میرے کتبے پہ میری حسرتوں کی فہرست لکھی جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


موت سے کسے مفر ہے۔ ہر جاندار نے ایک نہ ایک دن مر جانا ہے۔ جو بھی اس دنیا میں آیا۔ اسے اس دنیا سے جانا ہی ہے۔ موت واقعی ہی زندگی کے سربستہ رازوں میں سے ایک راز ہے۔ بقول جون ایلیا

کتنی دلکش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

موت کے نام سے مجھے بس یہی سمجھ آتا ہے کہ کسی دن چلتے پھرتے، سوئے ہوئے، سفر کرتے یا ہنستے روتے اچانک ہی سانس آنا بند ہو جائے گا۔ بس سانس بند تو میری کہانی جو چل رہی ہے۔ وہ وہیں ختم ہو جائے گی۔ میری کہانی میں میرے ساتھ جڑے کردار ایک سانس بند ہونے سے اڑن چھو ہو جائیں گے۔ ان کے لیے میں ایک یاد رہ جاؤں گی۔ اچھی یا بری، یہ تو ان کرداروں کو ہی پتہ ہو گا۔

غلام عباس کا افسانہ کتبہ پڑھتے ہوئے مجھے ہمیشہ یہی محسوس ہوا کہ میں بھی تو شریف حسین ہی ہوں۔ جو چلتا پھرتا ضرورتیں پوری کرنے کے لیے بھاگتا ایک انسان ہے۔ جس کے کندھوں پہ ذمہ داریوں کی گٹھری ہے۔ ہاتھ خالی ہیں۔ لیکن حوصلے چٹانوں جیسے ہیں۔ شریف حسین کا دکھ تو غلام عباس نے لکھ دیا۔ ایک عورت کے کتبے پہ کیا لکھا جانا چاہیے۔ کیا یہ کہ یہاں وہ عورت دفن ہے جو تمام عمر اپنے آپ کو جنس نہیں، انسان کی بنیاد پہ منوانے کی کوشش کرتے کرتے زندگی کی بازی ہار گئی۔ یا یہ کہ یہاں حسرتوں کی گٹھری سو رہی ہے۔ جسے عرف عام میں عورت کہتے ہیں۔

قبرستان سے گزرتے ہوئے میری کیفیات مختلف ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے۔ کہ یہ کتنے سکون سے سو رہے ہیں۔ کبھی میں سوچتی ہوں۔ یہ جتنی قبریں ہیں ان میں دفن ہوئے لوگوں کی حسرتوں کا انہی کو پتہ ہے، جو ان میں دفن ہیں۔ کتنی خواہشات، محبت کے قصے، خوشیاں اور غم منوں مٹی تلے دب گئے۔ سنگ مرمر کے کتبے جن پہ جانے والوں کی تاریخ پیدائش اور موت کی تاریخ تو درج ہوتی ہے۔ مگر یہ درج نہیں ہوتا کہ مرحوم یا مرحومہ نے زندگی کا بوجھ کیسے ڈھویا۔

میں نے اپنے مرنے کے بعد میرے ساتھ کیا کرنا ہے۔ سب کو بتا رکھا ہے۔ میں اپنے آرگنز ڈونیٹ کر چکی ہوں۔ تو میں بار بار یہ کہتی ہوں کہ مجھے میرے کارڈ کے ساتھ کسی نزدیکی ہاسپٹل پہنچا دینا۔ بریانی زردے کی دیگیں پکوانے کی بجائے کسی کے گھر راشن ڈلوا دینا۔ کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کر دینا۔ جو مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ ان کو میں کہتی ہوں کہ میری قبر پہ ایک لال گلاب رکھ دینا۔ اور کچھ نہیں۔ اب یہ بھی کون جانے کہ وہاں کتنے گلاب رکھے جائیں گے۔ یا ایک بھی نہ ہو گا۔

میں نے اپنا کتبہ لکھوا کے رکھنا ہے۔ جس پہ مندرجہ بالا تحریر درج ہو گی۔

”یہاں وہ عورت دفن ہے۔ جو مرنے کے بعد جسمانی طور پہ اب یہاں دفن ہوئی ہے۔ مگر زندگی نے جیتے جی کئی قبریں اس کے سینے میں بنائے رکھیں۔ کئی حسرتوں کی قبریں۔ محبتوں کی قبریں۔ جو زندگی کو جینا چاہتی تھی۔ مگر زندگی نے اسے ایک کے بعد دوسرے کھیل میں الجھائے رکھا۔

یہاں ان تمام عورتوں کی ترجمان دفن ہے۔ جو آزادی سے سانس لینا چاہتیں تھیں۔ مگر ان کی خواہشات معاشرے اور خاندان کے دباؤ کے نیچے دب گئیں۔ جو کئی ایسے فیصلے لیتے لیتے رک گئی، جن سے اس کے پیاروں کو تکلیف پہنچتی۔

یہاں وہ عورت دفن ہے جس نے احساس کے جذبے کے ہاتھوں ذلت اٹھائی۔ جس کے خواب بہت بڑے بڑے اور اونچے تھے۔ مگر اس کے اردگرد کے لوگ بڑے بونے اور چھوٹے تھے۔ جو محبت کرنا جانتی تھی۔ نبھانا جانتی تھی۔ مگر اس کے لیے محبت کہیں نہ تھی۔ جس نے اچھی شکل و صورت کی بڑی بھاری قیمت چکائی۔ گھٹے ہوئے سماج کی باغی عورت جس سے بغاوت کرنے کی قیمت اس کی سیلف ریسیکٹ کا بلاناغہ ریپ کر کے لی جاتی رہی۔ جس کی ہر خواہش کو روند دیا گیا۔ جسے بھیڑ میں گم کر دیا گیا۔

یہاں دفن عورت کا اس کتبے کو پڑھنے والوں کے نام یہ پیغام ہے کہ عورت کو انسان تسلیم کیا جائے۔ اسے کھل کے جینے دیا جائے۔ یہاں دفن عورت یہ چاہتی ہے کہ عورتوں اپنے سینوں میں کھودی گئی قبروں میں زندہ رہنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ انہیں کھل کے جینے دیا جائے۔ یہاں کسی کی جیا دفن ہے۔ یہاں بس محبت دفن ہے۔ یہاں وہ سمرن دفن ہے جسے کسی نے نہیں کہا۔ کہ جا جی لے اپنی زندگی۔ اور یہاں وہ عورت دفن ہے۔ جو ایک بہترین ایکٹر تھی“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •