نیئر مصطفیٰ : کہانی کا آگھرو دیوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چنیوا اچیبے نے کہا تھا، ”کسی کو یاد کرنا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ عظیم تر! کیوں؟ اس لیے کہ یہ کہانی ہوتی ہے جو جنگجو اور جنگ کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ کہانی سب کو پچھاڑ دیتی ہے۔ کہانی ہمیں راستہ دکھاتی ہے۔ دنیا کی تاریکیوں میں قدم قدم پر موجود باڑوں اور زنجیروں کی دنیا میں کہانی ہمیں یوں تھام لیتی ہے جیسے کسی اندھے کو کوئی راستہ دکھانے والا مل جائے۔ کہانی ہمیں کانٹوں میں الجھنے سے بچاتی ہے۔ کہانی نہ ہو تو پھر ہم اندھے ہیں۔

کہانی ہماری سمت ٹھیک کرتی ہے۔ کہانی امر ہے۔ کہانی آگ کی طرح ہے کہ جب جل نہیں رہی ہوتی تو اپنی ہی راکھ میں سلگ کر سو رہی ہوتی ہے۔ کہانی کا کوئی قدر دان آتا ہے اور اسے پھر سے الاؤ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ کہانی کبھی نہیں بجھتی، کبھی نہیں مرتی۔ جب ہم جوانی کے نشے میں مست ہوتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں کہ کسی کی کہانی بیان کرنا بڑا آسان کام ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی اٹھ کر کہانی سنا سکتا ہے۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا اور پھر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم سب کے اندر کہانی کا تھوڑا بہت حصہ ابل کر بلبلے بنا رہا ہوتا ہے۔

اس کے باوجود جوانی میں ہم ناتجربہ کار ہوتے ہیں۔ ہم بہت سے الفاظ ضائع کر دیتے ہیں اور پھر ایک دن۔ جب ہم پختہ ذہن کے مالک ہوتے ہیں“ آگھرو دیوتا ”آتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آگھرو دیوتا پاگل پن کے دیوتا کا بھائی ہے۔ آگھرو ہماری زبان اندر کر دیتا ہے اور جبڑوں کو بھینچ دیتا ہے۔ یوں ہم کہانی بہتر انداز میں بیان کر سکتے ہیں۔ آگھرو دیوتا جس پر مہربان ہوتا ہے، اس کے دل میں اتر جاتا ہے۔“

ملتان جہاں میں کبھی رہا کرتا تھا، اس وقت بھی ایک خلفشار زدہ شہر تھا۔ میں خود کو اپنی بدترین حالت میں محسوس کرتا تھا۔ شہر کے اوپر چھایا گاڑھا کہرا تمام شہر کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہوتا تھا۔ سرخ ٹائلوں والے کم قد بنگلے، اونچے لمبے پیڑ اور اینٹوں کی باڑ والی پھولوں کی کیاریاں بڑی تلاش کے بعد دیکھنے کو ملا کرتی تھیں۔ عید گاہ اور گول باغ کی باؤنڈری گرل پر لٹکے چمکدار رنگوں والے قالین تک ارد گرد کے گدلے پن میں گم سے ہو کر رہ گئے تھے۔

میں کسی قدر تلخی کے ساتھ سوچا کرتا تھا کہ اس شہر کا ادبی رومان گھسے پٹے مہم جوؤں کی تخلیق سے زیادہ کچھ نہیں۔ اپنے بے ہیئت افلاس کے بڑھتے قد اور شان و شوکت سے بھرپور امنگوں کے تازہ خون میں مجھے یہ شہر دم گھونٹنے والا لگا کرتا تھا۔ اور ایک دن اچانک کہانی کے آگھرو دیوتا سے میری ملاقات ہو گئی۔ میں ایک دم گنگ رہ گیا۔ ابتدائی حیرت سے سنبھل کر جب آگھرو دیوتا کے آگے سیس نوائے، تو نیئر مصطفی نے آگے بڑھ کر گلے لگا لیا۔

