جنت نگاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلی کے تیرہویں مکان میں پروفیسر صاحب رہتے تھے۔ اب تو وہ پروفیسر نہیں تھے بلکہ یونیورسٹی میں انتظامی شعبے کے نگراں تھے۔ مگر پروفیسر ان کے نام کا جزو ہو گیا تھا۔ ان کی زندگی اسکول میں تعلیم دینے سے شروع ہوئی تھی۔ اسکول میں پڑھاتے پڑھاتے انہوں نے یونیورسٹی سے ماسٹرز بھی کر لیا تھا اور اس درمیان میں طالب علموں کے لئے کوچنگ سینٹر بھی کھول لیا تھا۔ سرکاری اسکول میں پڑھانے میں کم لیکن سیاست، سازش اور سازباز میں ان کا کمال تھا۔

تعلیمی بورڈ میں ان کے بڑے تعلقات تھے۔ کئی سال تک میٹرک کے امتحان میں فرسٹ ڈویژن دلوانا ان کی ذمہ داری تھی۔ ان کے کوچنگ سینٹر میں پڑھنے والوں کو ایک خاص رقم کے عوض فرسٹ ڈویژن مل جایا کرتی تھی اور زیادہ اچھے نمبروں کے لئے اور زیادہ اچھی رقم کا بندوبست کرنا ہوتا تھا۔ ماسٹرز کرنے کے بعد انہیں یونیورسٹی میں لیکچرر کی نوکری مل گئی تھی اور انہوں نے اسکول چھوڑ دیا تھا۔ یونیورسٹی میں ان کے جوہر خوب کھلے تھے۔

وہ وائس چانسلر کے قریب اور اس طالب علم تنظیم کے ساتھ رہے جسے طاقت کے استعمال کا شوق تھا۔ کتنے ہی طالب علم ان کی مدد سے بغیر امتحان دیے پاس ہوئے تھے۔ بہت سوں کو انہوں نے پوزیشن دلائی تھی۔ جب وہ انتظامیہ کے با اثر رکن بنے تو انہوں نے یونیورسٹی کے کرپشن میں بڑا نام پیدا کیا۔ یونیورسٹی کی ایک لڑکی کے اغوا کے سلسلے میں بھی کافی دنوں تک ان کا نام لیا گیا۔ پروفیسر صاحب یونیورسٹی کی زمینوں کے بیچنے کے اسکینڈل میں بھی شامل تھے جس سے انہوں نے کافی پیسہ کمایا، ان کا شمار ماہرین تعلیم میں ہوتا تھا۔ وہ نظام تعلیم کا ایک مضبوط ستون تھے اور ان کا بڑا سا مکان اور بڑا سا لان اس گلی کے خوبصورت مکانوں میں سے ایک تھا۔

پروفیسر صاحب کے مکان کے سامنے ہی جج صاحب کا گھر تھا۔ جج صاحب نے وکالت شروع کرنے کے تھوڑے دنوں کے بعد ہی ایک لاکھ رشوت دے کر مجسٹریٹ کی نوکری حاصل کی تھی۔ وہ شروع سے ہی بڑے آدمی تھے۔ ہر وقت ہر قسم کی مدد کرنے کو تیار رہتے تھے۔ قتل کے ملزم کی ضمانت سے لے کر اغوا اور آبروریزی کے ملزمان کی مدد کرنے تک ان کی ایک خاص فیس تھی۔ انہوں نے کبھی بھی معاوضے کے عوض مدد کرنے سے انکار نہیں کیا تھا۔ یہی ان کی خوبی تھی جس کی بنا پر وہ ترقی کرتے چلے گئے تھے۔

حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں نے ان کی خوبیوں کو جان کر اور انہیں پہچان کر ہائیکورٹ کا جج مقرر کر دیا تھا۔ وہ ہر حکومت کے قریب تھے۔ انہوں نے کبھی بھی کسی قسم کا بحران پیدا ہونے نہیں دیا تھا۔ مسائل کے حل کے لئے انہوں نے ایسے ہی فیصلے دیے تھے کہ طاقتوروں کو مزید طاقت ملی تھی۔ ان کی بہت عزت تھی۔ سارے سیاستدان ان سے دوستی رکھتے تھے۔ وہ معاملہ فہم تھے، زمانہ ساز تھے۔ زندگی کا سبق انہوں نے اچھے طریقے سے پڑھا تھا اور ہر ایک کو خوش رکھنے کی ان میں خداداد صلاحیت تھی۔ ہر با اثر اور قابل ذکر شخص کے ساتھ ان کے تعلقات تھے۔ شہر کے بڑے بڑے سیٹھ، ساہوکار، اسمگلر اور کالا دھندا کرنے والے ان کا خیال رکھتے تھے۔ ان کے بچے آکسفورڈ اور کیمبرج میں پڑھتے تھے اور آنے والے دنوں میں ان کا تقرر چیف جسٹس یا چیف الیکشن کمشنر کے طور پر ہونے والا تھا۔

جج صاحب کے برابر میں رشید صاحب کا مکان تھا۔ بڑا اور خوبصورت سا، یہ مکان رشید صاحب کے والد حمید صاحب نے بنایا تھا۔ وہ محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری تھے۔ ان کا انتقال یکایک ہو گیا تھا۔ رشید صاحب اس وقت ایس ڈی ایم تھے۔ حمید صاحب کے تین اور بچوں میں سے کوئی بھی وہاں نہیں رہتا تھا۔ سب کے سب ملک چھوڑ کر امریکہ چلے گئے تھے۔ رشید صاحب اپنی ماں بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی۔ ایک اور سیکریٹری صاحب کی بیٹی کے ساتھ۔

شادی میں تحفے تحائف ٹرکوں میں بھر کر آئے تھے۔ سلامی میں ایک سو پانچ کاروں کی چابیاں ملی تھیں۔ حمید صاحب اور ان کے سسر رفیق کے بڑے احسانات تھے لوگوں پر، اور ان احسانات کو چکانے کا اس سے اچھا موقع بھی نہیں تھا۔ اب تو رشید صاحب چیف سیکریٹری ہونے والے تھے۔ صوبے میں ان سے اچھا بیوروکریٹ تھا ہی نہیں۔ فوج، سیاستدان، قومی جماعتیں، مذہبی جماعتیں، ہر قسم کے لوگ رشید صاحب سے خوش تھے۔ وہ بلا کے باصلاحیت شخص تھے، حکومت کسی کی بھی ہو نظام کو چلانے کا فن انہیں آتا تھا۔

رشید صاحب کے وسیع و عریض گھر کے برابر میں احمد کمال کا گھر تھا۔ احمد کمال نے زندگی فٹ پاتھ سے شروع کی تھی مگر اپنی کمال کی صلاحیتوں کی وجہ سے وہ اس گلی میں پہنچ گئے تھے شروع میں وہ اخبار میں جرائم کی رپورٹنگ کرتے تھے۔ اسی دوران ان کی دوستی چند سیاست دانوں سے ہو گئی تھی۔ پھر انہوں نے اخبارات میں سیاسی کالم لکھنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے کالم میں آنے والے دنوں کے بارے میں صحیح صحیح باتیں لکھی ہوتی تھیں۔ ملک میں موجود مختلف ایجنسیوں کے سربراہوں سے ان کی ذاتی دوستی تھی یا شاید وہ خود ان ایجنسیوں کے ملازم تھے۔

پھر ایک وقت ایسا آیا کہ شدید سیاسی انتشار کے زمانے میں انہوں نے عوام سے چندہ جمع کر کے اور ایجنسیوں کے دوستوں کی مدد سے ایک پریس لگا لیا تھا جہاں سے ان کا ہفت روزہ ”ضمیر کی آواز“ نکلنا شروع ہو گیا تھا۔ پھر وہ ترقی ہی کرتے چلے گئے تھے۔ ہر صوبے میں ان کی پہنچ تھی۔ ملک کے ہر قابل ذکر سیاست دان یا بیوروکریٹ سے ان کی دوستی تھی۔ پھر انہوں نے روزنامہ ”اخبار ضمیر“ بھی نکالا تھا۔ وہ لوگوں کے ضمیر خریدنے میں کمال کا درجہ رکھتے تھے۔

ملک کا ہر بڑا صحافی ان کا ملازم تھا۔ ہر بڑے سیاستدان نے ان سے دوستی رکھی ہوئی تھی۔ ہفت روزہ اور روزنامے کے بعد انہوں نے بچوں اور بڑوں کے دوسرے رسالے بھی نکالے تھے۔ بہت سا روپیہ کمانے کے باوجود وہ اس قابل نہیں ہو سکے کہ لوگوں کو ان کی قرض حسنہ کی رقم واپس کر دیتے مگر اس گلی میں انہوں نے یہ مکان خرید لیا تھا۔ خوبصورت مکان۔

رشید صاحب اور کمال صاحب کے مکان کے سامنے کے دونوں پلاٹوں کو ملا کر جو بڑا سا گھر تھا وہ جنرل جمال خان کا تھا۔ جنرل جمال خان کے بہت سارے مکان تھے۔ ہر صوبے کے ہر قابل ذکر شہر میں ان کی جائیدادیں تھیں۔ انگلینڈ میں اپارٹمنٹ تھا۔ امریکا میں رینج فارم اور حال ہی میں انہوں نے اسپین میں ایک ولا بھی خرید لیا تھا۔ قوم و ملک کے لئے ان کے خاندان نے بڑی قربانیاں دی تھیں۔ پہلی فوجی حکومت کے دوران انہوں نے کمیونسٹوں اور مذہبی انتہا پسندوں سے جم کر مقابلہ کیا تھا۔

کارخانوں کی، مزدوروں کی یونین کو توڑنے میں انہوں نے خاص مہارت حاصل کی تھی، ساتھ ساتھ مذہبی جماعتوں میں بھی اپنا اثر و رسوخ پیدا کیا تھا۔ چند ایک کو چھوڑ کر زیادہ تر مذہبی جماعتوں کے سربراہ جنرل صاحب کی مرضی سے ہی بنائے جاتے تھے۔ بیرون ملک میں بھی ان کا بڑا نام تھا، امریکا اور برطانیہ کے سیاسی حلقوں میں بھی ان کی پہنچ ہو گئی تھی۔

فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے کئی کارخانوں میں شیئر خرید لئے تھے۔ وہ کئی کارخانوں کے ڈائریکٹر تھے اور ٹریڈ یونین کے خلاف ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں Trouble Shooter بھی کہا جاتا تھا۔ ان کے بیٹے فوج میں تھے۔ ایک داماد نیوی میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا اور ایک داماد ائرفورس میں کام کرتا تھا۔

دوسری فوجی حکومت کے دوران انہیں صدر کا مشیر خاص بنایا گیا تھا اور ان کی صلاحیتوں سے بہت فائدہ اٹھایا گیا۔ انہوں نے لسانی بنیادوں پر سیاسی پارٹیاں بنوائی تھیں اور شیعہ، سنی، اہل حدیث، بریلوی اور دیوبندی ملاؤں کی اپنی اپنی پارٹی بنوانے میں بہت مدد کی تھی۔ وہ ملک کے سیاسی نظام کو خوب سمجھتے تھے۔ ان کا خاندان بھی سمجھتا تھا۔ وہ اس ملک کے بے تاج بادشاہوں میں سے ایک تھے۔

ان کے مکان کے برابر میں ہی پیر بربوری شریف کا مکان تھا۔ پیربربوری شریف کا نام تو کچھ اور تھا مگر سب انہیں پیر صاحب کہا کرتے تھے۔ پیر صاحب کے والد کا حال ہی میں انتقال ہوا تھا اور یہ گدی نشین ہوئے تھے۔ پورے ملک میں ان کے چودہ لاکھ سے زیادہ مرید تھے۔ پیر صاحب کا یہ بہت موڈرن بنگلہ تھا جہاں مریدوں کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ پیر صاحب یہاں پر اپنی بیویوں اور عورتوں کے ساتھ آتے جاتے رہتے تھے۔ ملک کے تمام شہروں میں ان کی حویلیاں تھیں جہاں وہ گاہے بگاہے اپنے مریدوں کو دیدار کراتے تھے۔

ان کے مریدوں میں سب شامل تھے سیاستدان، حکمران، سرکاری افسران، فوج کے جنرل، تاجر، اسمگلر اور بہت سارے عوام۔ پیر صاحب کی آنکھوں میں بلا کا جلال تھا اور ان کا خاندان جلالی پیروں کا خاندان کہلاتا تھا۔ پیر صاحب کے بزرگوں کے بارے میں بہت سی باتیں مشہور تھیں۔ پیر صاحب کے ایک جد امجد نے ایک نگاہ ڈال کر پورے جنگل میں آگ لگادی تھی۔ پیر صاحب کے بزرگوں کا ایک مرید پیر صاحب کی ایک عورت کو بھگا کر لے جا رہا تھا اور وہ جیسے ہی پیر صاحب سے چالیس میل دور ہوا تھا کہ دونوں ہی جل گئے تھے۔ آج بھی دونوں کا جلا ہوا جسم ایک پہاڑی کے پتھروں سے ملا ہوا موجود ہے۔ کہتے ہیں اس رات علاقے کے سارے پہاڑ جل اٹھے تھے اور اگر پیر صاحب چالیس میل دور نہیں جانے دیتے تو شاید سارے شہر اور گاؤں جل کر خاک ہو جاتے۔ آج تک کسی نے جبھی پیر صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھا تھا۔

اس ملک میں ہونے والے ہر قابل ذکر واقعے اور حادثے میں پیر صاحب کسی نہ کسی طرح سے ضرور شامل تھے۔ ان کی مرضی سے بہت سارے کام ہوتے تھے اور ان کی ہی مرضی سے بہت سارے کام نہیں ہوتے تھے۔ پیر صاحب کا تمام خاندان پڑھا لکھا تھا، بچے ملک سے باہر پڑھتے تھے مگر پیر صاحب کے دیہاتی مریدوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ شہر کے مریدوں کی بات اور تھی، ان کے لئے پیر صاحب نے دوسرے قسم کے قوانین بنائے ہوئے تھے۔ پیر صاحب کا اپنا ذاتی جیل خانہ بھی تھا اور یہ جیل خانہ اتنا ہی پرانا تھا جتنی پرانی پیر صاحب کی گدی۔

پیر صاحب کے مکان کے سامنے کھاکھرے بھائیوں کا بڑا سا گھر تھا جسے امریکا کے وائٹ ہاؤس کے طرز پر بنایا گیا تھا۔ کھاکھرے بھائیوں کا بڑا کام تھا۔ کھاکھرے بھائیوں کا باپ بازار حسن میں دلالی کا کام کرتا تھا اور شہر کے پرانے علاقے میں چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے سات بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اسے ایک رات کسی نے گولی مار دی تھی۔ اس کے کچھ ہی دنوں کے بعد اس کے گھر پر کسی نے آ کر کچھ پیسے دیے تھے اور حمید کھاکھرے کو ملازم رکھ لیا تھا۔

پھر آہستہ آہستہ اس خاندان کی قسمت بدلتی گئی تھی۔ اس محلے سے وہ لوگ ایک بڑے فلیٹ میں چلے گئے جہاں سے جلد ہی ایک بنگلے میں منتقل ہو گئے تھے۔ حمید کھاکھرے خاندان کو لے کر بہت آگے نکل گیا تھا۔ پانچ بھائیوں اور دو بہنوں کا یہ خاندان بہت کچھ کرتا تھا۔ نگار کھاکھرے کی شادی شہر کی سب سے بڑی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے مالک سے ہوئی تھی۔ کھاکھرے خاندان کے ملاپ سے یہ کمپنی قومی سے بین الاقوامی بن گئی تھی۔ فاطمہ کھاکھرے کے خاندان نے ہوٹلوں کا کام سنبھال لیا تھا۔

کھاکھرا خاندان ہر کام ہر قیمت پر کرنے کو تیار ہوتا تھا۔ حمید کھاکھرے کو لندن کے ہیتھرو ائرپورٹ پر حشیش سے بھرا سوٹ کیس لے جاتے ہوئے پکڑا بھی گیا اور اس نے زندگی کے نو سال لندن کی کسی جیل میں گزارے بھی تھے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس قسم کے بہت سارے سوٹ کیس اور بریف کیس کھاکھرے خاندان ادھر سے ادھر کرچکا تھا۔ جب کھاکھرے خاندان نے اس گلی میں مکان بنایا تھا اس وقت حمید کھاکھرے لندن کی جیل میں تھا اور نثار کھاکھرے نے سارا کام سنبھال لیا تھا۔

نثار کھاکھرے نے اپنا نام بینک کے کام میں کیا تھا۔ اس کی شراکت میں چلنے والا انویسٹمنٹ بینک عربوں کے لئے بڑا کام کرتا تھا۔ عرب شیخوں کے لئے آرام دہ محل بنانا، دنیا میں کہیں بھی کبھی بھی جوا کھیلنے کا انتظام کرنا، شکار گاہوں میں شکاری باز سے لے کر شکار کا اہتمام کرنا، اونٹوں کی دوڑ کے لئے چھوٹے بچوں کی خریداری سے لے کر گاؤں دیہاتوں سے محلوں کی زیبائش کے لئے لڑکیوں کی خریداری تک بینک ہر کام میں یکتا تھا اور بڑی خوبیوں کا مالک تھا۔

دنیا کے بہت سارے بینکوں کے مقابلے میں کھاکھرے بینک نے ترقی میں کمال کر دیا تھا۔ کھاکھرے خاندان کی قومی خدمات کا ہر کوئی معترف تھا وزیراعظم، صدر مملکت، چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، سارے بڑے اخبار، تمام قومی لیڈر، ملک کے نظام میں اس خاندان کا بڑا عمل دخل تھا۔ لندن سے رہا ہونے کے بعد حمید کھاکھرے کو یہودیوں کے خلاف بہادری سے کام کرنے کے عوض قومی اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔

کھاکھرے بھائیوں کے مکان کے برابر میں دو پلاٹ خالی تھے۔ یہ دونوں پلاٹ جرنیل صاحب کے تھے مگر نہ جانے کیوں انہوں نے انہیں خالی چھوڑا ہوا تھا۔ اونچی سی باؤنڈری وال والے خالی پلاٹ کسی مکین کا انتظار کر رہے تھے۔ ان خالی پلاٹوں کے سامنے ایک اور مکان تھا۔ یہ مکان مولوی صاحب کا تھا۔ مولوی صاحب بہت پہلے ایک چھوٹی سی مسجد کے امام ہوا کرتے تھے۔ اس محلے کی ایک خوبصورت سی لڑکی کو جرنیل صاحب کے چھوٹے بیٹے نے اغواء کر لیا تھا۔

کہانی تو بہت بڑی ہے مگر جاننے والوں کے لئے اتنا کافی ہے کہ لڑکی کے عزت دار ماں باپ سب کچھ خاموشی سے برداشت کرنے کو تیار تھے مگر نہ جانے کہاں سے محلے کا ایک نوجوان آ گیا تھا اور تمام معاملہ ایک چھوٹے سے رسالہ میں چھپ کر کورٹ تک پہنچ گیا تھا۔ مولوی صاحب نے بڑی مدد کی تھی، عدالت میں حاضر ہونے سے پہلے جرنیل صاحب کو پچھلی تاریخوں کا بنا ہوا نکاح نامہ دے دیا اور مقدمہ عدالت سے خارج ہو گیا تھا۔ اس لڑکی نے ڈی ڈی ٹی پی کر خودکشی کرلی تھی اور محلے کا وہ نوجوان کئی سال جیل میں رہ کر جب رہا ہوا تھا تو پاگل ہو گیا تھا۔

شہر کی سڑکوں پر اور مسجدوں کے سامنے کبھی کبھی وہ ”نکاح نامہ جعلی ہے“ کے نعرے لگاتا ہوا نظر آ جاتا ہے۔ جرنیل صاحب مولوی صاحب کو نہیں بھولے۔ ان کی مسجد کی تعمیر کے لئے انہیں بڑی مدد ملی تھی۔ مسجد کے ساتھ پارک کے لئے مختص زمین پر دارالعلوم کھل گیا تھا۔ جہاں دنیا بھر کے بچے دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ دارالعلوم کی شاخ دوسرے شہروں میں بھی کھل گئی۔ مولوی صاحب سعودی عرب اور مصر کے جامعہ اظہر کے دورے کے بعد سے فتویٰ بھی دینے لگے تھے۔ مفتی و مولوی صاحب کے چاروں طرف عالموں کی ایک بھیڑ سی لگی رہتی تھی۔ جرنیل صاحب نے مولوی صاحب کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں بھی اس گلی میں ایک پلاٹ الاٹ کرا دیا تھا۔ مولوی صاحب کے اس کشادہ سے مکان پر بڑے جلی حروف میں ”اللہ جسے چاہتا ہے اسے عزت دیتا ہے“ کے الفاظ ایک مرید نے کندہ کرائے تھے۔

مولوی صاحب کے مکان کے برابر ملک کے کرکٹ کے سب سے کامیاب کھلاڑی حفیظ کا مکان تھا۔ حفیظ کو یہ پلاٹ ایک اہم کرکٹ میچ جیت کر قوم کے لئے اعزاز حاصل کرنے کے صلے میں ملا تھا۔ حفیظ سب سے بڑا اور سب سے عمدہ کھلاڑی نہیں تھا مگر سب سے کامیاب ضرور تھا۔ وہ نئی نسل کا ہیرو تھا اور کرکٹ کے اعلیٰ حکام سے اس کی بہت دوستی تھی۔ اپنی مرضی کی ٹیم بنوانے میں اور ابھرتے ہوئے ایسے کھلاڑی جو اس کے لئے چیلنج بن سکتے تھے انہیں نیچا دکھانے میں حفیظ کو کمال حاصل تھا۔

ملکی اور غیر ملکی صحافیوں سے حفیظ کی بڑی دوستی تھی۔ اخباروں میں اسے بڑی عزت دی جاتی تھی۔ ملک کی فلمی ہیروئنوں کے ساتھ اس کا نام لیا جاتا تھا اور غیر ملکی ماڈل لڑکیوں کے ساتھ اس کی تصویریں خوب بکتی تھیں۔ وہ کرکٹ کا ہر فن مولا تھا۔ بہت ہی کم عمری میں اس نے بڑا نام پیدا کر لیا تھا۔ کہتے ہیں ہالی ووڈ والوں نے اسے فلم میں کام کرنے کی بھی آفر کی تھی اور ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اسے لینے کو تیار تھیں۔ ایک دفعہ ایک میچ جیتنے پر مذہبی جماعتوں نے اسے مجاہد اسلام بھی قرار دیا تھا۔

اس گلی کے اس پلاٹ پر مکان بنانا آسان نہیں تھا۔ مگر حفیظ نے کرکٹ کے میچوں میں سٹے بازوں کی مدد کی تھی، روپوں پیسوں کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ یہ خوبصورت مکان اس نے بہت چاؤ سے بنایا تھا۔ کچھ میچوں کا سودا کر کے، کچھ کھیلوں کو بیچ کر۔ حفیظ کے مکان کے سامنے راؤ صاحب کا گھر تھا۔ راؤ صاحب کی بیوی برازیل کی تھی۔ راؤ صاحب نے تمام زندگی فارن سروس میں گزاری تھی۔ جب وہ بلجیم میں سفیر تھے تو ان کی ملاقات برازیل کی اس خاتون سے ہوئی تھی، پھر ان کی بیوی نے انہیں چھوڑ دیا اور راؤ صاحب نے اس سے شادی کرلی۔

راؤ صاحب بہت کامیاب آدمی تھے۔ فارن سروس میں آنے کے بعد سے جہاں جہاں انہوں نے کام کیا تھا وہاں وہاں انہوں نے خوب فائدے اٹھائے تھے۔ لندن میں ان کا مکان تھا۔ ملک میں بڑی جائیدادیں، حکمرانوں سے بہت دوستی تھی ان کی اور خاص طور سے فوج میں بڑا اثر و رسوخ تھا ان کا۔ فوجی ساز و سامان کی خریداری سے لے کر ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کی خریداری تک میں وہ شامل تھے اور اس قسم کی خریداری میں سب لوگوں تک کمیشن ایمانداری سے پہنچانا ان کا ہی کام تھا۔

یہ کام انہوں نے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا تھا۔ ان کا نہ کوئی نام نہ تھا اور نہ کوئی مشہوری۔ وہ اپنی برازیلین بیوی کے ساتھ خاموش پرسکون زندگی گزار رہے تھے۔ خاموشی میں تلاطم اس وقت ہوتا تھا جب ان کے گھر میں پارٹی ہوتی تھی اور یہ پارٹیاں ہوتی ہی رہتی تھیں۔ اور ملک کے بہت سارے لوگ، بڑے لوگ فیصلے کرنے والے لوگ ان پارٹیوں میں نظر آتے تھے۔

پروفیسر صاحب کے مکان سے پہلے ایک ٹھیکیدار تھا جس کے سامنے ہی ایک پراپرٹی ڈیلر کا بنگلہ تھا۔ ان دونوں نے مل کر شہر کی ہر خالی جگہ پر فلیٹ، دکان، مکان بنا دیے تھے۔ بہت سے پارکوں میں مسجد بنا کر پارکوں پر قبضہ کیا تھا پھر مسجد کے چاروں طرف فلیٹوں کا جنگل بنا دیا تھا۔ ان دونوں کی دوستی گہری تھی، کام میں شراکت اچھی تھی۔ محکمہ جنگلات، بلدیات، کسٹم اور لینڈ ڈپارٹمنٹ کے قابل ذکر افسران پر ان کا احسان تھا۔ ان کے بچوں کی فیسوں سے لے کر ان کے گھومنے پھرنے کا انتظام ان کے ہی ہاتھ میں تھا۔

شہر کے مختلف مجرموں کے گروہوں سے ان کی شناسائی تھی۔ ان کے راستے میں کوئی بھی پتھر نہیں آتا تھا جو آتا تھا اسے ہٹا دیا جاتا تھا۔ ان دونوں کو اس دنیا میں جینے کا ڈھنگ آتا تھا۔ ان کے خیال میں ہر آدمی، ہر شخص، ہر نظریہ، ہر خیال، ہر جج، ہر وکیل، ہر وزیر، ہر پروفیسر، ہر اعلان خریدا جا سکتا تھا اور جو بکتے نہیں ہیں مرتے ہیں، جو مرتے نہیں انہیں توڑ دینا چاہیے اور اس اصول پر ان لوگوں نے بڑی ایمانداری سے عمل کیا تھا۔

گلی کے اس طرف ہی کچھ اور مکان تھے۔ ان کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا کہ یہ لوگ کون ہیں۔ یا تو بہت ہی شریف لوگ تھے، جو اپنے کام سے کام رکھتے تھے، یا پھر ایسے لوگ تھے جن کے کام کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ ان سب کے مکانوں کے آخر میں میرا مکان تھا۔ میں سرجن تھا شہر کے ایک میڈیکل کالج میں اپنے ڈپارٹمنٹ کا انچارج بھی تھا۔ اس گلی میں پہنچنے کے لئے مجھے بہت کچھ کرنا پڑا تھا۔ انگلستان سے آنے کے بعد میرے گھر والوں نے میری شادی سیکریٹری ہیلتھ کی بیٹی سے طے کرا دی تھی۔

شادی سے پہلے ہی میرا اپائنٹمنٹ میڈیکل کالج میں ہو گیا تھا۔ میرے سسر زمانہ ساز آدمی تھے۔ مجھے زندہ رہنے کے اصول انہوں نے ہی سمجھائے تھے۔ گورنر ہاؤس سے وزیراعلیٰ کے گھر تک بیمار پڑنے والے ہر شخص کو مجھے دیکھنا پڑتا تھا۔ میں ان کے داخلے کا انتظام کرتا تھا۔ اگر آپریشن کی ضرورت ہو تو وہ بھی کرتا تھا یا کراتا تھا۔ باہر کے علاج کی صورت میں بھی میری ہی بات مانی جاتی تھی۔ ججوں سے لے کر بڑے بڑے سرکاری افسروں تک اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے لے کر فوج کے بڑے افسران تک نہ جانے کتنوں کو میں نے جھوٹے سرٹیفکیٹ بنا کر علاج کے لئے حکومت کے خرچ پر باہر بھجوایا۔

ہر ایک نے اپنی حیثیت اور اختیار کے مطابق مجھے بھی نوازا۔ میں محکمہ صحت کا بہت با اثر افسر ہوں۔ حکومتیں آتی ہیں چلی جاتی ہیں، اوپر کے چہرے بدل جاتے ہیں مگر نظام چلتا رہتا ہے۔ ہر حکومت کے لوگوں کو میڈیکل کالجوں میں داخل کرانے ہوتے ہیں۔ میں ان کی مدد کرتا ہوں، راستہ بتاتا ہوں، راہ سمجھاتا ہوں۔ ہر حکومت کے ارباب اختیار کو میڈیکل کالجوں کے امتحانات میں اپنے بچوں کو پاس کرانا ہوتا ہے میں ان کا ایک ذریعہ ہوں۔

ہر پروفیسر سے میری یاد اللہ ہے۔ ہر کوئی مجھ سے ڈرتا ہے اور میں لوگوں کے کام آتا ہوں۔ اب تو یہ صورت حال ہو گئی ہے کہ ملکی اور غیر ملکی دواؤں کے کارخانوں کے مالکان بھی مجھ سے ہی رجوع کرتے ہیں اور میں درمیان کا آدمی بن کر محکمہ صحت اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کے توسط سے ان کے کام کراتا ہوں۔ میرے پاس جو بھی آتا ہے اس کا کام ہوجاتا ہے۔ میرے سسر کے ریٹائر ہونے کے باوجود حکومت میں میری بہت اچھی پہنچ ہے۔ اسپتال میں میرا وارڈ میرے نائب چلاتے ہیں۔

وہاں کے بڑے گھٹیا مسائل ہیں۔ اسپتال میں کچھ ہوتا ہی نہیں ہے۔ نہ دوا، نہ سامان، نہ سہولتیں، وہاں اتنی پریشانی ہوتی ہے کہ اب تو میں نے اسپتال میں کام کرنا ہی بند کر دیا ہے۔ وہاں جا کر فون پر لوگوں سے بات چیت کرتا ہوں۔ کچھ لوگوں سے مل لیتا ہوں۔ اور میرے نائب کسی نہ کسی طرح سے اسپتال چلاتے رہتے ہیں۔ کبھی مریض کو دوائیں اسپتال میں لانی پڑتی ہیں اور کبھی مریض باہر کے اسپتال میں چلے جاتے ہیں۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ صرف سرجری کر کے اور میڈیکل کالج کے لڑکوں کو پڑھا کر مجھے کیا ملتا؟ شاید میں مشکل سے ایک بنگلہ بنا لیتا۔ ایک چھوٹی سی گاڑی خرید لیتا۔ میری زندگی کے مسائل سے زیادہ سنگین ہیں۔ میری ضروریات بہت زیادہ ہیں۔ میں غریب آدمی کا بیٹا ضرور ہوں مگر داماد ایک سیکریٹری کا ہوں اور میری بیوی کا بھائی شہر کا سب سے بڑا کار ڈیلر ہے۔

اس گلی میں میرا یہ مکان باہر سے خراب اور اندر سے بہت خوبصورت ہے۔ میرے بچپن کا کوئی دوست یہاں نہیں آتا ہے۔ وہ میرے بارے میں عجیب باتیں کرتے ہیں۔ عجیب لوگ ہیں، یہ جاہل اور جلن سے بھرے ہوئے گنوار لوگ۔

میرے مکان کے برابر میں ہی کریمہ باجی کا مکان تھا۔ وہ خوب عورت تھیں۔ عمر کے درمیانی حصہ میں آ کر بھی ویسی ہی تھیں جیسی جوانی میں رہی ہوں گی۔ ان کے بڑے سے مکان میں بڑی چہل پہل رہتی تھیں۔ کہتے ہیں جوانی کے زمانے میں فوجیوں کی حکومت کے دوران انہیں جیل میں ایک مذہبی رہنما کو سیدھا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ وہ کام انہوں نے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا تھا۔ اس وقت تو وہ ایک معمولی سی طوائف تھیں مگر اس اعلیٰ کارکردگی کے بعد ان کی تو جیسے لاٹری نکل آئی تھی۔

ان کی زندگی کا اصول تھا مناسب قیمت پر دوسروں کے کام آنا۔ بڑے بڑے واقعات ان سے منسوب تھے۔ ایک ایماندار انکم ٹیکس افسر کو بھی ایک سیٹھ نے ان کے ذریعے سے ہی سیدھا کیا تھا۔ ان کے ساتھ اس افسر کی ننگی تصویر کے بعد محکمے نے اس بے چارے کو نکال دیا تھا۔ وہ عرب ممالک کے سفارتکاروں میں بڑی مقبول تھیں۔ فوجیوں کے ہاں راتوں کو ہونے والے فنکشن میں سپلائی کا کام بھی انہی کے ہاتھوں سے ہوتا تھا، کئی بینک ان کی مدد سے ہی اپنا کام آگے بڑھا رہے تھے۔

حکومتیں بدلتی رہی تھیں، کبھی فوجی، کبھی جمہوری، مگر ان کی ضرورت برقرار رہی تھی۔ وہ ہر قسم کی حکومتوں پر یقین رکھتی تھیں۔ اس گلی میں یہ پلاٹ غریبوں کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ایک وزیراعلیٰ نے انہیں دیا تھا۔ ایک مرسیڈیز ایک فوجی حکمران کا حقیر تحفہ تھا۔ ملک میں موجود کئی کارخانوں میں ان کا حصہ تھا۔ ان کے پاس ہر طرح کی لڑکیوں کا ایک خوبصورت collection تھا۔ وہ اپنی لڑکیوں کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ ان کی کوئی لڑکی انہیں چھوڑ کر بھاگی نہیں تھی۔ جو ان کے پاس آتی تھی اس کی زندگی سنور جاتی تھی۔ ان کی گراں قدر خدمات کو حکومت نے تسلیم کرتے ہوئے انہیں قومی اعزاز بھی دیا تھا۔

کریمہ باجی کے مکان کے ساتھ والے پلاٹ پر جمال صاحب رہتے تھے۔ یہ پلاٹ فوج سے ریٹائر ہونے والے ایک شریف کرنل کا تھا۔ جسے ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی یہ پلاٹ ملا تھا۔ اس کرنل نے یہ پلاٹ جمال صاحب کو بیچ کر اپنی دو بیٹیوں کی شادی کی تھی اور ایک چھوٹے سے فلیٹ میں منتقل ہو گیا تھا۔ اس پلاٹ پر مکان بنانے کی سکت ایک ایماندار فوجی میں تو نہیں ہو سکتی تھی مگر جمال صاحب تو سرکاری ملازم تھے۔ انہیں پہلے تو ملک کے خاندانی منصوبہ بندی کے محکمے کی سربراہی ملی تھی۔

غیر ممالک کی امداد سے چلنے والے اس محکمے میں انہوں نے بہت لگ کر کام کیا تھا۔ ملک میں خاندانی منصوبہ بندی تو کامیاب نہیں ہو سکی تھی مگر وہ کامیاب ہوئے تھے۔ نئی حکومت نے ان کی خدمات سے متاثر ہو کر انہیں ملک میں تعلیم پھیلاؤ مہم کا انچارج بنا دیا تھا۔ خاندانی منصوبہ بندی کے محکمے میں ان کے ہی بھرتی کیے ہوئے لوگوں میں سے ایک کو انچارج بنا دیا گیا تھا جس کے بعد اس محکمے کی کارکردگی اور بھی اچھی ہو گئی تھی اور محکمہ میں کام کرنے والے افسروں نے خوب ترقی کی تھی۔

جمال صاحب نے عالمی بینک کے دیے ہوئے قرضے سے ملک میں عام تعلیم پھیلانے کا مربوط پروگرام بنایا تھا جس کے بعد انہوں نے ملک کے ہر قابل ذکر اہم افسر اور سیاستدان کے بچوں کو کسی نہ کسی بہانے سے اعلیٰ تعلیم کا اسکالر شپ دلوا کر امریکا اور انگلینڈ بھجوایا تھا۔ عالمی بینک کمپیوٹر پر چھپی ہوئی خوبصورت رپورٹوں سے بہت متاثر ہوا اور قرض مزید بڑھا کر دیا گیا تھا۔ جمال صاحب کی کامیابی کی بنا پر انہیں قومی پلاننگ کمیشن کا چیئرمین بنا دیا گیا تھا۔

اس حیثیت میں انہوں نے بہت ہی قابل ذکر خدمات انجام دی تھیں۔ ملک میں ہونے والے ہر بڑے کام میں کسی نہ کسی طرح سے ان کا بھی حصہ ہوتا تھا۔ ان کے لاتعداد مکانات تھے۔ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں ان کا کچھ نہ کچھ ضرور تھا۔ ان کی اولاد شاندار زندگی گزار رہی تھی اور اب تو انہیں بھی احساس نہیں تھا کہ وہ کن کن چیزوں کے مالک ہیں۔ ان کی کامیاب زندگی ہر ایک کے لئے قابل رشک تھی۔

جمال صاحب کی ایک بیٹی رحیم سے بیاہی ہوئی تھی اور رحیم کا مکان ان کے مکان کے سامنے تھا۔ رحیم کے بھی کئی مکان اور کئی جگہوں پر تھے مگر وہ سسر کے دیے ہوئے مکان میں رہتا تھا۔ رحیم کے والد کا انتقال ہو چکا تھا مگر انہوں نے بھی زندگی جھونپڑی سے شروع کی تھی اور اس گلی تک پہنچ گئے تھے۔ پہلے تو انہوں نے محلے کے لوگوں کو ملا کر ایک انجمن بنائی تھی جس کا کام غریبوں کی مدد کرنا تھا۔ پھر اس انجمن نے چندہ جمع کر کے میت گاڑی خریدی تھی تاکہ میتوں کے لانے لے جانے میں مدد کی جاسکے۔

چندہ جمع ہوتا گیا تو پھر انہوں نے اسکول کھولنے شروع کر دیے تھے جہاں بھاری فیس لی جاتی تھی اور شہر میں بڑے بڑے پروگرام کر کے فنڈ جمع کیا جاتا تھا۔ حکومت نے بھی ان کی بڑی مدد کی تھی۔ اسکولوں کے لئے مفت کی زمینیں دی گئی تھیں پھر انہوں نے حکومت کی ہی دی گئی مفت کی زمینوں پر غریبوں کے لئے اسپتال کھولے تھے جہاں بھاری فیسوں سے علاج کیا جاتا تھا۔ ان کا نام ہر قسم کے رفاہی کاموں سے منسوب تھا۔ افسوس یہ ہے کہ غریبوں کے لئے ان کے دل میں جو درد تھا ملک کے غریب مکمل طور پر اس سے ناآشنا تھے۔ جمال صاحب نے ان کی بڑی مدد کی تھی۔ اس مدد کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے رحیم کی شادی جمال صاحب کی ایک بیٹی سے کی تھی جو ذہنی پسماندگی کا شکار تھی۔

یہ گلی اس محلے کی سب سے اچھی گلی ہے۔ یہ محلہ اس شہر کا سب سے شاندار محلہ ہے۔ یہ شہر اس صوبے کا سب سے خوبصورت شہر ہے۔ یہ صوبہ اس ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہ ملک ساری دنیا کے سارے ملکوں کے درمیان بعض باتوں میں سب سے اول ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر شیر شاہ سید (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •