جنسی بے حرمتی: آخر قصور کس کا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت سے لوگ جنسی بے حرمتی کے بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں، کچھ لوگ اپنے ساتھ ہوئی جنسی بے حرمتی کو اپنے آپ سے بھی چھپاتے ہیں۔ وہ یا تو دل ہی دل میں اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور شرمندہ محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ساتھ جنسی بے حرمتی کیسے ہونے دی یا ان کا کامل یقین ہوتا ہے کہ وہ اتنے کم اہم ہیں کہ جنسی زیادتی یا بے حرمتی ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ لیکن کچھ ایسے بہادر بھی ہوتے ہیں جو جنسی استحصال اور پامالی کو رپورٹ کرتے ہیں اور کوئی ان کو سنجیدہ نہیں لیتا یا ان کا یقین نہیں کرتا۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ موضوع اس قدر تکلیف دہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کو بھول چکے ہیں بللکہ دوسروں کے ساتھ ہوئی زیادتی کو بھی سراسر جھوٹ قرار دیتے ہیں۔

بہرحال جنسی استحصال یا بے حرمتی ایک گھناؤنا جرم ہے اور اس کے اثرات بہت بری طرح ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر مرتب ہوتے ہیں۔

ویسے بات تو کچھ اس طرح شروع ہونی چاہیے کہ، آئے دن یہ جنسی چھیڑ چھاڑ، جنسی ہراسانی، جنسی تشدد اور جنسی بدکاری کے واقعات کیوں ہو رہے ہیں؟ اس کے پیچھے کیا اسباب ہیں اور اس کے اثرات کسی کی شخصیت پر کس طرح مرتب ہوتے ہیں؟

بدقسمتی سے ہمارے یہاں بات اکثر کچھ اس طرح شروع ہوتی ہے کہ، ہمارے وقتوں میں حالات اتنی برے نہیں تھے۔ یہ سب انٹرنیٹ اور مغربی طرز زندگی کا اثر ہے۔ بہت سے ستم گر تو عورت کی خود مختاری اور آزادی کو بھی اس کی وجہ سمجھتے ہیں۔ اور عورت کی قید و بند کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ مان کر یہ تک کہہ ڈالتے ہیں کہ عورتیں اور لڑکیاں اسیے رویوں کو مردوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خود بڑھاوا دیتی ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ جنسی چھیڑ چھاڑ، تشدد، ہراسانی اور بد فعلی بچوں، نو عمر لڑکوں، عورتوں، خواجہ سراؤں اور جانوروں کے ساتھ ہمیشہ سے ہوتی آئی تھی۔ مگر عورتوں کی معاشی آزادی اور خود مختاری اب اس جمے جمائے کھیل کا تختہ الٹ رہی ہے۔ پہلے عورتوں اور بچوں کے ساتھ جن جنسی زیادتیوں کا بیان کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اب ان بدبو دار گٹروں کے ڈھکن کھولے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے بچپن اور لڑکپن میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بھی نہیں تھا، لہذا راز فاش ہونا اتنا آسان نہ تھا جیسے کہ اب ہے۔

عام فہم الفاط میں اگر جنسی چھیڑ چھاڑ (Molestation)، جنسی ہراسانی (Sexual Harassment)، جنسی تشدد (Sexual Violence)، جنسی زیادتی (Sexual Abuse) اور جنسی بد فعلی (Rape) کے بارے میں فرق جاننے کی کوشش کی جائے تو فرق کچھ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔

جنسی چھیڑ چھاڑ Molestation : اٹھارہ سال سے کم عمر بچے اور بچیوں کی شرم گاہوں کو غلط انداز سے چھونا، ان کی تصویریں اتارنا یا ان کے سامنے جنسی فعل کرنے کی کوشش کرنا، جنسی چھیڑ چھاڑ یا molestation کے زمرے میں آتا ہے۔

جنسی زیادتی sexual abuse : کوئی بھی جنسی سرگرمی جو دوسرے فریق کی مرضی کے بغیراس کے ساتھ کی جائے یا اس سے کروائی جائے۔ مثال کے طور پر کسی کو (اس کی مرضی کے بغیر یعنی نازیبا طریقے سے چھوا جائے یا اپنے آپ کو چھونے پر مجبور کیا جائے جنسی زیادتی ہے۔

