بائیڈن کے لئے نظر آنے والی مشکلات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی صدارتی انتخاب نے خوف،بے چینی اور تنائو کی جو شدت دکھائی ہے وہ دُنیا بھر کے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو اپنی سوچ اور رویے میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا باعث ہونا چاہیے۔ بہت خلوص سے انہیں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ اپنے تئیں ’’معروضی حقائق‘‘ کو ’’دریافت‘‘ یا بیان کرتے ہوئے وہ خودپرستانہ رعونت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ فرض کرلیتے ہیں کہ ’’تھوڑی عقل‘‘ رکھنے والا ہر شخص ان ہی کی طرح ’’معقول‘‘سوچ کاحامل ہے۔معاشرے کے محض چند گروہ ہی ’’جہالت بھرے تعصبات‘‘ سے مغلوب ہوئے رہتے ہیں۔

خود کو عقل کل تصور کرتے امریکی ذہن سازوں کی اکثریت 2016 سے مسلسل اصرار کررہی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی ثقافت کا حقیقی نمائندہ نہیں۔وہ انتہائی خود غرض اور لالچی انسان ہے۔ عورتوں کا احترام نہیں کرتا۔ سائنس کا مذاق اڑاتا ہے۔ امریکہ اس کی قیادت میں دُنیا کو ایک مضحکہ خیز ملک نظر آرہا ہے۔ کم ازکم 25برس تک میرا عالمی امور اور سفارت کاروں سے گہرا تعلق رہا۔سفارت کار اپنے ملک کے بارے میں ہمیشہ ’’اچھی باتیں‘‘اجاگر کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔

گزشتہ پانچ برسوں سے میں نے سفارت کاروں سے ملنا چھوڑ دیا۔ اتفاقاََ مگر کسی سماجی تقریب میں امریکی سفارت کاروں سے ملاقات ہوجاتی تو وہ ٹرمپ کے بارے میں مدافعانہ انداز اپناتے محسوس ہوتے۔جبلی طورپر خواہش مند کہ گفتگو میں ان کا صدر زیر بحث نہ آئے۔ سفارت کاروں کے علاوہ جن امریکی لکھاریوں کی کتابیں اورمضامین پڑھنے کا میں برسوں سے عادی ہوں وہ بھی اپنے صدر کو مسلسل اور کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔وہ مصر رہے کہ ٹرمپ کا امریکی صدر منتخب ہوجانا ایک ’’حادثہ‘‘ تھا جو 2020 کے انتخاب کے ذریعے گزرجائے گا۔

نومبر 2020 کے انتخاب نے مگر ثابت کیا ہے کہ ٹرمپ وکھری طبیعت کا حامل محض ایک فرد نہیں۔ امریکی عوام اور خاص طورپر سفید فام اکثریت کے دلوں میں نسلوں سے موجود تعصبات وترجیحات کا بلکہ بھرپور نمائندہ ہے۔انتخابی نتائج بتارہے ہیں ’’پاپولرووٹ‘‘ کی بے پناہ اکثریت نے ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیا۔ یہ حقیقت بھی تاہم نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ 2016کے مقابلے میں اسے 2020میں حیران کن تعداد میں ’’پاپولر ووٹ‘‘ بھی ملے ہیں۔

ٹرمپ کے مخالفین کو گماں تھا کہ صدارتی انتخاب کے دوران پارلیمان کے نمائندوں کا انتخاب ری پبلکن پارٹی کا بھی صفایا کردے گا۔امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹ پارٹی کو قطعی اکثریت مل جائے گی۔ اس کی بدولت جوبائیڈن کو ’’مستحکم حکومت‘‘ چلانے کی سہولت بھی دستیاب ہوجائے گی۔ یہ مگر ہو نہیں پایا۔طویل قانونی جنگ اور سڑکوں پر مظاہروں کی قوت سے بائیڈن وائٹ ہائوس پہنچ بھی گیا تو اسے قانون سازی میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

یہ کالم لکھنے سے قبل میں نے جوبائیڈن کی ایک تازہ ترین تقریر سنی ہے۔وہ پُرخلوص انداز میں عاجزی وانکساری سے اپنی جیت کے ’’ٹھوس امکان‘‘ کا ذکر کررہا تھا اور اس کے بعد نمایاں ہونے والی مشکلات کا اعتراف۔ بائیڈن کی اصل طاقت میری دانست میں یہ تاثر رہا کہ حکومتی امور کے حوالے سے یہ انتہائی تجربہ کار’’بابا‘‘ وائٹ ہائوس پہنچ گیا توخاندان کے بردبار بزرگ کی طرح اتفاق میں برکت والا پیغام دے گا۔اپنے حامیوں کے دلوں میں موجود تعصبات کو غصیلے ٹویٹ کے ذریعے مزید بھڑکانے کی بجائے ’’گورننس‘‘ کے کلیدی امور پر توجہ مرکوز رکھے گا۔

اندھی نفرت وعقیدت نے امریکی معاشرے میں جو تشویش ناک تقسیم پیدا کی ہے اس کی حدت میں نرمی لانے کے لئے بائیڈن سے Healing Touchکی اُمید باندھی جارہی ہے۔فی الوقت یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ وہ اس ضمن میں کس حد تک کامیاب رہے گا۔ سوشل میڈیا نے اندھی نفرت وعقید ت کو شدید تر بنانے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ہم ٹویٹر یا فیس بک کے ذریعے اپنے خیالات کا برجستہ اظہار کرتے ہیں۔ان خیالات کو Likesاور Sharesکی بدولت بھرپور پذیرائی ملے تو ہم اس گماں میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ لوگوں کی بے پناہ اکثریت ہماری طرح ہی سوچتی ہے۔

ہم اپنے سے مختلف سوچ رکھنے والوں کو Unfollowکرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ایسا کرتے ہوئے یہ حقیقت فراموش کردیتے ہیں کہ ان کے خیالات کو بھی Likes اور Shares کی بدولت بھرپور پذیرائی ملتی ہے۔

Unfollowکرنے سے ان خیالات کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ ان سے اتفاق کرنے والوں کا بلکہ ایک گروہ مؤثر تعداد میں اپنی جگہ متحرک رہتا ہے۔ اندھی نفرت وعقید ت پر مبنی تقسیم کی حدت پرقابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے سے مختلف سوچ رکھنے والوں کی بات کو احترام بھرے غور سے سننے کی عادت اپنائیں۔مکالمہ اسی صورت ممکن ہوا کرتا ہے۔ٹرمپ جیسے Populist اقتدار پر قابض ہونے میں اس لئے کامیاب رہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے معاشرے پر حاوی تعصبات کو ڈھٹائی سے اپنا لیتے ہیں۔

ہمارا نام نہاد ’’پڑھا لکھا‘‘ ذہن ان تعصبات کی شدت واہمیت دیکھنے سے ہمیشہ قاصر رہتا ہے۔اسی باعث ٹرمپ جیسے لوگ وائٹ ہائوس پہنچ جاتے ہیں تو ہم ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔ امریکہ ہی نہیں دُنیا کے اکثر ممالک میں ’’پڑھے لکھے‘‘ افراد اپنے تئیں ایک ’’قبیلہ‘‘ بن چکے ہیں جو حکومتوں کی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ایک حوالے سے یہ ’’برہمن‘‘ اور ’’شودر‘‘ والی تفریق ہے۔آج کا ’’شودر‘‘ مگر خود کو بے بس ولاچار سمجھنے سے انکاری ہے۔

حکومتیں مگر ان کی ضروریات اور ترجیحات سے قطعاََ غافل رہتی ہیں۔ یہ غفلت خلق خدا کی اکثریت کے دلوں میں غم وغصے کی لہر بھڑکادیتی ہے۔ٹرمپ جیسے سیاستدان اس آگ کو مزید بھڑکاتے ہوئے اقتدار پر قابض ہوجاتے ہیں۔اقتدار مل جانے کے بعد مگر Deep Stateکے خلاف دہائی مچانا شروع ہوجاتے ہیں۔

پاکستان میں عمران خان صاحب کے حوالے سے ایسا ہی منظردِکھ رہا ہے۔’’کرپشن‘‘ کو اس ملک کا بنیادی مسئلہ ٹھہراتے ہوئے وہ برسراقتدار آئے تھے۔ہمارے مسائل مگر اپنی جگہ موجود رہے۔کئی حوالوں سے بلکہ وہ سنگین تر ہوگئے ہیں۔’’مافیا‘‘ کے خلاف دہائی مچاتے ہوئے اب حکومتی کمزوریوں کو چھپایا جارہا ہے۔ ٹرمپ کو Deep State کے خلاف بھی ایسی ہی شکایات رہیں۔ وہ یہ جان ہی نہیں پایا کہ دورِحاضر کے تقاضوں نے Deep State کو کمزور تربنادیا ہے۔ریاست روایتی میڈیا کی بدولت اپنی پسند کا بیانیہ شہریوں پر اب مسلط کرہی نہیں سکتی۔ آپ کے ہاتھ میں موجود موبائل فون انتہائی سرعت سے ہر وہ ’’خبر‘‘ آپ تک پہنچادیتا ہے جسے حکمران چھپانے کوبے چین ہوتے ہیں۔

2020کے آغاز میں عذاب کی صورت نازل ہوئے کرونا نے بھی اس تناظر میں انتہائی انقلابی کردار ادا کیا ہے۔چند ہی مہینوں میں اس نے یہ ثابت کردیا کہ خلقِ خدا کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے نام پر قائم ہوا صحت عامہ کا انتظام ہر حوالے سے بوسیدہ اور ناکارہ ہوچکا ہے۔جدید اور مہنگے ترین ہتھیاروں کی بدولت دُنیا کی واحد سپرطاقت شمار ہوتا امریکہ وائرس کے سامنے ڈھیر ہوا نظر آیا۔اس کی وجہ سے اختیار کردہ لاک ڈائون نے امیر اور غریب کے مابین تقسیم کو پوری سفاکی سمیت عیاں کردیا۔

ثابت ہوا کہ شہریوں کے مابین مساوات کو یقینی بنانے کے نام پر بنائے انتظامی ڈھانچے Structure of Governance دور حاضر کے تقاضوں سے نبردآزما ہونے کے قابل نہیں۔عوام کی بھلائی کو یقینی بنانے کے لئے ہر صورت نئے انتظامی ڈھانچے متعارف کروانا ہوں گے۔ بائیڈن کو وائٹ ہائوس پہنچ جانے کے بعد فقط اس حقیقت پر اپنی ترجہ مرکوز رکھنا ہوگی۔ ایسا نہ ہوا تو اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم خوفناک حد تک شدید تر ہوجائے گی جس کے نتیجے میں صرف امریکہ ہی نہیں دُنیا کے کئی ممالک میںانتشار وخلفشار کی انتہائی پریشان کن صورتیں نمودار ہوں گی۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •