مغرب میں توہین رسالت ﷺ کا بڑھتا ہوا رجحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں مغرب نے ایک بار پھر اپنی خصلت کا اظہار کرتے ہوئے بانی اسلام ﷺ کی پاکیزہ سیرت پر حاشیے چڑھانے شروع کر دیے اور مزید خباثت یہ کہ ذات اقدس بابرکت کے خاکوں کی اشاعت بھی شروع کردی ہے۔ ایسے ملعون افعال کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ معاشرہ کو سکھانے اور پڑھانے والے انتہائی مقدس اور قابل عزت شعبہ سے منسلک افراد یعنی اساتذہ نے ہی یہ مکروہ کام سرانجام دیا ہے۔ جس کی مذمت کرنے کے لئے شاید الفاظ بھی ناکافی محسوس ہوں۔ البتہ ان پر ایک مسلمان محض اتنا ہی کہہ سکتا ہے کہ انا للہ وانا الیہ راجعون

مغربی ممالک میں آئے دن اس قسم کی شرارتیں مسلمانوں کو دکھ دینے کے لئے کی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملکوں میں آزادی اظہار کی اجازت ہے اور یہ بنیادی حق ہے۔ لیکن اس کے نتیجہ میں جو ردعمل مسلمانوں کی طرف سے دیکھنے میں آ رہا ہے وہ بھی کچھ درست نہیں ہے۔ اس استاد کا سر قلم کر دیا اسے قتل کر دیا گیا۔ یہ ردعمل نہ ہی اسلام کی تعلیم ہے اور نہ ہی آنحضرت ﷺ کے اسوہ سے ثابت ہے۔

مغرب یہ چاہتا ہے کہ مسلمان اس قسم کے ردعمل دکھائیں اور پھر وہ ان پر پابندیاں لگائے۔ رسول کریم ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کی تعلیمات پر عمل کیا جائے اور ہوش کے ناخن لئے جائیں نہ یہ کہ ہم عقل اور ہوش کھو بیٹھیں۔

ہم اس قتل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور فرانس سمیت دیگر ممالک میں جہاں آزادی صحافت، آزادی مذہب، آزادی ضمیر ہے سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی مذہب کے مقدس بانی کی ہتک سے باز آئیں۔

آزادی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اپنی حدود سے تجاوز کریں۔ دوسروں کے احساسات اور مذہب کا احترام اور مقدس وجودوں کا احترام بہرحال ضروری اور مقدم ہے۔ ایک اور خبر بھی پڑھنے کو ملی جو بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر ہے کہ :

فرانس کے ہی شہر نیس میں ایک چرچ میں عبادت کے دوران حملہ ہوا اور ایک خاتون کا سر قلم کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے وہاں کے میئر نے اسے ”اسلاموفاشزم“ قرار دیا ہے۔ مشتبہ حملہ آور کو جب گرفتار کیا گیا تو وہ لگاتار اونچی آواز سے اللہ اکبر کے نعرے لگا رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں چرچ کا ایک نگران بھی شامل ہے۔ وزیراعظم فرانس نے کہا کہ کسی شک کے بغیر یہ ہمارے ملک کو درپیش ایک انتہائی سنگین نیا چیلنج ہے۔ بی بی سی نے لکھا کہ فرانسیسی حکومت نے انتہا پسند اسلامی عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر ترک صدر نے فرانسیسی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ہمارے ملک کے وزیراعظم نے بھی مغربی ممالک کے سربراہوں کو خطوط لکھے ہیں۔

بی بی سی نے اپنی 27 اکتوبر کی اشاعت ہی میں لکھا ہے کہ اس وجہ سے انڈیا اور پاکستان میں صارفین دو حصوں میں بٹ گئے ہیں اور اپنے اپنے تبصرے ٹویٹ کر رہے ہیں۔

بات مزید بڑھ رہی ہے اسے یہاں ہی روکنا ہو گا اور اس کا طریق اسلامی شریعت میں پہلے سے موجود ہے۔ صرف ضرورت عمل کی ہے۔

