داستان ہونے کے بعد………
شمع خالد پاکستان کی ایک معروف مصنفہ ہیں۔ ان کی تحریروں افسانوں پر حقیقت کا گماں ہوتا ہے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی ایڈ کیا سندھ یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ( اردو، پولیٹیکل سائنس، ہسٹری ) کیا۔
مصنفہ ہونے کے علاوہ، ان کے پاس پروڈکشن اور پروگرامنگ کا 24 سال کا بھی تجربہ ہے۔ وہ پی بی اے (پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن) کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ریڈیو پروڈکشن ان کا شعبہ تھا جسے انہوں نے اپنے کیریئر کے طور پر جاری رکھا۔ اس کی پیش کش میں بی بی سی لندن سے ریڈیو ڈرامہ کی تیاری اور دیگر پروڈکشن شامل ہیں شمع خالد نے بہت سی کتابیں لکھیں لیکن ”داستان ہونے کے بعد“ جس خوبصورتی سے لکھی گئی ہے شاید ہی کوئی اور ہو۔
یہ کتاب انہوں نے اپنی مرحومہ والدہ محبوب بیگم کی وصیت کے طور پہ لکھی ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے آپ کو احساس ہو گا کہ شمع خالد کو قدرت نے بہترین ادبی مہارت سے نوازا ہے۔ یہ داستان بہت ہی عمدہ انداز میں لکھی گئی ہے۔
یہ کتاب اول تو پڑھنے والا کبھی اکتاہٹ محسوس نہیں کر سکتا۔ جس طرح سے انہوں نے ہر قصہ سنایا ہے اس کو پڑھ کر آپ ایسا محسوس کریں گے اس میں ہونے والے واقعات کو آپ روبرو دیکھ رہے ہیں۔ اس کتاب کی مرکزی کردار محبوب بیگم ہیں جن کی زندگی مشکلات میں ہی گزری جب پیدا ہوئیں تو سبز قدم کہلائیں۔ جب ہوش سنبھالا تو چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال صرف اس لیے رکھتیں کہ باپ ایک بار ہی سہی محبت اور شفقت کی نگاہ سے دیکھ لیں۔
نام تو محبوب بیگم تھا لیکن کسی کی محبوب نہیں بن سکیں۔ محبوب بیگم اپنی اولاد سے بے حد محبت کرتیں تھیں اور اپنی اولاد کو ہر ہنر سکھانا چاہتی تھیں۔ چاہے وہ گھر داری ہو یا تعلیم یہ اس سے ہٹ کر کوئی کام بھی سکھاتیں۔ ہمیشہ صبح جاگ کر درود تاج پڑھتیں۔ لیکن شوق اور لگن اتنی تھی کے ہجے کر کے پنج سورہ حفظ کر لیا۔ اور اکثر مولوی صاحب کی گھر سیدانی کے پاس جا کر اپنا تلفظ درست کرتیں۔ اس داستان کے کچھ قصے بہت خوبصورت ہیں اگر میں آپ کو بتاؤں تو آپ کتاب پڑھے بنا نہیں رہ پائیں گے۔
شمع خالد اپنی والدہ کا ایک قصہ سناتیں ہیں۔ کہ جب خاندان کے ایک اچھے گھر سے محبوب بیگم کے لیے رشتہ آیا۔ اس دن وہ درخت پر چڑھ کے پھل توڑ رہی تھیں۔ سامنے سے ایک گاڑی آتے دیکھ کے سہم گئیں اور سوچنے لگیں کے لوگ کیا کہیں گے کہ ڈپٹی کلکٹر کی بیٹی درخت پر چڑھی ہے۔ بچوں کو بھگا دیا اور اپنے بال آگے بکھیر کے موٹی آواز میں کہا کہ اس درخت سے گاڑی ہٹا لو یہاں چڑیل رہتی ہے۔ تو گاڑی میں سوار کہنے لگا میں اس چڑیل کو ہی لینے آیا ہوں۔
اس داستان کا ہر قصہ ہی دلچسپ ہے۔ محبوب بیگم کی ایک سہیلی نگین بھی تھی۔ شمع لکھتی ہیں کے میری آنکھ کھلی تو امی پراٹھے بناتے ہوئے کسی سے باتیں کر رہی تھیں۔ جو کہ ان کی روز کی عادت تھی اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کر رہی تھیں۔ میں سوچنے لگی آخر وہ کون ہے جو صبح صبح امی کے دکھ سننے آ پہنچتا ہے۔ آخر ایک دن اٹھ کر جب دیکھا تو پتا چلا نگین ایک چوہیا ہے جو کہ ہمیں دیکھتے ہی کہیں چھپ جاتی اور امی کے ہولے سے بلانے پر باہر آجاتی ہے۔
محبوب بیگم انتہائی نفیس سادہ، محنتی اور سگھڑ خاتون تھیں۔ شمع خالد لکھتی ہیں کہ جب ان کی بہن کی شادی تھی تو ان کی والدہ نے شادی میں آئے مہمانوں کا کھانا خود تیار کیا۔ کسی نے جب کہا محبوب روٹیاں تو بازار سے منگوا لو۔ تو کہنے لگیں آگر پچاس روٹیاں بازار سے منگوائیں تو ہفتے بھر کا خرچ ایک وقت میں لگ جائے گا۔ پھر روٹیاں خود تیار کیں۔
جیسے جیسے آپ کتاب پڑھتے جائیں گے دلچسپی بڑھتی جائے گی۔ ایک چیز جو مجھے پڑھتے ہوئے تکلیف ہوئی اور لکھتے ہوئے بھی۔ جب محبوب بیگم نے اپنی بیٹی شمع سے کہا کہ شمع تم میری بیٹی ہو نہ دعا کرو میرے لیے کہ خدا مجھ پر پردہ ڈال دے۔ اب اس دنیا میں کسی کو میری ضرورت نہیں۔ میں سب کے لیے بوجھ ہوں۔ میری ماں مجھے ٹھیک سبز قدمی کہتیں تھیں۔ میں جس جگہ جاتی ہوں بہار ویرانے میں بدل جاتی ہے۔
پوری زندگی اولاد کے لیے جینے والی عورت کو اپنی ہی اولاد نہ سمجھ پائی۔
محبوب بیگم کی بہو ہیں اس سے گھن کھاتیں تھیں۔ فرج میں انہیں پانی کی بوتل تک نہ رکھنے دیتیں۔ یہ آج کل ہر گھر کی کہانی بھی ہے۔ جب وفات پائی تو کوئی بھائی بہن تک ایسا نہیں تھا جو آیا ہو۔ جبکہ ان سب کا ہمیشہ انہوں نے خیال رکھا۔
بہت سے ایسے دل سوز قصے ہیں جنہیں پڑھ کے آپ کو لگے گا اس کہانی کا کوئی نہ کوئی کردار ہمارے اردگرد بھی موجود ہے۔ دوسری مرکزی کردار اس میں خود شمع خالد ہیں جنہوں نے بچپن ہی سے اپنی والدہ کو تکلیف میں دیکھا۔
شروع میں ہی انہوں نے جب کہانی کا آغاز کیا تو قصہ کچھ یوں شروع کیا۔ میری والدہ میری ماں سے بیٹی جب بنی۔ جب میں آٹھ برس کی عمر میں ایک دم جوان ہو گئی۔ جب ابو امی کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے انہیں جاتے دیکھ کر میں ایک دم دیوار سے تن کھڑی ہوئی اور اونچی آواز میں کہا آپ امی کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔
جانے میرا اعتماد تھا کہ کیا والد کا ہاتھ رک گیا اور امی نے متشکرانہ انداز میں مجھے دیکھا کہ تم نہ ہوتیں تو میرا کیا ہوتا۔ شمع خالد کو آپ اس داستان میں اپنی والدہ سے محبت کرتا ہی پائیں گے۔
ہمیشہ والدہ کا خیال کرنا ان کی دکھ سکھ کی ساتھی۔ انہوں نے یہ داستان ایک لکھاری نہیں بیٹی کی حیثیت سے لکھی ہے۔ کیونکہ ان کی والدہ نے اپنی ڈائری میں محبوب بیگم کو وصیت کی تھی کہ ان پر ایک کتاب لکھی جائے۔ یہ داستان لکھ کے انہوں نے ایک بیٹی کا حق ادا کیا ہے۔
یہ ایک بہت حیرت انگیز اور زندگی بدلنے والی تحریر ہے۔ شمع خالد نے اس کتاب کو جذبات کے ساتھ اس خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ اس سے ریڈر جذبات کو محسوس کرتا ہے۔ اور ان میں پوری طرح کھو جاتا ہے۔
اگر مستقبل میں اس پر کوئی اسکیچ یا ڈرامہ بنایا جائے، تو میں امید کرتی ہوں کے پروڈکشن محبوب بیگم کے کردار کے لیے بہترین کردار کا انتخاب کریں۔




