ناگورنو کاراباخ تنازع: آذربائیجان اور آرمینیا میں جنگ بندی معاہدہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آذر بائیجان اور آرمینیا نے روس کی ثالثی میں ناگورنو کاراباخ کے تنازع پر چھ ہفتوں تک لڑائی کے بعد جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی اس لڑائی کے دوران 1300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ماسکو نے منگل کو کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے روس دو ہزار کے قریب امن رضا کار متنازع خطے میں بھیج رہا ہے۔ یہ امن رضا کار پانچ سال کی مدت کے لیے تعینات کیے جا رہے ہیں۔

آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان روس کی ثالثی میں اس سے قبل بھی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ البتہ فریقین کے ایک دوسرے پر الزامات کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی تھی۔

حالیہ جنگ بندی معاہدہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب آذربائیجان کی فورسز نے نوگورنو کاراباخ کے کئی علاقوں میں پیش قدمی کی ہے۔

اتوار کو آذربائیجان کے صدر نے اعلان کیا تھا کہ ان کی فورسز نے نوگورنو کاراباخ کے اہم ترین علاقے ‘شوشا’ پر قبضہ کر لیا ہے۔

جنگ بندی کے نئے معاہدے کے تحت آذربائیجان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا جہاں وہ ستمبر میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد قبضہ کر چکا تھا۔

ناگورنو کاراباخ کو بین الاقوامی طور پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ البتہ اس پر آرمینیائی نسلی گروہ کا کنٹرول ہے۔

معاہدے کے بعد آرمینیا کے وزیرِ اعظم نکول پشنیان کا کہنا تھا کہ امن معاہدے پر دستخط اُن کے اور آرمینیا کے عوام کے لیے ناقابلِ بیان حد تک تکلیف دہ تھا۔

اُن کے بقول جنگ بندی معاہدے پر دستخط کا فیصلہ فوجی صورتِ حال کا باریک تجزیہ کرنے کے بعد کیا ہے۔

جنگ بندی معاہدے کے بعد آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ سیکڑوں مظاہرین سرکاری عمارات کے گرد جمع ہوئے اور ‘نوگورنو کاراباخ کو الگ ہونے نہیں دے سکتے’ کے نعرے لگائے۔

احتجاج میں شریک بعض مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت میں بھی داخل ہوئے اور وہاں توڑ پھوڑ کی جب کہ انہوں نے وزیرِ اعظم نکول پشنیان سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا۔

‘ناگورنو کاراباخ’ کا پس منظر

امریکی تھنک ٹینک کونسل فار فارن ریلیشنز اور دیگر آن لائن ذرائع کے مطابق سوویت حکومت نے 1920 میں ‘ناگورنو کاراباخ’ کے نام سے ایک خود مختار علاقہ تشکیل دیا تھا جہاں 95 فی صد آبادی نسلی اعتبار سے آرمینیائی باشندوں پر مشتمل تھی اور ان کے ساتھ آذربائیجان کے لوگ بھی اس خطے کا حصہ تھے۔

بالشویک رول کے تحت آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان لڑائی پر کنٹرول رکھا گیا لیکن سوویت یونین جب ٹوٹنا شروع ہوا تو اس کا آرمینیا اور آذربائیجان پر بھی کنٹرول کمزور ہو گیا۔

اسی دوران ‘ناگورنو کاراباخ’ کی قانون ساز اسمبلی نے آرمینیا کا حصہ بننے کی متقاضی ایک قرار داد منظور کی۔ باوجود اس کے کہ یہ علاقہ محلِ وقوع کے اعتبار سے آذربائیجان کی سرحد کے زیادہ قریب تھا۔

جب 1991 میں سوویت یونین پر زوال آیا تو اس خود مختار علاقے نے باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کر دیا۔ اُس موقع پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس کے نتیجے میں 30 ہزار افراد ہلاک و زخمی ہوئے اور ہزاروں افراد پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

'آرمینیا اور آذربائیجان تنازع میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں'

سن 1993 میں آرمینیا نے ‘ناگورنو کاراباخ’ پر کنٹرول حاصل کیا اور آذربائیجان کے قریبی 20 فی صد علاقے پر بھی قبضہ کر لیا۔

اگلے سال یعنی 1994 میں ایک منسک گروپ تشکیل دیا گیا جس کا مقصد اس تنازع کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرنا تھا۔ اس گروپ کی سربراہی امریکہ، روس اور فرانس نے مشترکہ طور پر کی۔

گروپ نے آرمینیا اور آذربائیجان کی قیادت کے درمیان ملاقاتوں کا اہتمام کیا جس کے بعد ایک بار پھر جنگ بندی پر اتفاق تو ہو گیا لیکن یہ تنازع اسی طرح اپنی جگہ موجود رہا اور دو دہائیوں کے نسبتاً استحکام کے بعد 2016 میں ایک مرتبہ پھر فریقین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

دو ہزار سولہ میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور بارہا جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں۔

ناگورنو کاراباخ کا تنازع اور اقوامِ متحدہ

مارچ 2008 میں ماردا کرٹ میں نسلی آرمینین اور آذربائیجان کی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 14 مارچ 2008 کو سات ووٹوں کے مقابلے میں 39 ووٹوں کے ساتھ ایک قرار داد منظور کی۔

اس قرارداد میں آرمینیا کی فورسز سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ آذربائیجان کے مقبوضہ علاقوں کو فی الفور خالی کر دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 443 posts and counting.See all posts by voa