کس نے کہہ دیا کہ مہنگائی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


عمران خان پاکستان کے وہ واحد حکمران ہیں جن کے متعلق ”میر“ دو صدی پہلے ہی فرما گئے تھے کہ
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا

گزشتہ 22 برسوں سے انھوں نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ پتھر کی لکیر ثابت ہوا ہے۔ وہ تو وہ، ان کے ایک وفاقی وزیر فیصل واڈا صاحب بھی ان ہی کی طرح پہنچے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات بھی آج تک غلط ثابت نہیں ہو سکی۔ اقتدار میں آنے سے 22 سال قبل عمران خان نے ہی یہ پیش گوئی فرمادی تھی کہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم بن کر رہیں گے اور ٹھیک 22 برس بعد بالآخر وہ پاکستان کے وزیر اعظم بن ہی گئے۔ فیصل واڈا صاحب نے 2013 سے یہ دعویٰ کر دیا تھا کہ کراچی کو 2018 تک ہمارے حوالے کر دیا جائے گا اور پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ ٹھیک 2018 میں ہی کراچی پی ٹی آئی کے حوالے کر دیا گیا۔

پی ٹی آئی کے سربراہ جو اس وقت ملک کے بھی وزیر اعظم ہیں، صرف وہ ہی پیر کامل نہیں، ان کے گھر میں بھی اللہ تعالیٰ کے بہت بر گزیدہ افراد رہتے ہیں جو صرف ایک ہی سلائی مشین سے کھربوں کے مالک بن جانے میں کمال رکھتے ہیں اس لئے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ جو کچھ فرمائیں اس کو غلط کہا جا سکے لہٰذا اگر وہ یہ فرماتے ہیں کہ ملک میں کہیں بھی اور کسی مقام پر بھی مہنگائی کا نام و نشان تک نہیں تو پھر کیسے مان لیا جائے کہ 22 کروڑ عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ اس قسم کی ہر بات نہ صرف لغو اور جھوٹ پر مبنی ہے بلکہ یہ ان کے مخالفین کی افواہیں ہیں جو وہ ملک میں پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

مہنگائی کہا کسے جاتا ہے، جب یہ بات تک عام لوگوں کو نہیں معلوم تو پھر وہ مہنگائی کے اصل مفہوم کو سمجھ بھی کیسے سکتے ہیں۔ اگر آج سے 72 سال پیچھے کی جانب ہی نظر بھر کر دیکھ لیا جائے تو ہمارے ایک روپے کا 192 واں حصہ یعنی ایک ”پائی“ کی بھی ڈھیروں چیزیں مل جایا کرتی تھیں اور لوگ ایک پائی کا ہیر پھیر کرنے والے کے ساتھ بھی لڑنے مرنے پر تیار ہوجایا کرتے تھے۔ آج یہ عالم ہے کہ 10 روپے کے بعد 50 روپے کا سکہ بازار میں لانے کی تیاری ہو رہی ہے لیکن لوگوں کا عالم یہ ہے کہ وہ پانچ دس تو کیا اکثر اوقات سو پچاس کی ہیر پھیر کو برداشت کر جاتے ہیں۔ جب لوگوں کی نظر میں سو روپے کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہو تو عوام کو خود فیصلہ کر لینا چاہیے کہ مہنگائی واقعی ہے یا اتنی خوش حالی کی کہ لوگوں کی نظر میں اسٹیٹ بینک سے جاری ہونے والے سب سے بڑے 5 ہزار روپے والے نوٹ کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔

خوشحالی وہ تھی جب سو روپوں میں 6 کلو آلو، 5 کلو پیاز، اور ایک ایک کلو کی چار پانچ سبزیاں خرید کر لوگ گھر لے جایا کرتے تھے یا خوش حالی یہ ہے کہ یہی ساری اشیا ڈیڑھ دو ہزار میں خرید کر لوگ اپنی آنکھوں میں خوشی کے آنسو سجائے اپنے اپنے گھروں کی جانب جا رہے ہوتے ہیں۔

یہ اپوزیشن والے بھی بہت کمال کے ہیں۔ ایک عالم تھا جب ایک ڈالر کے عوض بصد مشکل 90 روپے ملا کرتے تھے اب انھیں بینک 170 روپے ادا کرتا ہے۔ اب کوئی بتائے کہ ڈالر کی قدر بڑھ جانے سے غریبوں کو فائدہ ہوا یا نقصان۔ کتنے لاکھ افراد پٹرولیم مصنوعات سے وابستہ ہیں، اس کی قیمت میں اضافے سے ان کے گھروں میں خوشیاں آئیں یا بد حالی۔ کیا سبزی فروشوں، تاجر حضرات، کارخانہ داروں، شوگر مل مالکان، زراعت سے وابستہ کروڑوں لوگوں کے بیوی بچے نہیں ہوتے، کیا مہنگائی بڑھ جانے اور پیداوار کی قیمتوں میں اضافہ ہوجانے کی وجہ سے ان سب کی آمدنیوں میں اضافہ نہیں ہوا ہوگا مگر اپوزیشن کرنے والوں کو تو ہر بات میں ہمیشہ کیڑے ہی نظر آتے ہیں۔

اپوزیشن والوں کو سوچنا چاہیے کہ مہنگائی کی وجہ سے ہی تو میری، صدر مملکت، ارکان پارلیمنٹ اور سینیٹ کے ممبران کی تنخواہوں میں چار چار سو فیصد اضافہ کرنا پڑا تو کیا مجھ سمیت ان سب کے بیوی بچے نہیں ہوتے۔ کیا ان سب معززین کی تنخواہوں میں اضافہ ملک کی عزت و قار میں اضافہ نہیں۔ رہے سرکاری ملازمین تو ان کی تنخواہوں میں گزشتہ حکمرانوں نے پہلے ہی اتنا اضافہ کیا ہوا تھا کہ ان کی گردنوں میں سریوں نے جگہ بنانا شروع کر دی تھی اسی لئے وہ ہوشربا مہنگائی کے باوجود ابھی تک زندہ و سلامت ہیں۔

ویسے بھی ان کا گزارا پہلے کون سا ”سوکھی“ تنخواہ پر ہوتا تھا جو اب ان کا گزارا نہیں ہو سکتا۔ ان کی ”اوپر“ کی آمدنی کے کیا اب بھی وہی ریٹ رہے ہوں گے ۔ کیا پورے ملک کی پولیس صرف تنخواہوں پر ہی گزر بسر کیا کرتی تھی اور کیا دکانوں، مارکٹوں، ٹھیلوں اور چھابڑیوں والوں سے وہ پہلے جتنا ہی بھتا لیا کرتے ہوں گے ۔ مزدوروں نے مزدوری، ہنرمندوں نے اپنے ہنر کے چارجز اور حد یہ ہے کہ رکشا، ٹیکسی ڈرائیوروں نے اپنے ریٹ بڑھا دیے تو پھر اپوزیشن والوں کو کوئی یہ بتائے کہ پورے ملک میں سوائے ان ایماندار ملازمین کے جو صرف اپنی تنخواہوں پر ہی گزرا کرتے ہیں، مہنگائی کا اثر کیا کسی پر پڑا ہوگا۔

یہ ”دیانتدار اور ایماندار“ پورے ملک میں ہیں ہی کتنے اور پھر ہمارے ملک میں کس نے کہا ہے کہ ایماندار زندہ رہیں لہٰذا خان صاحب کا کہنا بالکل درست ہی ہے کہ مہنگائی اتنی نہیں جتنا اپوزیشن شور مچا رہی ہے اس لئے عوام کو چاہیے کہ وہ ان کی باتوں پر بالکل کان نہ دھریں۔ جب ہم نے ہر نیک و بد کو مادر پدر آزادی دے رکھی ہے تو ہر فرد کو اجازت ہے کہ وہ کھلا کھائے۔ ان کو ہر معاملے میں مکمل آزادی حاصل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •