باتیں مرزا رسوا کی

مرزا محمد ہادی مرزا المعروف مرزا رسوا 20 نومبر 1858 کو لکھنو کے محلہ کوچہ آفرین خان میں پیدا ہوئے۔ مرزا رسوا کو بہت سے علوم و فنون میں مہارت حاصل تھی جن میں علم کیمیا، علم نجوم، گھڑ سواری، تیراکی، ناول نگاری اور شاعری وغیرہ شامل ہیں، تاہم ان کی وجہ شہرت ان کی ناول نگاری سمجھی جاتی ہے۔ مارچ 1898 میں رائے صاحب منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز پریس لکھنو کے تحت پہلی مرتبہ زیور طباعت سے آراستہ

Read more

نمرہ وارث کا شعری جہان

ابہام کو شعری قرات کا عیب قرار دینے والے شارحین اور قارئین متن کو کسی لازمی وحدت کی شکل میں دیکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں جن کے نزدیک شعر کی مختلف پرتیں دریافت کرنے کی کوششیں بھی لغوی یا روایتی طور پر روا استعاراتی معنوں تک پہنچنے کی سعی سے زیادہ نہیں ہوتیں، حالانکہ معنی کا ہالہ لفظ سے جڑت کے باوجود متن کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر موجود ہوتا ہے۔ مثلاً میرا جی کی نظم ”کئی ستارے

Read more

فرتاش سید؛ یادیں /ملاقاتیں

فرتاش سید سے میری پہلی ملاقات گول باغ، گلگشت ملتان میں ہوئی، ان دنوں وہ قطر سے واپس آئے ہوئے تھے اور اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھ رہے تھے۔ ان کی آمد پر ادبی تنظیم سخن سرائے نے ایک مختصر شعری نشست کا اہتمام کیا تھا جس میں ارشد عباس ذکی، نعیم آزاد، اسامہ خالد، عمران عالی، طہ ابراہیم اور کچھ اور دوست شامل تھے۔ نشست کے آغاز سے پہلے یک دم تیز بارش شروع ہوئی اور جب تک ہم

Read more

بہترین دماغوں کی خاموشی

بہترین دماغوں کی خاموشی سے قبل ہم بہترین دماغوں پر کچھ بحث کرتے ہیں، مثلاً بہترین دماغ کا مطلب کیا ہے؟ بہترین دماغ کیسے بنتے ہیں؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے اس ضمن میں کوئی کردار ادا کر رہے ہیں؟ کیا بحیثیت مجموعی ہمیں بہترین دماغوں کی ضرورت اور اہمیت کا ادراک ہے؟

بہترین دماغ سے مراد ایسا شخص ہے جسے سماجی، معاشی، معاشرتی، سیاسی اور سائنسی منظرنامے کی علمی اور منطقی ہر دو اعتبار سے سمجھ بوجھ ہو۔ اس کی بصیرت کا کینوس محدود نہ ہو، وہ حال اور آئندہ کے مابین تمام ممکنہ راستوں اور واقعوں کا ادراک رکھتا ہو، اسے تاریخ کے رویوں کا علم ہو کہ تاریخ نے حضرت انسان کے ساتھ ساتھ کیا کیا سلوک کیے۔ اس میں تعصب، عقیدت اور مرعوب ہونے کی صفات بالکل نہ ہوں۔ وہ مبالغے اور حقیقت کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی اخلاقیات اور مذہبی اخلاقیات میں فرق کرنا جانتا ہو۔

Read more

میں تمثال ہوں: اردو کے بیضہ مور ناقدین اور فحاشی کا الزام

کچھ دن قبل، میں نے ”میں تمثال ہوں“ کے متعلق ایک تبصرہ لکھا جو ”ہم سب“ پر شائع ہوا۔ جیسے ہی وہ تبصرہ فیس بک پر شیئر کیا، مجھے بہت سے میسجز موصول ہونے لگے جن میں ناول کی تکنیک، کردار نگاری، منظر نگاری اور اسلوب کے حوالے سے اعتراض اٹھائے گئے تھے۔ کچھ دوستوں نے چند مشہور ادبی شخصیات کے اس ناول پر لکھے جانے والے تبصرے بھی بھیجے جو میرے سابقہ تبصرے کی نفی کر رہے تھے۔ میرے

Read more

میں تمثال ہوں: ایک سائنسی مطالعہ

ہمارے معاشرے میں نفسیاتی مسائل کو وہ توجہ نہیں دی جاتی جو دی جانی چاہیے۔ ہم اپنی زندگی چند مقدس متون کے سکرپٹ کے تحت گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور دور۔ حاضر میں درپیش مسائل کے مطابق ان میں کوئی ترمیم نہیں کرتے۔ ہم صرف ان کرداروں، کہانیوں، استعاروں اور واقعات کو قبول کرتے ہیں جو مقدس متون سے مماثلت یا مطابقت رکھتے ہوں۔ نفسیاتی الجھنوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ہم ان کے وجود سے ہی انکار کر

Read more

بچوں کا لٹریچر، جنت کی تلاش اور ہم

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دنیا میں آنے کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ مرنے کے بعد جنت حاصل کرنا ہے۔ والدین ہمارے شوق کو اشتہا بخشنے کے لیے جنت کے طرح طرح کے نقشے کھینچتے تھے۔ جنت میں دودھ کی نہریں ہوں گی، رنگا رنگ پھول، خوشنما پرندے، حوریں اور نجانے کیا کیا بتاتے رہتے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جو چیز دنیا میں ہماری استطاعت سے باہر ہوتی، اسے بھی جنت میں ملنے کی نوید سنا کر تسلی دی جاتی تھی۔ یوں ہم بھی صبح و شام اپنی نیکیوں، وظیفوں اور نمازوں کا حساب کرتے نظر آتے کہ کہیں جنت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔

Read more