جنسی ہراسانی sexual harassment : کسی سے جنسی فعل کرنے کی کوشش کی جائے اور انکار کی صورت میں برے نتائج کی دھمکی دی جائے۔ جیسے کہ نوکری سے نکالنے کی دھمکی دینا یا کسی دوسری طرح سے ڈرایا یا دھمکایا جانا ایک طرح کی جنسی ہراسانی ہے۔

دوسری طرح کی جنسی ہراسانی جو کہ بہت عام ہے، وہ کسی کی مرضی کے بغیر اس کو دیکھنا یا گھورنا، فحش جملے کسنا، گانے گانا، چھونے کی کوشش کرنا، دوسرے کے جسم پر ہاتھ پھیرنے کی کوشش کرنا، اپنے ساتھ سیر و تفریح کرنے پر مجبور کرنا۔ جنسی بنیاد پر تفریق کر کے مذاق اڑانا۔

جنسی بد فعلی اور تشدد :sexual violence and Rape : کسی کے ساتھ اس کی مرضی کے بغیر جنسی فعل (inter course) کرنا۔ جسمانی طور اور ذہنی طور پر اس پر دباؤ ڈالنا، جسم کو قابو میں کر کے اس کے زبانی انکار کو نظر انداز کرنا۔ زدوکوب کرنا اور جنسی عمل انجام دینا۔ یہ سب جنسی بد فعلی کہ زمرے میں آتا ہے چاہے وہ کوئی اپنے شریک حیات کے ساتھ ہی کیوں نہ کرتا ہو۔

اگر پاکستانی معاشرے میں جنسی پامالی کے اسباب میں چیدہ چیدہ چیزوں کا تذکرہ کیا جائے تو ان میں سب سے پہلی چیز ہے

1۔ طاقت کا غیر منصفانہ نظام : عورتوں بچوں، کم عمر لڑکوں اور خواجہ سراؤں کا سماج میں کم رتبہ اور معاشی طور سے کمزور ہونا۔

2۔ نفسیاتی، جنسی اور جسمانی صحت سے متعلق آگاہی کا فقدان۔
عورتوں اوربچوں اور خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق قوانین کا فقدان یا ان قوانین کا احترام نہ ہونا۔
3۔ صحت اور جنسی تعلیم کا فقدان۔
4۔ تفریح کے مواقع کا فقدان۔
5۔ سماجی پابندی: اپنے ہم عمر افراد کے ساتھ جنسی میل جول بڑھانے کے مواقع نہ ہونا۔

عموماً یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ جنسی پامالی کا خطرہ اجنبیوں یا باہر والوں سے ہوتا ہے مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ زیادہ تر جسمانی پامالی کے واقعات قریبی رشتے داروں، دوستوں اور گھر والوں کے ہاتھوں سرزد ہوتے ہیں۔

جنسی پامالی کے اثرات اکثر بہت دور تک جاتے ہیں۔ کبھی کبھی روح کے یہ زخم زندگی بھرنہیں بھر پاتے اورمزید نفسیاتی الجھنوں اورجسمانی بیماریوں کی صورت میں زندگی بھر ہمارا پیچھا کرتے ہیں۔ عام طور سے کسی بھی قسم کی جنسی بے حرمتی کا شکار افراد میں یہ ذہنی صحت اور شخصی مسائل پیدا ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ ہر جنسی بے حرمتی کے نتیجے میں نفسیاتی مسائل پیدا ہوں مگراکثر جنسی بے حرمتی سے متاثر افراد، انزائٹی، ڈپریشن، post traumatic disorder، eating disorders اور دوسرے personality disorders کا شکار ہوسکتے ہیں۔

جنسی بے حرمتی کے شکار افراد میں نشے کے عادی ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ خود اعتمادی کی کمی، دوسروں پر اعتماد کرنے میں مشکل ہونا، طبعیت میں ٹکراؤ ہونا اور ٹھہراؤ نہ ہونا۔ اپنے آپ کو اور دوسروں کو جسمانی اور ذہنی نقصان پہچانے سے گریز نا کرنا، خطروں سے کھیلنے کی کوشش کرنا۔ ذرا سی بھی پریشانی سے بہت زیادہ گھبرا جانا۔

جنسی پامالی ایک گھناؤنا جرم ہے اور ہم سب کبھی نہ کبھی اور کسی نہ کسی طرح سے اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس جرم کے متعلق اپنے بچوں میں آگاہی پیدا کریں ان کی حفاظت آپ پر فرض ہے اپنا فرض پورا کریں، تاکہ ان کی روح ان صدمات سے دو چار نہ ہو جس سے ہماری نسل اورہم سے پہلے کی نسلیں گزریں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •