ڈاکٹرز سے نہیں ، خود سے تعاون کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیماری اور میرا بچپن سے ساتھ رہا، اس لئے ہسپتال جانا میرے لئے معمولی سی بات رہی، میں بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہوں، اس لئے اماں کے بہت قریب رہی، مجھے ایک چھینک بھی آ جاتی تو اماں پریشان ہو جاتیں تھیں اور معمولی بخار ہو جاتا تو فوراً ہسپتال لے جاتیں تھیں۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب میں جب پانچویں جماعت کی طالبہ تھی، ایک روز بہت تیز بارش ہو رہی تھی، بارش میری کمزوری ہے، برسات کا موسم تھا اور میں مور کی طرح بارش میں گھنٹوں کھیلتی رہتی تھی، رات بخار نے جکڑ لیا۔ ساری رات میں نے بخار میں اور میری اماں نے جاگتے ہوئے گزاری۔ صبح ہوتے ہی ہم اسپتال چلے گے، ڈاکٹر کی دوا سے بھی آرام تو دور طبعیت اور بگڑ گئی، بابا مجھے ایبٹ آباد کے ویمن اینڈ چلڈرن اسپتال لے گئے، جہاں میں ڈیڑھ ماہ داخل رہی۔

میں جس وارڈ میں داخل تھی وہاں ایک بچے کی حالت بہت تشویش ناک تھی۔ اس کے ساتھ اس کا پورا خاندان آیا ہوا تھا، ڈاکٹر بھی بچے کے بارے میں بہت فکر مند تھے تاہم بچے کے والدین اور رشتے دار بار بار ڈاکٹرز کو تنگ کر رہے تھے، ایک تو بچے کی حالت مزید تشویش ناک ہوتی جا رہی تھی، دوسری طرف بچے کے خاندان نے پریشانی کی وجہ سے ڈاکٹرز سے الجھنا شروع کر دیا۔

ڈاکٹرز اور نرسوں نے بیسیوں بار سمجھایا کہ آپ سب باہر جائیں اور ہمیں اپنا کام کرنے دیں، لیکن انھوں نے ایک نہ مانی اور ڈاکٹرز سے الجھتے رہے۔ میرے ابو نے اس بچے کو خون بھی دیا تھا۔ ڈاکٹرز باوجود کوشش کے بچے کو نہ بچا سکے۔ شام کو ابو بتا رہے تھے کہ بچے کے خاندان نے ڈاکٹرز کے خلاف پرچہ درج کروا دیا۔

اس طرح کئی واقعات میرے سامنے پیش آتے رہے، ایک واقعہ جسے میں اب تک نہ بھلا سکی۔ میں ایبٹ آباد کے ایک اسپتال میں داخل تھی۔ ایک خاتون کو ہمارے وارڈ میں منتقل کیا گیا، عورت کی حالت بہت نازک تھی اور اس کے رشتے دار اس سے ملنے کے لئے کوششیں کر رہے تھے۔ طبی عملے کی جانب سے بار بار روکنے کے باوجود وہ زبردستی اندر آ جاتے اور وہ ان کو باہر کی جانب دھکیل دیتے، یہ سلسلے دو گھنٹے چلتا رہا اور پھر صورتحال اتنی خراب ہو گئی کہ بات ہاتھا پائی اور گالم گلوچ تک آ پہنچی۔

پورے وارڈ کا نظام درہم برہم ہو چکا تھا، ڈاکٹرز نے بھی اس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن وہ مسلسل تنگ کرتے رہے اور مجبوراً انھوں نے پولیس کو کال کیا۔ پولیس نے آ کر ان تمام لوگوں کو اسپتال سے باہر نکالا۔

اسی دوران خاتون کی حالت مزید بگڑ گئی۔ مجھے یاد ہے اس خاتون کا بلڈ گروپ او نیگیٹو تھا۔ اسے خون کی ضرورت تھی لیکن اس کے رشتہ دار خون کا بندوبست کرنے کے بجائے اس کی عیادت کو زیادہ اہم سمجھ رہے تھے۔ خون وقت پر نہ ملنے کی وجہ سے وہ عورت بچے سمیت چل بسی۔

اگر ہم تھوڑا سا صبر کر لیں، ڈاکٹرز کو سکون سے اپنا کام کرنے دیں تو اسی میں ہماری بھلائی ہے، ان کو آپ اشتعال دلائیں گے تو وہ ذہنی طور پر ڈسٹرب ہو جائیں گئے اور اپنے کام پر توجہ دینے کی بجائے ساری توانائی ان فضولیات پر خرچ کریں گے، نتیجے کے طور پر آپ کسی اپنے سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

ڈاکٹرز سارا دن بے شمار مریضوں کا سامنا کرتے ہیں، ان کا علاج کرتے ہیں۔ یہ ان کا معمول ہے، صبح سے رات تک وہ مسلسل کام کرتے ہیں، آخر وہ بھی انسان ہیں تھک جاتے ہیں، چڑچڑے ہو جاتے ہیں، اگر ہم ان کے ساتھ تھوڑا سا تعاون کر لیں تو ہم سب کا کام آسان ہو جائے گا ورنہ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
ڈاکٹرز پر اعتماد کریں، ان پر بھروسا کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رابعہ سید کی دیگر تحریریں