نیئر مصطفی سے ملاقات ہونے سے پہلے بھی ملتان کے ادبی حلقوں میں اس کا نام سنا تھا مگر ملاقات نے اس کی شخصیت کی محبوبیت کو اور بڑھا دیا۔ ان دنوں نیئر بہ سلسلہ  روزگار بہاولپور مقیم تھا۔ میں اپنی ذات کے الجھاؤ میں اس قدر الجھا تھا کہ سدھ بدھ کھو بیٹھا۔ بھرے شہر میں کوئی میرا پرسان حال نہ تھا۔ ماسوائے ان ماں بیٹی کے جو ہمیشہ میرا درد مجھ سے چھین کر مسکراہٹ تھما دیتی تھیں۔ ہائے ام الخبائث۔ آہ دختر انگور۔

انہی دنوں گول باغ میں نیئر سے ملاقات ہوئی۔ میں نے اپنے حالات اور روزگار کا رونا رویا، وہ سنتا رہا۔ ملاقات ختم ہو گئی۔ اٹھتے ہوئے میرے کان میں بولا، ”جعفری! بہاولپور آ جا۔“ یہ الفاظ حقیقتاً میرے لیے انقلابی ثابت ہوئے۔ میں آج مڑ کر پیچھے دیکھتا ہوں تو زندگی کا رخ مکمل بدلا نظر آتا ہے۔ تین سال تک میں نیئر کے ساتھ سینگ بھڑائے کھڑا رہا۔ نیئر کی برداشت کی داد نہ دینا نا انصافی ہو گی۔ اس نے بجائے مجھے دھکیلنے کے ان شاخوں کی تراش شروع کر دی جو مجھے اذیت میں مبتلا رکھے ہوئے تھیں۔

بہاولپور میں ہی نیئر کے توسط سے ایک راندۂ درگاہ شخص، قیوم سے ملاقات ہوئی۔ حد در جہ حساس، بے حد تنہا شخص، جو کبھی کسی کو اپنا اندروں نہ دکھا سکا، نہ بتا سکا، نہ کوئی اسے سمجھ سکا۔ قیوم کو مل کر ”انور“ فلم کے ”ماسٹر پاشا“ کی یاد آ جاتی ہے۔ قیوم کو صرف اور صرف نشے میں ہی پناہ مل سکی۔ اپنی اس ذہنی اڑان میں وہ ماسٹر پاشا کی طرح ان گنت روپ دھارا کرتا تھا۔ ان روپ بہروپوں کا وہ اکیلا ہی تماشائی تھا اور تماشائی بھی ایسا ظالم کہ کبھی داد نہ دے سکا خود کو۔ وقت کی تیز دھار ندی نجانے اب اسے کہاں لے گئی ہو گی۔ ان گنت سوال ہوں گے جو سماج کو قیوم سے کرنا ہیں۔ سب منتظر ہیں۔ کوئی نہیں سوچتا کہ اگر اس نے پلٹ کر جواب دے دیا تو کیا ہو گا؟

نیئر سے مل کر مجھے اندازہ ہوا کہ میرا ادبی قد اس کے قد سے کتنا ہیچ تھا، اورشاید اب بھی ہے۔ میں پوری سچائی سے اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے نیئر سے جو پہلا سوال کیا وہ یہ تھا کہ منٹو کا ”ٹھنڈا گوشت“ گھر میں، خصوصاً لڑکیوں والے گھر میں ہونا چاہیے یا نہیں؟ کیونکہ میں نے عمر کے جس حصے میں ”ٹھنڈا گوشت“ پڑھا تھا، اسے پڑھ کر خود وصلی کا شکار ہوا تھا۔ آج بہ فیضان عمر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ مجھ جیسے سوختہ بخت جب جنسی قحط کا شکار ہو کر اپنی جوانی کا رس نکال کر نالیوں میں سپرم بہاتے ہیں اور متوازی دنیا میں کوئی بھی بانجھ عورت کسی حسین بیٹے کی خواہش آشکار کرتی ہے تو یہی سپرم بخارات سے الگ ہو کر اس کی کوکھ میں جا پنپتے ہیں۔

میرا وہ دور بہت سے حوالوں سے عجیب و غریب الجھنوں سے بھرا ہوا ہے لیکن نیئر کی دوستی نے مجھے کچھ اور ہی رخ دے دیا۔ وہ میری زندگی کا بہت اہم کردار ہے۔ اس کے بارے میں میری اپروچ ہمیشہ اولڈ مین کی سی رہی ہے۔ وہ دنیا کو اسی طرح دیکھتا ہے یا زندگی اسے اس طرح کی ملی ہے جس طرح ناول ”Old Man And The Sea“ کے مرکزی کردار سینٹیاگو کو ملی تھی۔ مگر نیئر کا سٹائل منفرد ہے۔ نیئر کے الفاظ اس کے تاثرات سے کبھی بھی الگ نہیں کیے جا سکتے۔ ہر فقرہ مکمل معنویت کے ساتھ ادا کرنا اس کے لیے عام سی بات ہے۔ کیونکہ ہر فقرے کے ساتھ اس کا لہجہ اور آواز مکمل آہنگ رکھتے ہیں۔

میں ملتان کے ادبی حلقوں میں موجود نیئر کی وجۂ شہرت ”کولاج“ کا کبھی بھی حصہ نہیں رہا کہ یہ نیئر کا ذاتی اسلوب اور طریقۂ کار ہے۔ مگر رپورٹ لکھنے کے حوالے سے اس نئی جہت کی اہمیت کا قائل ضرور ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے یہ فخر بھی ہے کہ میں نے جو رپورٹ لکھی، وہ ایک الگ رنگ میں رہی۔ مگر ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں، جناب شاہد زبیر نے نیئر مصطفی کو میرا ادبی رول ماڈل قرار دیاجس پر ظاہر ہے کہ میں بس افسوس ہی کر سکتا ہوں۔

نیئر کا معمولی سا واقف کار بھی آسانی سے بتا سکتا ہے کہ نیئر کبھی بھی Judgmental نہیں ہوا۔ وہ کرداروں کو ان کے پس منظر کے ساتھ دیکھنے کا عادی ہے۔ وہ اپنی کامیابی کا تعین خود کرتا ہے کہ کہاں پر وہ کامیاب ہے، اگرچہ دوسروں کے لیے وہ ناکام ہو سکتا ہے۔ وہ موویز دیکھتا ہے، افسانے لکھتا ہے، وہ انسان دوست ہے، وہ ساری ساری رات پیدل چل سکتا ہے، اگر گفتگو من پسند موضوع پر ہو۔

”نرکھ میں نرتکی“ کا چھلاوہ اور نیئر میرے لیے حیرت کا باعث رہے ہیں۔ ایک نئے لکھنے والے نثر نگار میں اتنی آگ؟ نیئر میں جتنی انرجی ہے شاید ہی کسی اور ادیب میں ہو۔ عام زندگی میں بھی نیئر نے اپنے اردگرد ایک مضبوط ہالہ کھینچا ہوا ہے۔ کوئی بھی بات جو سماج سے نکل کر آئی ہو وہ پہلے اس ہالے میں داخل ہو گی، ہالہ اس کی ڈی کوڈنگ کر کے نیئر تک پہنچائے گا اور نیئر اسے پراسس کر کے Out کر دے گا۔ ایک بار حالات سے تنگ آ کر پوچھا، ”لالے! اچھے دن کب آئیں گے؟“ تب اس نے کہا تھا، ”اچھے یا برے، دن نہیں ہوتے، ہم ہوتے ہیں۔ دن تو بس گزر جاتے ہیں۔“ میں نے سوچا کہ بکواس کرتا ہے۔ 17 سکیل کا افسر بن کے کہنا کتنا آسان ہے۔ میری جگہ آ کے بولے تو مانوں۔ نیئر میری جگہ تو کبھی نہیں آیا مگر میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق مشکل سے مشکل گھڑی کو بھی آسانی سے گزار گیا۔

افسانہ لکھنے پہ آئے تو کمال کر دیتا ہے۔ عبدالغنی جیکسن جیسا افسانہ تب ہی لکھا جا سکتا ہے جب سو نقاد مرے ہوں۔ میری شدید خواہش تھی کہ یہ افسانہ میں لکھوں۔ مگر نیئر نے پہلے لکھ لیا کیونکہ وہ جینوئن آدمی ہے۔ کرشن چندر کہتا ہے کہ رات میں بہت سے شہر ایک جیسے لگتے ہیں۔ جیسے بہت سی عورتیں ایک سی لگتی ہیں۔ جیسے بہت سی سڑکیں ایک سی لگتی ہیں۔ پر میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر کرشن چندر، نیئر کے ساتھ سرکٹ ہاؤس روڈ اور سرکلر روڈ بہاولپور پر ایک رات گزارے تو وہ کبھی بھی اس سڑک اور شہر کو دوسرے شہروں اور دوسری سڑکوں سے نہیں ملا پائے گا کیونکہ نیئر کہانی کی انگلی پکڑ کر جب سڑک پہ سفر شروع کرتا ہے تو وہ یہ سفر اتنے انہماک سے کرتا ہے کہ باقی سب کچھ فراموش کر دیتا ہے۔ آپ نیئر کے دامن کو مضبوطی سے پکڑ کر تقریباً بھاگتے ہوئے اس کے ہمرکاب ہوتے ہیں۔

نیئر کی کہانی ماضی اور حال کے درمیان کی کڑی ہوتی ہے۔ ان کہانیوں کا تعلق اس کے افسانوی مجموعوں سے ہرگز ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ کہانیاں اس نے اپنی بالکنی میں بیٹھ کر نہیں لکھیں، بلکہ زندگی کے ملبے سے برآمد کی ہیں۔ کہانی پہلے آہستہ، پھر کچھ تیز، پھر اور تیز، پھر مدار میں گھومنے لگتی ہے۔ یہ مدار سینٹر ل چوک کا پرتو بھی ہو سکتا ہے اور ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری کا عکس بھی۔ کہانیاں مدار میں اپنا رخ متعین کرتی ہیں۔ ہر رخ کا اپنا نام ہے۔ ان کہانیوں میں نیئر آپ کو بیک وقت دیوانہ، اناڑی، آوارہ، آزاد، لیڈر، ہیرو، جوکر نظر آئے گا کہ آگرو دیوتا کا اپنا کوئی چہرہ نہیں ہوتا۔ وہ چہرے بدل کر آتا ہے اور بدلتا چلا جاتا ہے۔ ہر چہرہ ایک مکمل کردار کا عکاس ہوتا ہے۔

وہ یکجا کیے گئے رنگوں سے تصویر بناتا ہے اور بدنام روحوں کو انتساب کرتا ہے۔ وہ مجسمے بناتا ہے جن کے وجود پر ایسے سنگریزے نمایاں ہوتے ہیں، جو محبت کو نفرت پر غالب آنے کا عندیہ دیتے ہیں۔ وہ سر پھرا درویش ہے جو کبھی بھی اپنی بیعت نہیں کروانا چاہتا۔ وہ چاہتا ہے تو فقط اتنا کہ انسان مکمل ہو جائے۔ جبکہ وہ خود کو بس اتنا ہی دیکھتا ہے جیسے ایک لاپروا معشوق اپنے عاشق کو سرسری نظر سے دیکھتی ہے۔ نیئر اپنی کہانیوں میں خوش رہتا ہے، مطمئن دکھائی دیتا ہے۔ ان کہانیوں میں ماضی بھی اپنی جھلک دکھاتا ہے اور ماضی ہمیشہ حسین لگتا ہے۔ ماضی بھی وہ نہیں جو حقیقت ہے بلکہ وہ جس کے اوپر ناسٹلجیا کی دبیز تہیں چڑھا دی جائیں (ناسٹلجیا میری ذاتی فیلنگ ہے ) ۔

کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ کوئی شے بھی کلاسک نہیں ہے۔ کلاسیکیت بعد میں یادوں کے لعاب سے جوڑی جاتی ہے۔ چیز جتنی پرانی ہو جائے، لعاب اتنا بڑھتا جاتا ہے اور کلاسیکیت اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو نیئر کے افسانوں کی صورت میں ہم مستقبل قریب یا بعید کی کلاسک چیزوں کو انجوائے کر رہے ہیں۔ نیئر اپنے افسانوں میں تکنیک اور اسلوب کے جو تجربات کر رہا ہے، ہو سکتا ہے وہ میرے جیسے معمولی قاری کو عام افسانے لگیں، لیکن عین ممکن ہے کہ آنے والی نسل ان کو کلاسیکیت کے شاہکار سمجھ لیں اور نیئر کو لیجینڈ کا خطاب بھی دے ڈالیں۔

ایک اچھے تخلیق کار کی نشانی یہ بھی ہے کہ اس کا کام ہر دور میں کلاسک کا درجہ رکھے اور اس کی تخلیق تمام زمانوں میں اپنے منفرد، جداگانہ اور اچھوتا ہونے کا ثبوت دے۔ فنون لطیفہ میں مزاح کا فن اور سلیقہ ہر دور میں بدلا ہے۔ نیئر کے نثرپاروں کے حرف آغاز میں مزاح کی زیریں تہہ نظر آتی ہے جس میں زمانے قید ہیں اور ہر دور کے انسان کو محظوظ کرنے کی خوبی بھی، مگر یہ رنگ صرف اس کے اسلوب کی حد تک ہے۔ کردار کی شناخت اور حیثیت پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ کردار مکمل آزادی لیے ہیں۔ نیئر کے افسانوں میں کردار زیادہ چیزوں سے نہیں بنائے گئے۔ بس ایک Feel ہوتی ہے۔ اگر یہ Feel آپ نے محسوس کر لی تو پورے کا پورا افسانہ قاری کو کسی سحر طاری کر دینے والے ماحول میں لے جائے گا۔

الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں، کچھ غلامی، کچھ حفاظت، کچھ وار، مگر نیئر کے ساتھ رہ کر سمجھ آیا کہ لفظ کا اپنا مکمل وجود بھی ہوتا ہے، جو صرف معنی ہی نہیں رکھتا بلکہ دانت بھی رکھتا ہے جو کاٹ سکتے ہیں، ہاتھ بھی رکھتا ہے جو گریبان کو پھاڑ دیتا ہے۔ ا ب اگر نیئر کے الفاظ کے ہاتھوں میں لہجے کا اسلحہ تھما دیا جائے توکیا ہو گا۔ چند فقرے ملاحظہ کیجئے :

1۔ زرتشت! تم آگ کے شعلوں کو ہوا دے کر کہاں چلے گئے؟ میں تنہا جلوں اور اہرمن تماشا دیکھے؟
2۔ یزداں نے آخری بار اپنی راکھ سمیٹی اور انصاف کی شکستہ کرسیوں پر اوندھا لیٹ گیا۔
3۔ سب سے پہلے تو یہ جاننا ہو گا کہ میری ذات کا پھیلاؤ زیادہ ہے یا جہنم کا۔
4۔ خاموش رہیے! دوران تنقید آپ ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے۔
5۔ لاہور، منٹو کی رنڈی جیسا ہے میری جان۔
6۔ یہاں تک کہ دھڑکن اور زندگی کا معاشقہ پھر سے اپنی پرانی ڈگر پہ لوٹ آیا۔

ایسے ظالم فقرے قاری کا دھڑن تختہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب جب اس نے اپنے تمام مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کام پر نظر ثانی کا سلسلہ شروع کیا ہے تو میں نے سوچا کہ کیا کہانی دوبارہ لکھی جا سکتی ہے۔ یقیناً لکھی جا سکتی ہو گی مگر یہ نئی کہانی کی حق تلفی ہو گی۔ اسی ادھیڑ بن میں انتظار حسین کے جملے کانوں میں گونجے :

” تو کیا مجھے اپنی پچاس برس ادھر کی لکھی ہوئی کہانی دوبارہ لکھنی چاہیے مگر مجھے کرن کی کہی ہوئی ایک بات یاد آ رہی ہے۔ اس سانپن کو جو اشوسین ناگ کی ماں تھی، ارجن نے کھانڈو بن میں مارا تھا۔ جب کرن ارجن پر تیر چلانے لگا تو اشوسین نے سوچا کہ یہ اچھا موقع ہے بدلہ لینے کا۔ وہ پاتال سے سرسراتا آیا اور کرن کے تیر کے گرد لپٹ گیا۔ مگر کرشن جی کی ایک چال سے ارجن کا رتھ عین اسی وقت زمین میں دھنس گیا اور کرن کا تیر خطا ہو گیا۔

اشوسین ناگ نے کرن سے درخواست کی کہ مجھے تیر میں دوبارہ جوڑ اور پھر سے چلا۔ کرن نے کہا کہ میں چلے ہوئے تیر کو دوبارہ چلے میں جوڑنے کا قائل نہیں۔ وہ تیر خطا ہو گیا تو اس کی قسمت۔ میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں جو کہانی خطا ہو گئی ہے اسے دوبارہ لکھنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ ہاں کرنی چاہیے۔ کتنی ہچر مچر کے بعد میں طے کرتا ہوں کرن کی بات کرن کے ساتھ گئی۔ مجھے اس کہانی کو دوبارہ لکھنا چاہیے۔ نہیں، یہ کہانی تمہارے ہاتھ سے نکل گئی ہے اب اسے کوئی اور لکھے گا!

[انتظار حسین، دائرہ، مشمولہ شہرزاد کے نام، سنگ میل پبلی کیشنز۔ لاہور، 2002 ء، ص 8 ]

گویا طے ہوا کہ کوئی مضائقہ نہیں کہ کہانی کو دوبارہ لکھا جا سکتا ہے، اگر کوئی دوسرا لکھے، مگر کون دوسرا؟ تو نیئر نے پینترا بدلا۔ وہ مصنف کی موت پر قاری کی پیدائش کا جشن مناتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ ”وہ دوسرا میں ہوں“ ۔ اور اس نے کہانی کو از سر نو لکھا اور خوب لکھا کہ ”لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے۔“ میں ہر افسانہ پڑھ کر کچھ دیر کے لیے ٹھہرتا ضرور ہوں لیکن دوبارہ لکھے جانے والی کہانی پڑھ کر لگتا ہے کہ بات صرف کچھ دیر ٹھہرنے سے نہیں ٹلے گی کہ ان کہانیوں کا نزول تو مستقل قیام کے ارادے سے ہوا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کہانی اپنے مزید مفاہیم سے آشنا کروانے آئی ہے۔ تو میں خوش ہوں کہ اب کہانی کبھی جدا نہیں ہو گی۔ کہانی کے آگھرو دیوتا نے اب کے ”قاری کی پیدائش“ کی صورت میں نیا روپ دھارا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مقصود جعفری کی دیگر تحریریں