اسلام کہیں بھی کسی کے خلاف کسی دہشت گردی کی قطعاً قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ اگر اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو نبی رحمت نبی معصوم حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النبیین ﷺ نے ہر ایک کے ساتھ بلکہ دشمنوں کے ساتھ بھی رحمت کا سلوک فرمایا ہے۔ بس وہی طریق اختیار کرنا پڑے گا۔

یہ واقعات کوئی پہلی دفعہ رونما نہیں ہوئے۔ فروری 2006 ء میں ڈنمارک اور دوسرے مغربی ممالک میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں انتہائی غلیظ اور مسلمانوں کے جذبات کو انگیخت کرنے والے کارٹون اخباروں میں شائع ہونے پر تمام اسلامی دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ رہی تھی۔ اس وقت بھی مسلمانوں کا ردعمل ہڑتالوں کی صورت میں ظاہر ہوا، آگیں لگانے کی صورت میں نکلا، مغربی ممالک کے جھنڈے جلانے کی صورت میں ظاہر ہوا۔

پھر ستمبر 2006 ء میں پوپ نے بھی اسلام کے خلاف معترضانہ بیان دیا جس سے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوئی اور اس وقت بھی مسلمانوں نے اس قسم کا ردعمل ظاہر کیا جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ ہمیں ان تمام واقعات پر دلی افسوس ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ:

1۔ مغربی ممالک آزادی کے نام پر مسلمانوں پر زیادتی نہ کریں اور اس قسم کے خاکے شائع کر کے یا آنحضرت ﷺ کی مقدس ذات پر کیچڑ اچھال کر ہمارے دلوں کو زخمی نہ کریں۔ آزادی صحافت کی بھی ایک حد ہے۔ اپنی حد سے تجاوز نہ کریں۔ دوسرے کے جذبات، احساسات اور مقدس وجودوں کا احترام کریں اور شرارت و فساد کے طریقوں سے باز رہیں۔ بلکہ حلم و آشتی، پیار و محبت میں تعاون کریں۔

2۔ مسلمان بھی اپنا وہ ردعمل دکھائیں جو اسلام کی تعلیم کے مطابق ہو۔ ہمیں ہر قسم کے فساد، قتل و غارت اور ہر اس عمل سے باز رہنا چاہیے جس سے اسلام کے خوبصورت نام پر داغ پڑتا ہو۔ یا آنحضرت کی ذات مقدسہ پر حرف آتا ہو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ تلوار کا جواب تلوار سے دیں نہ کہ باتوں کا جواب تلوار سے دیں۔ آنحضرت ﷺ نے تو ہر قیمت پر امن کو قائم رکھنے کی کوشش اور سنت قائم فرمائی ہے۔ صلح حدیبیہ اس کی شاندار مثال ہے کہ اپنے نام کے ساتھ رسول اللہ کا لفظ بھی امن کی خاطر خود کاٹ دیا۔

3۔ ہمیں انتہا پسندی سے رکنا ہو گا۔ اس وقت اکناف عالم میں مسلمان اپنی انتہا پسندی کی وجہ سے بدنام ہو رہے ہیں۔ بی بی سی کی ہی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مذہبی فرقہ واریت اور فسادات نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دایا ہے جس کا نقصان مسلم امہ کو از بس پہنچ رہا ہے۔ کبھی مسیحی لوگوں کے چرچوں کو نذر آتش کیا جاتا ہے تو کبھی کسی اقلیت پر دھاوا بول دیا جاتا ہے، کیا یہ مذہبی انتہا پسندی نہیں ہے؟

کچھ دن پہلے ڈان نیوز ٹی وی اور بی بی سی میں ہی یہ بات سننے اور پڑھنے کو ملی کہ پاکستان میں چند انتہا پسند نوجوانوں نے ڈاکٹر عبد السلام کی تصویر پر جو نوبل پرائز انعام یافتہ ہیں کے چہرے پر سیاہی لگائی۔ اور اس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ دشمنی ڈاکٹر سلام سے تھی، یا تعلیم سے؟ وہ تو فوت ہو چکے ہیں ان کے دین کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے لیکن ملک اور وطن عزیز میں یہ مذہبی انتہا پسندی ہمیں کس جانب دھکیل رہی ہے۔ اسی افسوسناک واقعہ پر اگرچہ دوسرے صحافیوں اور کچھ پڑھے لکھے لوگوں نے اظہار افسوس کیا مگر حکومتی نمائندوں نے چپ سادھی۔ جب ہم اپنے ملک میں اقلیتوں سے یہ سلوک کریں تو مغربی ممالک سے پھر مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ کچھ غور کریں، کچھ سوچیں۔

کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں شیعہ کمیونٹی کے لوگوں کا قتل، ہندوؤں کے ساتھ زیادتی یہ سب انتہا پسندی ہے۔ حکومت کا کام کسی کے مذہب میں دخل اندازی نہیں ہے اور پاکستان میں آج کل جو حالات ہیں اس کی ذمہ داری یہ انتہاپسندی ہی ہے اور کچھ نہیں۔ حالانکہ مملکت کا کیا کام ہے کہ وہ کسی کے مذہب میں دخل اندازی کرے۔ اس کا کیا کام ہے کہ کسی پر زبردستی اپنے عقائد کو ٹھونسے؟ مذہب تو بندے اور خدا کے درمیان ہے نہ کہ حکومت کے درمیان۔

پس جب تک ہم قرآن کریم کی تعلیم کی طرف نہ آئیں گے کہ لا اکراہ فی الدین دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر نہیں ہونا چاہیے اس وقت تک مادر وطن کے حالات یہی رہیں گے۔ اس لئے مغرب کو اسلام کی خوبصورت تعلیم سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اور وہ ان کو گولی مار کر اور قتل کر کے نہیں سمجھایا جا سکتا۔ رسول کریم خاتم النبیین ﷺ کے ساتھ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کی سنت کو زندہ کیا جائے۔ آپ ﷺ کی تعلیم پر عمل کیا جائے۔ اور ہر اس فعل سے اجتناب کیا جس سے اسلام پر داغ پڑتا ہو۔

ہم سوچیں کہ ہم آپ ﷺ کی تعلیمات پر کتنا عمل کر رہے ہیں؟
کیا ہم میں انتہا پسندی تو نہیں؟

کیا ہم دوسرے مذاہب جن سے ہمیں اختلاف ہے، کے مقدس وجودوں کا بھی احترام کرتے ہیں یا نہیں؟ خواہ وہ کوئی ہوں؟

اگر کوئی غلط کرتا ہے تو اسے پیار اور محبت سے سمجھانا ہی عین اسلام ہے۔ ڈنڈے سے آپ دوسرے کا سر تو پھوڑ سکتے ہیں اس کے دل میں محبت پیدا نہیں کر سکتے۔ کسی کے خیالات بدلنے کے لئے اس کے سامنے بہتر خیالات پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا آپ دوسروں سے اس بات کی توقع رکھتے جو خود نہیں کرتے؟ مسلمانوں کے اس ردعمل سے اسلام کی بالکل خدمت نہیں ہوئی۔

میں ایک بات بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ مغربی ممالک کی ان شرانگیز حرکتوں سے ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النبیین ﷺ کی ہتک تو ہرگز ہرگز نہیں ہو گی اور نہ وہ اس پر قادرہیں۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے ان اللہ و ملائکتہ یصلون على النبی یا ایھا الذین آمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیماً (الاحزاب 57 ) کہ خدا اور اس کے فرشتے رسول پر درود و برکات بھیج رہے ہیں تم بھی ایسا ہی کرو۔

اللٰھم صل علٰی محمدٍ و بارک و سلم انک حمیدٌ مجیدٌ۔
ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غریبانہ
کوئی جو پاک دل ہووے دل و جاں اس پہ قرباں ہے
اللہ ہمیں اسلام کی اور آنحضرت ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
امام سید شمشاد احمد ناصر، ڈیٹرائٹ امریکہ کی دیگر تحریریں