹ ہائوس پہنچانے میں ناکام رہی۔فرض کیا اس بار بائیڈن کی حمایت میں ڈالے گئے پاپولر ووٹ اس سے دگنی تعداد میں بھی نظر آئیں اور ٹرمپ اس کے باوجود وائٹ ہائوس میں براجمان رہے تو ’’الیکٹورل کالج‘‘ کے خاتمے کی تحریک شروع ہوجائے گی۔بنیادی سوال اس کے ذریعے یہ اُٹھے گا کہ جمہوریت میں اگر شہری ہی اپنے انفرادی ووٹ کے ذریعے حکومتیں تشکیل دیتے ہیں تو الیکٹورل کالج والے ’’چونچلے‘‘ کا اخلاقی جواز کیا ہے؟۔امریکی آئین کے خالقوں نے مگر اپنے ’’وفاق‘‘ کے استحکام کو یقینی بنانے کے لئے الیکٹورل کالج والا بندوبست متعارف کروایا تھا۔ اس کا خاتمہ امریکہ کو ایک متحد ملک کی صورت قائم نہ رہنے کی راہ پر بھی ڈال سکتا ہے۔

ٹرمپ اوربائیڈن کے مابین مقابلے کی وجہ سے ابھرے تناؤ  نے امریکی عوام کی اکثریت کے اذہان کو مفلوج بنادیا ہے۔رائے عامہ کے سروے اگرچہ اصرار کررہے تھے کہ بائیڈن بآسانی واضح انداز میں 2020کا صدارتی معرکہ جیت جائے گا۔ اس کی ’’بھرپور حمایت‘‘ کا اظہار ٹرمپ کو اپنی شکست تسلیم کرنے کو مجبور کرے گا۔

امریکہ کے انتہائی پڑھے لکھے اور اپنے تئیں لوگوں کی ’’ذہن سازی‘‘ کو مامور صحافی اور تجزیہ نگاروں کا اصل مسئلہ مگر یہ ہے کہ وہ امریکی عوام کی سفید فام اکثریت کے دلوں میں نسلوں سے موجود تعصبات کی شدت واہمیت کو تسلیم کرنے کی اخلاقی جرأت سے محروم ہیں۔ 2016 میں ٹرمپ جیسے متعصب نسل پرست کی جیت ان کی دانست میں ایک ناخوشگوارحادثہ ہی رہی۔وہ اس گماں میں مبتلا رہے کہ وائٹ ہائوس میں گزارے چاربرسوں نے ٹرمپ کو مزید ’’بے نقاب‘‘ کردیا ہے۔ امریکی عوام اب اس سے ہر صورت نجات کے خواہاں ہیں۔

مذکورہ گماں کی بدولت ہی ان ’’ذہن سازوں‘‘ نے فرض کرلیا کہ مقررہ وقت سے کئی دن قبل ڈالے گئے ووٹوں کی ریکارڈ ساز تعداد ٹرمپ کی شکست کو یقینی بنانے کے لئے نمودار ہوئی۔ منگل کے روز پولنگ بوتھوں پر بھی تاریخ ساز نفری دکھائی دی۔اس تعداد کو بھی ٹرمپ سے نجات پانے کی ’’ضد‘‘ کا اظہار تصور کرلیا گیا۔

ٹرمپ نے اپنے بہت ہی ’’وکھرے‘‘ رویے سے ’’ذہن سازوں‘‘ کو درحقیقت بوکھلادیا ہے۔منگل کی صبح ہمارے ہاں آئے نیویارک ٹائمز نے صفحہ اوّل پر ایک خاتون کالم نگار کا مضمون چھاپا ہے۔اسے لکھتے ہوئے کالم نگار نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ نے لکھاریوں کی بے پناہ اکثریت کو فقط اس کے بارے میں سوچنے کو مجبور کردیا ہے۔اس کی صدارت کے دوران ٹرمپ کی زندگی،ذاتی رویے اور طرزِ حکمرانی کے بارے میں سب سے زیادہ کتابیں لکھی گئی ہیں۔ان کتابوں کی تعداد اتنی حیران کن تھی کہ واشنگٹن ٹائمز کے لئے کتابوں پر تبصرہ کرنے والی ایک خاتون کو ایک کتاب لکھنا پڑی جو ٹرمپ پر لکھی تمام کتابوں کے ذکر تک محدود تھی۔

ٹرمپ پر کامل توجہ کی وجہ سے افسانے اور ناول لکھنے والوں کو مناسب پذیرائی نہ ملی۔ امریکی عوام تخیل کی بنیاد پر لکھے Fiction کے بجائے Real Time سیاست کے Hostage بن گئے۔ ٹی وی سکرینوں پر بھی فقط ان پروگراموں کو سب سے زیادہ Ratings ملتی رہی جس کے کامیڈین میزبان ٹرمپ اور اس کے طرزِ حکمرانی کا بے رحم ’’جگتوں‘‘ سے مذاق اُڑاتے ہیں۔

ٹرمپ کی ’’بے رحم شخصیت‘‘ کو بے نقاب کرتی کتابوں کی کثیر تعداد اور ٹی وی سکرینوں پر اس کی بھڈ اُڑانے والے Showsکی بھرپور پذیرائی نے ’’ذہن سازوں‘‘ کو یہ حقیقت یاد رکھنے ہی نہیں دی کہ ہر عمل کا ردعمل بھی ہوتا ہے۔ٹرمپ کو جارحانہ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کتابوں اور ٹی وی پروگراموں نے اس کی Core Constituencyکو بالآخر مزید جارحانہ بنادیا۔ٹرمپ نے انتہائی مہارت سے اپنے حامیوں کو یہ طے کرنے پر مجبور کردیا ہے کہ واشنگٹن پر ’’قابض‘‘ پالیسی ساز امریکی عوام کی بنیادی ترجیجات سے قطعاََ غافل ہیں۔

اپنی صلاحیتوں کو فقط امریکی عوام کی بہتری اور خوش حالی کے لئے وقف کرنے کے بجائے انہیں ’’عالمی (Global)‘‘ رویوں پر حاوی ہونے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔فری ٹریڈ اور سرمایہ دارانہ معیشت کے کلیدی اصولوں پر ثابت قدمی سے عمل نے امریکہ کے بجائے چین جیسے ملکوں کو معاشی اعتبار سے توانا تر بنادیا۔جدید دھندوں پر چھائے اجارہ داروںنے امریکہ کو تارکینِ وطن کا محتاج بھی بنادیا۔ غیر ملکوں سے آئے لوگوں کی وجہ سے امریکہ میں ’’شدت پسند اسلام‘‘ بھی پھیلنا شروع ہوگیا۔

سیاہ فام افراد ’’سو چکر چلاتے ہوئے‘‘ اتنے خوش حال ہونا شروع ہوگئے کہ انہوں نے ان ’’صاف ستھرے‘‘‘ علاقوں میں مکانات خریدنا شروع کردئیے جو کئی برسوں سے فقط سفید فام لوگوں کے لئے مختص تھے۔ ان علاقوں کے مکین اور خاص طورپر خواتین ’’جرائم کے عادی‘‘ سیاہ فام یا ’’اجنبی افراد‘‘ کے خوف میں مبتلا ہونا شروع ہوگئے۔ ٹرمپ نے ’’مسیحی‘‘ پہچان اور ثقافت کو بھی خطرے میں گھرا ہوا دکھایا۔

صدارتی انتخاب کا بالآخر جوبھی نتیجہ برآمد ہو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ٹرمپ کے اندازِ سیاست نے اس کے حامیوں میں خوف اور غصے کے جو جذبات اجاگر کئے ہیں امریکی ذہن ساز اس کا مؤثر توڑ نہیں ڈھونڈپائے۔

ٹرمپ پر لکھی کتابیں اور اس کے خلاف ہوئے کامیڈی شوز ٹرمپ کے حامیوں کو فقط اس کی ذات کی تضحیک کرتے ہی محسوس نہیں ہوئے۔ وہ بلکہ یہ سوچنے کو مجبور ہوئے کہ سفید فام اکثریت کے اصل اور بنیادی جذبات کا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔اس کی وجہ سے وہ نام نہاد ’’لبرل‘‘ افراد کے خلاف مزید غصے سے یک جا ہوگئے۔ بائیڈن صدارتی انتخاب جیت بھی گیا تو یہ جذبات اپنی جگہ موجود رہیں گے۔ ٹرمپ کی شکست بلکہ انہیں شدید تر بنادے گی۔اسی باعث میں امریکہ میں ایک خوفناک بحران نمودار ہوتا دیکھ رہا ہوں جو پاکستان سمیت دُنیا کے بیشتر ملکوں کے لئے بھی خیر کی خبر ہرگز نہیں ہے۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •