سیاسی فکشن میں ٹارزن کی واپسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جہانگیر ترین لاہورپہنچ گئے ہیں۔ اس اچانک واپسی پر ہم جیسے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے کہ اس وقت جو ملکی سیاسی صورت حال ہے اس میں ان کی اچانک انٹری کسی کھلبلی سے کم نہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ حکمران جماعت کی طرف سے انھیں واپس آنے کی باقاعدہ درخواست کی گئی ہے۔

نہ تو عمران خان اتنے سادہ ہیں جتنے نظر آتے ہیں اور نہ جہانگیر ترین کی عمر ایسی ہے کہ ہم انھیں لونڈا قرار دینے کی جسارت کر سکیں۔ لیکن جوں ہی یہ خبر آئی ہمیں میر کا یہ شعربے طرح یاد آیا۔

میر کیا سادہ ہیں بیمارہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دعا لیتے ہیں

اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی بہتر سیاسی توجیہ شبلی فراز ہی کر سکتے ہیں جو ہمارے وزیر اطلاعات ہی نہیں احمد فراز جیسے مقبول شاعر کے فرزند ارجمند بھی ہیں۔

سچ پوچھیں تو ہمیں دال میں کچھ کالا کالا اس وقت لگنا شروع ہو گیا تھا جب دوچار روز پہلے فیاض الحسن چوہان کا دوسری بار بوریا بسترگول کر کے ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان صاحبہ کو بزدارصاحب کا مشیر اطلاعات مقرر کیا گیا تھا۔

ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان جو پہلے خان صاحب کی کارکردگی کی اطلاعات عوام تک پہنچا رہی تھیں اب وہ بزدار صاحب کی کارکردگی کی ترجمانی کرنے پر مامور ہو گئی ہیں۔ جس سے بہر حال ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بہ جانب ہیں کہ بزدار صاحب کی کارکردگی خان صاحب سے بہتر ہے اورتحریک انصاف کو اندازہ ہونا شروع ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف آئندہ الیکشن خان صاحب کی کار کردگی کی بنا پرنہیں، بزدارصاحب کی ’حسن کارکردگی‘ کی وجہ سے جیتے گی۔ اس ’حسن کارکردگی‘ میں چینی اور آٹے کا بحران بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے ترین صاحب کو انگلستان سدھارنا پڑا تھا۔ اسی انگلستان جس کے بارے میں اکبر آلہ آبادی نے کہا تھا:

سدھاریں شیخ کعبے کو ہم انگلستان دیکھیں گے
وہ دیکھیں گھر خدا کا ہم خدا کی شان دیکھیں گے

فردوس عاشق اعوان کی حکومت میں واپسی اتنی حیرت کی بات نہیں کہ سیاست میں اس نوع کی آنیاں جانیاں لگی رہتی ہیں۔ لیکن جہانگیر ترین کی واپسی، جاسوسی فکشن میں ٹارزن کی واپسی کی طرح خاصا معنی خیز ہے۔

ترین صاحب گزشتہ سات ماہ سے ’خدا کی شان‘ کا نظارہ کر رہے تھے۔ اور اب خدا کی شان دیکھیے کہ وہی ترین صاحب جنھیں تحریک انصاف کی حکومت نے یہاں سے بوریا بستر گول کرنے پر مجبور کیا تھا اب اتنی مجبور دکھائی دے رہی ہے کہ اسے ’معاملات‘ سنبھالنے کے لیے ان سے واپسی کی درخواست کرنا پڑی۔

ان کی واپسی کی سمجھ بھی آ رہی ہے کہ وہ ایک ایسے موقع پر واپس آرہے ہیں، جب حکمران اتحاد میں ٹوٹ پھوٹ کی خبریں خاصی گرم ہیں۔ ان کی سب سے بڑی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق نے یہ کہہ کر حکومتی ظہرانے میں جانے سے انکار کر دیا کہ تحریک انصاف سے ہمارا اتحاد ووٹ کی حد تک ہے۔ عمران خان کے ساتھ کھانا کھانا معاہدے میں شامل نہیں۔ حالاں کہ چودھری برادران نہ صرف کھانے کے شوقین رہے ہیں بلکہ کھلانے میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔ چودھری شجاعت کا یہ فقرہ کہ ”روٹی شوٹی کھا کے جانا“ ایک سیاسی محاورے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

دوسری طر ف کسانوں نے لاہور کو میدان جنگ بنا رکھا ہے اور حکومت کو شک ہے کہ کسانوں کو اپوزیشن اور شوگر مالگان کی پشت پناہی حاصل ہے۔

2014 سے 2019 تک ترین صاحب نہ صرف خود بہت متحرک رہے بلکہ ان کا ’جہاز‘ بھی پاکستانی سیاست میں خاصا متحرک تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر ترین اور ان کا جہاز نہ ہوتا تو خان صاحب کی وزارت عظمیٰ کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوتا۔ لیکن چینی بحران اور اس پر بننے والی جے آئی ٹی رپورٹ نے ان دونوں دوستوں کے درمیاں ایسی دوریاں پیدا کیں کہ ترین صاحب کو ملک چھوڑتے ہی بنی۔ اب وہ تقریباً سات ماہ کے بعد واپس آ رہے اور وہ بھی ایک غیر ملکی ائرلائنز پر۔ شاید انھیں اتنی جلدی پہنچنے کو کہا گیا ہے کہ انہیں اپنا طیارہ منگوانے کی بھی ’مہلت‘ نہیں ملی۔

لگتا ہے کہ عمران خان کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اپنے عزیز ”ترین“ دوست کی عدم موجودگی میں ان کی مشکلات کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہیں۔ حکومت کو اس وقت چومکھی لڑائی کا سامنا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن نے حکومت کا ناطقہ بند کر رکھا ہے تو دوسری طرف سینٹ کے الیکشن بھی سر پر ہیں جس کے لیے کسی پرائیویٹ ’جہاز‘ کی اشد ضرورت ہے۔ تیسری طرف اتحادی بے لگام ہو رہے ہیں تو چوتھی طرف آٹے اور چینی کے بحران نے ان کی حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اپوزیشن ہی نہیں خود ان کی جماعت کے بعض اراکین بھی اس کا سبب ترین صاحب ہی کو قرار دیتے ہیں لیکن خان صاحب شاید علاج بالمثل کے قائل نظر آتے ہیں۔ سو انھیں سادہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔

کہا جاتا ہے کہ ترین صاحب کے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں زلفی بخاری، اسد عمر، خاتون اول اور علی زیدی کا بھی ہاتھ تھا لیکن انھوں نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے علاوہ میڈیا کے سامنے کسی کا نام نہیں لیا تھا اور دوریاں پیدا کرنے کی سازش کا ذمے دار صرف انھیں ہی ٹھہرایا تھا۔

اس لیے بعض ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ اب اعظم خان کا مستقبل کیا ہے؟ اس مشکل سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ انھیں امریکہ بجھوانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ سزا کے طور پر نہیں جزا کے طور پر۔

باوثوق ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پرتعیناتی کے لیے، سرکار کی طرف سے جن چار لوگوں کی سمری بھیجی گئی ہے ان میں اعظم خان کا نام بھی شامل ہے۔

سو ہمیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ ٹکراؤ کی کوئی صورت حال پیدا نہیں ہوگی۔

(نوٹ اس کالم کو سیاسی فکشن کے طور پر ہی پڑھا جائے، حقیقت کا اس سے کچھ تعلق نہیں )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •