بلاول کی نواز شریف بیانیے سے علیحدگی، اپوزیشن اتحاد پر کیا اثرات ہوسکتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کو اپنانے سے انکار والے حالیہ بیانات سے کم از کم ایک بات تو طے ہے کہ پیپلز پارٹی ابھی بھی اپنی پرانی روش چھوڑنے کو تیار نہیں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سیاست بھی ہمیں لچک اور مفاہمت کے فلسفے کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ 90 اور 2000 کی دہائی میں بظاہر پی پی پی کا بیانیہ اسٹیبلشمنٹ مخالف تھا مگر پس پردہ وہ اہم سٹیک ہولڈرز کے ساتھ خفیہ بات چیت اور ڈیل کرنے میں مصروف ہوتی تھیں۔

1986 میں بھی وہ جب خودساختہ جلاوطنی سے ملک واپس آئیں تو اسی جنرل ضیاء سے معاملات طے کر کے آئیں تھیں جس نے ان کے والد کو سات سال پہلے دار پر لٹکایا تھا۔ فاطمہ بھٹو اس بارے بہت کچھ لکھ اور کہہ چکی ہیں۔ اس سخت مارشل لائی دور میں ان کی طرف سے مقتدر قوتوں کو کروائی گئیں بعض یقین دہانیوں اور نتیجتاً ڈیل کے سبب ہی انھیں سیاسی سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت ملی تھی۔

پھر 88 میں وزیراعظم بننے کے بعد بھی انھوں نے اہم لوگوں سے ملاقات میں ہی اپنی حتمی کابینہ تشکیل دی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان کے نمائندے صدر غلام اسحاق خان کو بھی اسمبلی سے اگلے 5 سال کے لیے صدر منتخب کروایا۔ نواز شریف کی حکومت گرانے کے لیے بھی وہ اسی طرح مہرہ بنیں۔ بالکل جس طرح نواز شریف ان کی حکومت گرانے کے لیے مہرہ بنے تھے۔ یہ ہماری بدقسمت سیاسی تاریخ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے مفادات اور مخالفین کو چت کرنے کے لیے ہمیشہ عوام کی بجائے اسی طاقت ور قوت کا آلہ کار بنتی رہی ہیں۔

نواز شریف کے سخت موقف سے پہلی دفعہ لگ رہا ہے کہ شاید کسی ایک سیاسی رہنما نے ملکی تاریخ میں پہلی بار اس غیر جمہوری طاقت کے آگے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تبھی ان کے بیانیے میں ناقابل واپسی حد تک سختی نظر آ رہی ہے۔ میاں نواز شریف نے یہ سخت موقف بغیر سوچے سمجھے اختیار نہیں کیا ہوگا۔ کیونکہ اس وقت ملک کی دگرگوں معاشی صورتحال سے عوام خاصے پریشان ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار عوام کھل کر عمران خان کو لانے والوں کے بارے میں باتیں کر رہے ہے۔ اس ساری صورتحال سے میاں نواز شریف یقیناً آگاہ ہیں۔ تبھی انھوں نے حریف کی کمزور پوزیشن دیکھتے ہوئے بھرپور حملے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلاول کی جانب سے نواز شریف کے بیانیے کا بوجھ نہ اٹھانے کا فیصلہ جہاں ایک طرف پی ڈی ایم کی تحریک کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے، وہیں پی پی پی نے ملکی سیاست میں درمیانے راستے کی حامی جماعت ہونے کا تاثر بھی دیا ہے۔ یہ بھی واضح ہو چکا کہ بلاول ابھی تک اپنے والد کی سیاسی چالوں سے بہرہ مند ہو رہے ہیں۔ ان کی حالیہ چال کسی ماہر کھلاڑی کی مانند بساط سیاست پر ہلچل مچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

وہ اس طرح کہ سندھ کے علاوہ باقی صوبوں میں ساکھ کھو چکی پیپلز پارٹی نے ایک دفعہ پھر اپنے آپ کو خدمت کا موقع دیے جانے کے لیے پیش کر دیا ہے۔ کیونکہ بلاول اچھی طرح جانتے ہیں کہ نواز شریف کے سخت اور ناقابل قبول بیانیے کے سبب نون لیگ نے سلیکٹرز کے آگے اپنا رہا سہا اعتماد بھی کھو دیا ہے۔ لہذا بلاول نے پی پی پی کو زیرک اور معاملہ فہم سیاست کے کارن کم از کم سلیکٹرز کی نظر کرم کے لائق بنا دیا ہے۔ اس چال کا فائدہ پی پی کو گلگت بلتستان کے آنے والے الیکشن میں ہو سکتا ہے۔

سننے میں آیا ہے کہ نواز شریف کی جارحانہ تقریروں کے معانی کی سمجھ وزیراعظم صاحب کو اس دن آئی جب کئی روز بعد سپاہ سالار نے ان سے سنجیدہ ماحول میں ملاقات کی۔ اور باور کرایا گیا کہ اب وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے لہذا کچھ کارکردگی دکھانی ہوگی۔ تاہم موجودہ سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی کے ماحول میں کارکردگی دکھانا مشکل ہوگا۔ شاید اس بات کا وزیر اعظم کو بھی اندازہ ہے اسی لیے انھوں نے نواز شریف کا بھرپور جارحانہ مقابلہ سیاسی میدان میں ہی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب سب سے اہم یہ دیکھنا ہوگا کہ اس غیر معمولی دباؤ میں نون لیگ کی اپنی صفوں میں اتحاد قائم رہتا ہے یا نہیں۔ ویسے اب تک کی تمام تر کوششوں کے باوجود ملکی تاریخ میں پہلی بار مسلم لیگ متحد رہی ہے۔ لیکن اس کا ایک بڑا سبب شاید برسر اقتدار جماعت کی غیر تسلی بخش کارکردگی بھی ہو سکتی ہے۔

تاہم اس ساری صورتحال میں دونوں طرف فریقین کے پاس فی الحال استعمال کے لیے کچھ اہم پتے موجود ہیں۔ میرا خیال ہے کوئٹہ کے جلسے کے بعد جو حالات بن رہے ہیں دونوں فریق سوچ بچار کے بعد ہی اگلی چال چلیں گے۔ مت بھولیں ابھی چوہدری نثار کی شکل میں ترم کا ایک اہم پتہ پھینکا جانا باقی ہے۔ جس کو چلانے کے لیے اب تک مناسب وقت کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ اگر یہ پتا چلتا ہے تو ناصرف نون لیگ بلکہ اپوزیشن اتحاد کے لئے بھی خاصا پریشان کن ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم اس سارے بنتے منظر نامے میں ایک بات تو واضح ہو گئی ہے کہ کم از کم پیپلز پارٹی انقلابی سیاست کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں رکھتی بلکہ وہ آج بھی پاور پالیٹکس کی سیاست پر یقین رکھتی ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •