متنوع ثقافتی رنگوں کا ترجمان شنگھائی شہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین کے انتہائی ترقی یافتہ شہر شنگھائی کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ مختلف ثقافتوں کا امین ہے۔ یہاں پاکستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جن میں صنعتکار، ٹیکنالوجی ایکسپرٹس، طلباء اور متعدد شعبوں کے غیرملکی ماہرین شامل ہیں۔ پاکستانی کمیونٹی کی بات کی جائے تو طلباء اور تاجر شنگھائی کے مختلف اضلاع میں رہائش پذیر ہیں اور کئی ایک نے تو شنگھائی کے ساتھ ساتھ ترقی کی منازل طے کی ہیں اور آج کاروباری حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

جھنگ سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی صنعت کار طاہر حسین نے ملاقات کے دوران بتایا کہ وہ انیس سو اکیانوے میں حصول تعلیم کے لیے شنگھائی آئے تھے اور ٹیکسٹائل کے بارے میں پڑھنا چاہتے تھے، اسی دوران انہیں اپنی ایک چینی ہم جماعت سے محبت ہو گئی اور دونوں نے انیس سو چورانوے میں شادی کر لی۔ ان کا ایک بیٹا بھی ہے جو اس وقت امریکہ میں زیر تعلیم ہے جبکہ طاہر حسین امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک چینی حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور دیگر کاروباری مراعات کی وجہ سے دنیا بھر سے ملٹی نیشنل کمپنیاں اور سرمایہ کار چینی منڈی بالخصوص شنگھائی کا رخ کر رہے ہیں۔

طاہر حسین کی خوشحالی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے گزشتہ تیس برسوں کے دوران اپنے کاروبار کی ترقی کی بدولت شنگھائی کے ایک انتہائی پوش علاقے میں دو بنگلے خرید رکھے ہیں، جن کی مالیت پاکستانی روپے میں دو ارب سے زائد ہو گی۔ شنگھائی میں پاکستانیوں نے ایک سماجی تنظیم بھی قائم کر رکھی ہے جسے پاکستان کمیونٹی شنگھائی کہا جاتا ہے۔ یہ تنظیم پاکستانی افراد کو درپیش مسائل کے حل اور سماجی بہبود کے حوالے سے فعال ہے جبکہ پاکستانی ثقافت کو اجاگر کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

پاکستان کمیونٹی شنگھائی کی جانب سے یوم آزادی سمیت دیگر تمام قومی دنوں اور تہواروں کی مناسبت سے گاہے بگاہے اجتماعی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں چین میں تعینات پاکستانی سفیر سمیت اہم شخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے۔ شنگھائی میں پاکستان کا قونصل خانہ بھی موجود ہے جو پاک۔ چین تعلقات کے فروغ سمیت پاکستانی کاروباری طبقے اور طلباء کے مسائل کو احسن طور پر نمٹانے میں مصروف عمل ہے۔ شنگھائی میں جگہ جگہ حلال فوڈ ریسٹورانٹس موجود ہیں جبکہ گزشتہ برس ہی شنگھائی کے وسطی علاقے میں پاکستانی خان بابا ریسٹورانٹ کی شنگھائی شاخ بھی کھل چکی ہے۔ خان بابا ریسٹورانٹ کی چین کے شہروں بیجنگ اور چھنگ داو میں پہلے سے شاخیں موجود ہیں جہاں پاکستانیوں سمیت چینی اور دیگر غیر ملکی افراد شوق سے پاکستانی کھانے کھاتے ہیں۔ شنگھائی میں پاکستانیوں کی یہ بڑی خواہش تھی کہ اس بڑے شہر میں بھی پاکستانی ریسٹورانٹ ہونا چاہیے جو بلا آخر اب فعال ہو چکا ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ چین کے ہر شہر اور ضلع میں مساجد موجود ہیں جبکہ شنگھائی میں مساجد کی تعداد آٹھ ہے جہاں ہزاروں مسلمان عبادات کا اہتمام کرتے ہیں۔ شنگھائی میں مختصر قیام کے دوران شاو تھاو یوان مسجد جانے کی سعادت ملی۔ اس مسجد کو شی چھنگ مسجد بھی کہا جاتا ہے اور شنگھائی میں اس کا شمار مشہور ترین مساجد میں کیا جاتا ہے۔ یہ مسجد سن انیس سو سترہ میں تعمیر کی گئی اور انیس سو پچیس میں اس کی تعمیرنو کی گئی۔ اس مسجد کی سب سے بڑی خوبی انتہائی خوبصورت اسلامی فن تعمیر ہے۔

مسجد میں اندرونی ہال کا رقبہ پانچ سو مربع میٹر ہے جبکہ نماز کی ادائیگی کے لیے دو منازل تعمیر کی گئی ہیں جن میں بیک وقت ایک ہزار مسلمان نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس مسجد کا ایک خوبصورت مینار بھی دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ مسجد میں لائبریری اور مطالعاتی کمرہ بھی موجود ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مسجد کے قیام کے بعد یہاں کئی اسکول بھی تعمیر کیے گئے ہیں جن میں اسلام نارمل اسکول بھی شامل ہے جو بنیادی طور پر مسلمانوں کا پرائمری اسکول ہے۔

اس کے علاوہ دیگر اسکولوں میں منگ چھنگ پرائمری اسکول، چونگ بین پرائمری اسکول اور شنگھائی اسلام آرفن ایج شامل ہیں۔ انیس سو بیس سے انیس سو چالیس تک یہ مسجد چین کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں کا اجتماعی مرکز بھی رہی ہے اور چین کے دیگر علاقوں جن میں شانشی، گانسو، نینگ شیاہ، چھنگ ہائے اور سنکیانگ شامل ہیں، یہاں سے مسلمان شنگھائی آتے تھے اور یہاں جمع ہو کر حج کے لیے مکہ مکرمہ جاتے تھے۔ اس زمانے میں یہ مسجد سمندری راستے سے مکہ مکرمہ جانے والے چینی مسلمانوں کا ایک مرکز کہلاتی تھی۔ اس وقت بھی مسجد کے احاطے میں شنگھائی میں مساجد کی انتظامی کمیٹی کا دفتر، شنگھائی اسلامک ایسوسی ایشن کے دفاتر موجود ہیں جس کے باعث اس مسجد کو شنگھائی میں مسلمانوں کے ایک اہم اجتماعی مرکز کا درجہ حاصل ہے۔

شنگھائی کی یہ خوبی ہے کہ اس شہر کا دل بہت بڑا ہے اور یہ ہر ایک کو خوش آمدید کہنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے سیاح شنگھائی کا رخ کرتے ہیں اور یہاں کے متنوع ثقافتی رنگوں کو دیکھنے کی تمنا کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •