علم دشمنی کی ناروا سازشیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے آج بھی یاد ہے جب ہماری چھوٹی سی فیملی اقتصادی تنگی سے سرگراں تھی امی جان اکثر باباجان کو بچے سکول سے خارج کر کے کسی جگہ کام کاج پر لگانے کا مشورہ دیتی تو بابا جان کا ردعمل ہمیشہ یہی ہوا کرتا تھا کہ ”میں نے ان کو ایسی دولت دینی ہے جوان سے کوئی نہ چھین سکے۔“ بلاشبہ باباجان جو کہ خود بھی غیر تعلیم یافتہ تھے ان کا اس جواب سے اشارہ ہر بار علم کی طرف ہی ہواکرتا تھا۔

یقیناً دو جہان کے مالک کے بے شمار صفات میں سے ایک اہم صفت علم ہے جس کا مطلب ہے ہرچیزکی علم رکھنے والا۔ خوا وہ علم کل کی ہو آج کی ہو یا پھر آنے والے کل کی ہو۔ علم کے حوالے سے اللہ کے رسولﷺ فرماتے ہیں علم والوں کو دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی شخص پر ہے۔ اور اسی حوالے سے قرآن کے سورۃ الفاطرآیت 19۔ 20 میں ارشاد ہے کہ ”کہہ دیجیے کہ کیا برابر ہو سکتے ہیں اندھا اور دیکھنے والا یا کہیں برابر ہو سکتا ہے اندھیرا اور اجالا“ ؟

علم انسان کی میراث اور زیور ہے اور علم بڑی دولت ہے، جیسے محاورے اسی لیے بولے جاتے ہیں کیونکہ یہ علم نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ علم انسان کو دی جائے تواس سے الفت، محبت، رواداری، وفاداری، یقین، امید، اخلاق، سیرت اور شاہستہ مزاج جیسی صفات کی خوشبو پھیلتی ہے، جبکہ انسان کو جہالت کے اندھیرے میں رکھنے سے نفرت، حسد، لالچ، انتقام، خوف، غیظ و غضب اور دشمنی جیسی عادتیں پھیلتے ہیں۔

چنانچہ بی بی سی کی 7 اکتوبر 2019 مغربی افریقن یونیورسٹیوں میں اساتذہ کے ہاتھوں طالبعلموں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے سے متعلق شایع کردہ خفیہ تحقیقاتی رپوٹ اور سانحہ جامعہ بلوچستان نے علم کے حوالے سے مفکرین کے سامنے سوالات کے ڈھیر لگا دیے ہیں اور ان واقعات کے بعد یہ سوالات علمی اور سماجی حلقوں میں مختلف حوالوں سے زیر بحث ہیں کہ کیا ہماری علمی درسگاہیں علم دشمنی کو فروغ دے رہی ہے یا علم دوستی کو، کیا ہمارے حکمران اور دوسرے با اختیار طبقے علم کے خلاف مل کر ایک ناراوہ جنگ لڑرہے ہیں؟

کیا ہماری موجودہ نسل کو علم کی حصول کے خاطر پہلے خود علم پر مسلط جنگ کو جیتنا پڑے گا؟ کیا ہم اس علم جس کی فضیلت اور سفارش خود اللہ اوراسکے رسولﷺ نے کی ہے اس کے دشمن بن چکے ہیں؟ کیا ایک انسان علم دوست بننے اور علم کی حصول کی خاطر دوردراز علاقوں اور شہروں سے آ کر اپنے مقصد میں کامیاب ہوکرلوٹتے ہیں؟

تاریخ کی روشنی میں ان سوالات پر کچھ یوں تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ جب کبھی طاقتور اقوام مظلوم قوموں پہ حملہ آور ہوتی ہیں توان کا ہدف یہ ہوتا ہے کہ طاقتور اقوام چونکہ علم کے بدولت مہذب اور متمدن اقوام کہلاتے ہیں اس لیے وہ غیر مہذب اور غیر شائستہ قوموں کو مہذب بنانے کے غرض سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس حربے کے ساتھ مظلوم اقوام کو یرغمال بناکر ان کی ثقافت پہچان اور روایات کو علم دشمنی کے قالب میں ڈھالا جاتا ہے تاکہ انہیں ذہنی طور غلام بنایا جا سکے۔

اس دلیل سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ اس کائنات کی بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دینے والی دشمنی علم دشمنی ہے اور انسانی تاریخ کی دردناک جنگ علم کے خلاف جنگ ہوتی ہے جو نہ صرف قوموں کو ان کی ذات کی پہچان اورمقصد زندگی سے محروم رکھتی ہے بلکہ انہیں ذہنی غلام اور علم کے حصول کے لیے دوسرے اقوام پہ انحصار کرنے کی خوگر بنا دیتی ہے۔ کیونکہ ہر وہ علم جو انسان یا روئے ذمین پرکسی حیات سے وابستہ ہو اس کی دشمنی دنیا و آخرت کی محرومیت کا سبب بنتی ہے۔

علم کا بنیادی مطلب حقیقت شناسی اور سچ کی تلاش ہے خواہ اس علم کا تعلق اسلامیات، ریاضی حیاتیات طبعیات کیمیا لسانیات سمیت کسی بھی فن سے ہو اس کی دشمنی کسی بھی قوم کے لئے ہلاکت آفرین ہوتی ہے۔ اسی لیے علم فراہم کرنے والے ادارے جن کی تشکیل یونیورسٹیوں اور جامعات کی شکل میں کی جاتی ہے تاکہ وہ علم کی حصول کی طلب رکھنے والے ایک ایک فرد کو علم سے روشناس کرائے اور ہر فرد کی اس قسم کی فکری ارتقا میں اپنا کردار ادا کریں جس سے وہ بآسانی اپنی ذات، انسانیت اور کاینات کی حقیقت کا علم حاصل کرے۔ لیکن ہماری یونیورسٹیوں اورعلم فراہم کرنے والے اداروں کی کردار جس قسم کی نظر آ رہی ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ علمی ادارے اپنے تشکیل کے مقاصد سے کافی دور ہو تے جا رہے ہیں۔

چنانچہ ہم نے بہ حیثیت قوم مل کراس ناروا جنگ اور تمام علم دشمن رویوں کے خلاف یکجہتی کی آواز اٹھانی ہے خواہ علم کی یہ دشمنی علم ایڈمینسٹریشن کی شکل میں ہو، اساتذہ کی شکل میں ہو، کسی مذہبی فرقے کی شکل میں ہو یا ایک خاص ایجنڈے کے تحت درسگاہوں اور طالبعلموں کی فکری اور سائنسی تحقیق کے راستوں کو مسخ کر کے انہیں سچ کی علم سے محروم رکھنے کی شکل میں ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عبدالرحیم علیزئی کی دیگر تحریریں