بچوں کا لٹریچر، جنت کی تلاش اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دنیا میں آنے کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ مرنے کے بعد جنت حاصل کرنا ہے۔ والدین ہمارے شوق کو اشتہا بخشنے کے لیے جنت کے طرح طرح کے نقشے کھینچتے تھے۔ جنت میں دودھ کی نہریں ہوں گی، رنگا رنگ پھول، خوشنما پرندے، حوریں اور نجانے کیا کیا بتاتے رہتے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جو چیز دنیا میں ہماری استطاعت سے باہر ہوتی، اسے بھی جنت میں ملنے کی نوید سنا کر تسلی دی جاتی تھی۔ یوں ہم بھی صبح و شام اپنی نیکیوں، وظیفوں اور نمازوں کا حساب کرتے نظر آتے کہ کہیں جنت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔

یہاں تک تو معاملہ بالکل ٹھیک اور قابل برداشت تھا لیکن جب ہم تھوڑے بڑے ہوئے تو ادھر ادھر سے کشمیر، طالبان، جہاد، افغانستان جیسی آوازیں بھی کانوں میں پڑنے لگیں۔ ہم نے امام مسجد سے پوچھا کہ یہ جہاد اور طالبان کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے فرمایا اللہ کے راستے میں غیر مسلموں سے جنگ کرنا اور شہید ہونے کی صورت میں بغیر حساب کتاب جنت میں جانے کا آسان ترین راستہ ہے۔ ہمارا ماتھا ٹھنکا، کہاں ستر سالہ عبادات اور کہاں دو انچ سیسہ، کیوں نہ ہم بھی جہاد پر جائیں۔

اب ہم ہر وقت منتظر رہتے کہ کوئی مجاہد مل جائے اور ہم بھی محاذ پہ پہنچ جائیں۔ رہی سہی کسر عنایت اللہ اور اے حمید کی کمانڈو سیریز پوری کرتے تھے جس سے ہمارے جذبات کو تقویت ملتی۔ مجاہد کی تلاش میں بیرون ممالک سے آنے والی ہر جماعت کے ساتھ بطور خدمت گار کئی سہ روزے لگائے کہ شاید بات بن جائے لیکن بات بنتی نظر نہیں آتی تھی۔

ہم جنت کی تلاش سے مایوس ہونے ہی والے تھے کہ ایک دن جمعے خطبے کے دوران علم ہوا ”شیعہ کافر ہیں“ اور کافر کا قتل بھی جنت کی ضمانت ہے۔ ہم بھاگے بھاگے مولوی صاحب کے پاس گئے اور پوچھا یہ شیعہ کون ہے اور کہاں ملیں گے؟ مولوی صاحب نے مذہبی طور پر تو خیر کچھ نہیں سمجھایا البتہ دو تین شیعوں کے گھروں کی نشاندہی ضرور کر دی۔ اب میں صبح شام یہی منصوبے بناتا رہتا کہ ان شیعوں کو کیسے جہنم واصل کروں۔ بچوں کا اسلام میں غازی علم دین کے متعلق چھپنے والے مضمون سے ہمیں خنجر کی مدد لینے کا خیال آیا۔ (ویسے غازی علم دین کے کیس کی سماعت بی بی سی اپنی ویب سائٹ پر آویزاں کر چکا ہے جس سے تمام من گھڑت مضامین کا کچا چٹھا واضح ہو جاتا ہے )

ایک دن علی الصبح پوری تیاری کر کے میں مولوی صاحب کے بتائے ہوئے گھر کے سامنے جا پہنچا۔ گھبراہٹ تو ہو رہی تھی لیکن جذبہ ایمانی تسلی بھی دے رہا تھا۔ اچانک گھر کا دروازہ کھلا، چاقو پر مری گرفت اور تیز ہو گئی لیکن اس گھر سے نکلنے والی شخصیت کو دیکھ کر مرا دماغ ماؤف ہو گیا۔ میں بھاگتا ہوا گھر آیا اور اماں سے پوچھا کہ سکول میں جو ٹیچر مجھے پڑھاتی ہے وہ شیعہ ہے؟ اماں نے کہا ہاں، کیوں؟ میں نے کہا وہ تو کافر ہوتے ہیں، مولوی صاحب نے کہا انہیں مار دینا چاہیے۔ اماں مذہبی تو ہیں لیکن معاملات کو ان کی نوعیت کے اعتبار سے ڈیل کرتی ہیں۔ انہوں نے قرآنی آیات کا حوالہ دے کر بے گناہ انسان کے قتل کا عذاب اور وہ وعیدیں سنائیں کہ جنت میں جانے کے شارٹ کٹ والے سارے خواب ٹوٹ گئے۔

ممکن تھا کہ میں اس طرح کے مزید شارٹ کٹ ڈھونڈتا لیکن مرے والد صاحب مجھے حفظ کرانے کی غرض سے ایک مدرسے میں بطور اقامتی طالبعلم، داخل کرا آئے۔ دو ماہ میں تین سیپارے حفظ کرنے، جنت/جہنم اور مولویوں کی تقاریر/اعمال کو اچھے سے پرکھنے کے بعد میں نے مدرسے کو خیر آباد کہا۔ سکول میں دوبارہ داخلہ لیا اور مذہبی معاملات سے بالکل بے خبر ہو گیا۔ بی اے کرتے ہوئے سبط حسن، ڈاکٹر مبارک علی، سٹیفن ہاکنگ، رچرڈ ڈاکنز اور علی عباس جلالپوری کی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا جنہوں نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اگر خدانخواستہ اس وقت میں کوئی ایسی ویسی حرکت کر دیتا تو نجانے کیا ہوتا؟

اس ساری کہانی کا مقصد یہ ہے کہ اپنے بچوں کے لٹریچر کی نگہداشت کریں۔ بچوں کا اسلام، محاسن اسلام، اے حمید (کمانڈو سیریز) ، نسیم حجازی اور عنایت اللہ (ایڈیٹر: حکایت) کی کتابیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ جہاد/مسلکی اختلافات/جنت کے شارٹ کٹس کے بجائے نیکی اور انسان سے محبت کا درس دینے والی کتابیں مہیا کریں۔ ورنہ کل کو آپ کے بچے جو ذہنیت لے کر بڑے ہوں گے وہ بین المسلکی اور بین المذہبی امن و امان کے لیے انتشار کا باعث ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حمزہ یعقوب کی دیگر تحریریں