بینک مینیجر کی ویڈیو: قصوروار کون؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بینک مینیجر کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ”قلیل خمری صاحب“ کے فرمودات کی صداقت روز روشن کی طرح ذہن و دل کو منور کر گئی۔ ہم بھی کتنے سادہ ہیں جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ فرسٹریشن کے مارے ہوئے مرد عورتوں کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کا استحصال کرتے ہیں اور جنسی ہراسانی کا شکار بناتے ہیں۔ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ مینیجر صاحب اپنے فرائض منصبی پوری سنجیدگی سے ادا کر رہے تھے ایسے میں جب وہ اپنے کیبن کے طرف جانے لگے تو راستے میں ان کی ساتھی خاتون کھڑی تھیں۔ چناں چہ انہوں نے جاتے جاتے فرض سمجھ کر ”ہاتھ پھیرا“ جسے ہم جیسے نامناسب سمجھتے ہیں مگر خاتون کے رویے کی طرف ہماری توجہ منتقل نہیں ہوئی تھی۔ صد شکر کہ سوشل میڈیا کے دانشوروں کی نشاندہی پر ہم ”اصل حقائق“ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

بینک مینیجر کی حرکت کے باوجود خاتون کی خاموشی اس کی رضا مندی کی دلیل ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی پر شباب دوشیزہ ستر سال کے بابے یا دو سال کے بچے سے شادی کی رضا مندی کا اظہار اپنی خاموشی سے کرتی ہے اور تین بار خاموشی کے اعلان کے بعد مبارک سلامت کا شور اٹھتا ہے۔

بعض حلقوں کی جانب سے یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ خاتون کی مینیجر صاحب سے دوستی رہی ہو گی اس لیے وہ چپ رہی۔ یہ مفروضہ غلط تو ہو نہیں سکتا۔ اسے درست تسلیم کرنا چاہیے کیوں کہ یہ ہمارے سماج میں عورت ہی مرد کو ورغلاتی ہے۔ اس کے خلاف دلائل کافی کمزور ہیں مثلاً ان دونوں کی دوستی ہوتی تو مینیجر کو کیا ضرورت تھی کہ وہ یوں جاتے جاتے سب کے سامنے ایسا کرتے۔ اس باہمی دلچسپی کے عمل کو وہ خلوت میں کسی کی نظروں میں آئے بغیر سر انجام دے سکتے تھے۔ یا یہ کہ خاتون غربت کے ہاتھوں مجبور تھی اور نوکری کھونا نہیں چاہتی تھی۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ خاتون شور مچاتی یا تھپڑ رسید کرتی تو نوکری تو جاتی اس کے ساتھ ہی وہ بدنام بھی ہو جاتی اور شاید اس کے کام کرنے پر بھی پابندی لگ جاتی۔ چناں چہ اس نے جنسی ہراسانی پر خاموش رہنا مناسب سمجھا۔

لیکن ہم ان دلائل کو اس لیے نہیں مان سکتے کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ عورت ہی فساد کی جڑ ہے، عورت کی وجہ سے دوست دوست نہیں رہتا اور بھائی بھائی نہیں رہتا۔ عورت کا لباس نہیں اس کا وجود ہی مردوں کو بے قابو کرنے کے لیے کافی ہے۔ چناں چہ عورت ایسے واقعات کی خود ہی ذمہ دار ہے۔

جو لوگ لڑکیوں کی آزادی، تعلیم، ملازمت اور خود مختاری کے حق میں نعرے لگاتے ہیں یا لڑکیوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت دیتے ہیں انہیں بھی سمجھ لینا چاہیے کی قصوروار کون ہے؟ امیر گھرانوں کی کئی لڑکیاں تو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتیں اور اکثر منہ پھٹ اور ہتھ چھٹ بھی ہوتی ہیں لیکن یہ غریب اور پسماندہ گھروں کی لڑکیوں نے کھیل بگاڑ رکھا ہے۔ انہیں اگر کوئی مرد چھو لے یا ایسی حرکت کرے جسے لغت کے مطابق نا مناسب یا غیر اخلاقی کہا جاتا ہے تو اس میں ان کی اپنی خواہش اور مکمل رضا مندی شامل ہوتی ہے ورنہ ہیرے جیسے مردوں کو کیا ضرورت ہے کہ ان دو ٹکے کی عورتوں کو چھیڑیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں ایسی خبریں منظر عام پر آتی ہیں تو معاشرے کی بڑی نیگٹو تصویر سامنے آتی ہے اور دیسی لبرل عورتوں کے تحفظ اور جنسی ہراسانی کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔ جب کہ ہمارا معاشرہ دنیا کا جانا مانا بہترین معاشرہ ہے۔ جتنی عزت اور حقوق ہمارے معاشرے میں عورت کو حاصل ہیں مغربی معاشرے تو خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے۔

اس کے باوجود یہ عورت ہی ہے جو جان بوجھ کر باہر نکل کے، یکساں تعلیم حاصل کر کے، نوکری کر کے، بناؤ سنگھار کر کے، اپنی مرضی کے کپڑے پہن کر نہ صرف مردوں کے جذبات سے کھیلتی ہے بلکہ جذبات بر انگیختہ کر دیتی ہے۔ مرد بے چارے عورت کی خاطر گندے گندے الزام اپنے سر لے کر عورت کے جذبات کی تسکین کرتے ہیں مگر عورت نے مردوں کو ذلیل کروانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

اب یہی دیکھیے کہ تازہ ترین واقعے میں مینیجر صاحب کو ملازمت سے سبکدوش کر دیا گیا ہے مگر وہ خاتون سامنے نہیں آئیں، نہ ان کے حق میں بیان دیا ہے۔

ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچنے کا بہترین حل تو یہ ہے کہ لڑکیوں پیدا ہی نہ کیا جائے لیکن اگر وہ پیدا ہو جائیں تو انہیں گھر کے تہہ خانے میں مقید رکھا جائے تا کہ وہ بھولے بھالے مردوں سے خود کو چھڑوانے اور جنسی طور پر ہراساں کروانے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •