ڈونلڈ ٹرمپ: وائٹ ہاؤس سے رخصتی کے بعد صدر ٹرمپ مستقبل میں کیا کیا کر سکتے ہیں؟

جیسیکا مرفی - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈونلڈ ٹرمپ ہر صورت 20 جنوری تک وائٹ ہاؤس میں بطور صدر موجود رہیں گے۔ اس روز کی شب وہ اپنے جانشین (امریکی صدارتی انتخاب 2020 کے متوقع نتائج کے مطابق جو بائیڈن) کو صدارت منتقل کر دیں گے اور سابق امریکی صدور کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔

تو پھر ایک معروف کارویاری شخصیت اور سیاستدان بلکہ سابق صدر کے طور پر ٹرمپ کا مستقبل کیا ہو گا؟

ان کے پاس کئی راستے ہیں۔ وہ پُرجوش تقاریر کرنے والے سپیکر بن سکتے ہیں، صدارت سے متعلق اپنے تجربات پر کتاب لکھ سکتے ہیں یا اپنے نام سے منسوب ایک صدارتی لائبریری کا منصوبہ سوچ سکتے ہیں۔

جمی کارٹر نے انسانی حقوق کے تحفظ کا راستہ اپنایا جبکہ جارج ڈبلیو بش نے ہاتھ میں پینٹ برش تھام لیا۔ لیکن ٹرمپ کبھی روایتی سیاستدان نہیں رہے تو ان سے کسی روایتی سیاستدان جیسے مستقبل کی توقع کیوں کی جائے۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں مارکیٹنگ کے پروفیسر ٹِم کالکنز کا کہنا ہے ’ڈونلڈ ٹرمپ نے بطور صدر کئی روایات توڑی ہیں۔

’یہ سوچنے کی کوئی وجہ نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک عام سابق صدر جیسا رویہ اپنائیں گے جو ہم ماضی میں دیکھ چکے ہیں۔‘

ممکنہ طور پر ہم یہ دیکھ سکتے ہیں:

وہ دوبارہ صدارتی دوڑ میں حصہ لے سکتے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ امریکی صدارتی انتخاب 2020 سے ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی خواہشات کا اختتام نہ ہوا ہو۔ وہ اپنے دوسرے دور کے لیے دوبارہ صدارتی دوڑ میں حصہ لے سکتے ہیں۔

امریکہ کی تاریخ میں گروور کلیولینڈ وہ واحد صدر تھے جنھوں نے وائٹ ہاؤس سے رخصت کے بعد چار سال انتظار کیا اور 1893 میں دوبارہ منتخب ہوئے۔ ان کا پہلا دور 1885 میں شروع ہوا تھا۔

امریکی آئین میں درج ہے کہ کوئی بھی دو مرتبہ سے زیادہ صدر نہیں رہ سکتا۔ لیکن اس حوالے سے کوئی شرائط نہیں کہ ایسا مسلسل دو ادوار میں کرنا لازم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے انکار کر دیا تو کیا ہو گا؟

امریکی صدارتی انتخاب 2020: ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کیوں ہوئی؟

صدر ٹرمپ کے ساتھ گزرا وہ دن جب وہ انتخاب ہارے

جو بائیڈن: وہ سیاستدان جنھیں قسمت کبھی عام سا نہیں رہنے دیتی

امریکہ کی پہلی خاتون اور غیر سفیدفام نائب صدر منتخب ہونے والی کملا ہیرس کون ہیں؟

ٹرمپ کے سابق ساتھیوں نے بھی یہی کہا ہے کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں

ٹرمپ کے سابق چیف آف سٹاف مِک ملوانے کہتے ہیں کہ ’میں ٹرمپ کو ان لوگوں کی فہرست میں رکھوں گا جو 2024 میں صدارتی دوڑ میں حصہ لے سکتے ہیں۔‘

ٹرمپ واضح طور پر انتخابی مہم کی ریلی میں حصہ لینا پسند کرتے ہیں اور انھیں اس کے بدلے سات کروڑ 15 لاکھ ووٹ بھی ملے۔ یہ کسی بھی ہارنے والے امیدوار کے ریکارڈ ووٹ ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام میں وہ اب بھی مقبول ہیں۔

پروفیسر کالکنز کا کہنا ہے کہ ’وہ اسی طاقت سے صدارت چھوڑیں گے جیسے انھوں نے صدارت شروع کی تھی۔‘

یہ قیاس آرائی بھی ہو رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کے سب سے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر بھی صدارتی دوڑ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ لیکن اب تک انھوں نے اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔

ایک راستہ پھر سے کاروبار ہے؟

سیاستدان بننے سے قبل ٹرمپ معروف کاروباری شخصیت تھے اور ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں ان کا کافی نام تھا۔ انھیں ٹی وی سٹار کے طور پر بھی جانا جاتا تھا اور وہ اپنے ہی برانڈ کے برانڈ سفیر تھے اور اپنے نام کو منافع بخش لائسنس کے سودے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

ہو سکتا ہے کہ چار سال قبل انھوں نے جہاں اپنے کام کو چھوڑا تھا وہ وہاں سے ہی آغاز کر کے کاروبار کی دنیا میں واپس آ جائیں۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق آئندہ تین برسوں میں ٹرمپ پر 40 کروڑ ڈالر کے واجب الادا قرضے ہیں اگرچہ وہ کہہ چکے ہیں کہ یہ ان کی مجموعی مالیت کے ’بہت کم فیصد‘ کی نمائندگی ہے۔

ٹرمپ پوٹل

Getty Images

ٹرمپ آرگنائزیشن کے پاس متعدد ہوٹل اور گولف کورس ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ ممبئی، استنبول اور فلپائن میں بھی ان کی پراپرٹی ہے جبکہ امریکہ، برطانیہ، دبئی اور انڈونیشیا میں بھی ان کے گالف کورسز ہیں۔

لیکن اگر ٹرمپ دوبارہ اس راستے کا انتخاب کرتے ہیں تو انھیں بہت زیادہ کام کرنا ہوگا۔

ان کے بہت سے کاروبار سفر اور سیر و سیاحت کے شعبے سے متعلق ہیں جو کورونا وائرس کی وبا سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

فوربز کے مطابق کووڈ 19 کی وجہ سے ٹرمپ کی دولت ایک ارب ڈالر تک کم ہو سکتی ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے گذشتہ 15 برسوں میں سے 10 برسوں میں کوئی انکم ٹیکس ادا نہیں کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ریکارڈ کے مطابق (کاروبار میں) بڑا نقصان ہوا اور کئی برسوں تک ٹیکس دینے سے بچا گیا۔‘

ٹرمپ آرگنائزیشن اور صدر ٹرمپ دونوں اس رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے غلط قرار دے چکے ہیں۔

ٹم کالکنز کہتے ہیں کہ صدر وقت کے ساتھ ثابت کر چکے ہیں کہ ان کے پاس ’گفتگو میں‘ اپنے برانڈ کو برقرار رکھنے کی ناقابل یقین صلاحیت موجود ہے اور صدارت کے عہدے پر فائز رہنے کے باوجود بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

صدر ٹرمپ

Getty Images

ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کے برانڈ کو بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ بڑے کسٹمرز نے اس برانڈ کی خریداری اس وقت چھوڑ دی جب انھوں نے وائٹ ہاؤس میں اپنے سینئر مشیر کے کردار کو قبول کیا۔

ان کے بیٹے ایرک اور ڈونلڈ جونیئر ٹرمپ اپنے والد کے دور صدارت کے دوران ٹرمپ آرگنائزیشن کی دیکھ بھال کر رہے تھے لیکن وہ اپنے والد کے سیاسی کیریئر میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

پروفیسر کالکنز کہتے ہیں ’سب سے اہم چیز جس کے بارے میں وہ سب سوچ رہے ہوں گے، وہ یہ ہے کہ اس خاندان کے لیے آگے کون سا راستہ بہترین ہوگا۔‘

وہ میڈیا کی ایک زبردست شخصیت بن جائیں

صدر ٹرمپ ٹی وی کے لیے کوئی اجنبی چہرہ نہیں لہذا بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ نیوز میڈیا میں شامل ہو سکتے ہیں اور کسی قدامت پسند نیٹ ورک کے ساتھ تعاون کر کے اپنا چینل لانچ کر سکتے ہیں۔

کیو سکورز کمپنی کے ایگزیکٹو نائب صدر ہینری شیفر کہتے ہیں ’ان کے پاس یقینی طور پر ممکنہ ناظرین ہوں گے۔‘

وہ کہتے ہیں ’ٹرمپ کارڈیشیئنز یا ہاورڈ سٹیرن کی طرح ’محبت سے نفرت والی شخصیت‘ کے طور پر اپنے برانڈ کی تعمیر میں کامیاب ہوئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2015 میں ریئلٹی شو ’سلیبرٹی اپرینٹس‘ کے ریڈ کارپٹ میں شرکت کی تھی۔

ہینری شیفر توقع کرتے ہیں کہ ٹرمپ اس طرف واپس جائیں گے جو ان کے لیے سب سے بہترین ہے یعنی تنازع۔

’وہ تنازعات پر پھلتے پھولتے ہیں، وہ اپنے فائدے کے لیے تنازع کو گھماتے ہیں، یہی ان کا طریقہ کار ہے۔‘

ان کے ممکنہ شراکت دار کیبل نیٹ ورکس ’ون امیرکن نیوز نیٹ ورک (او اے این این) یا نیوز میکس ہیں۔

او اے این این صدر ٹرمپ کو بہت پسند ہے جبکہ او اے این این بھی صدر ٹرمپ کو بہت پسند کرتا ہے

ریٹائرمنٹ کے منصوبے بھی ہو سکتے ہیں

صدور اکثر کتاب کے معاہدوں پر بھی دستخط کرتے ہیں، براک اور مشیل اوباما نے ریکارڈ توڑ مشترکہ معاہدہ کیا، جس کی اطلاعات کے مطابق مالیت 65 ملین ڈالر ہے۔ افواہوں کے مطابق جارج ڈبلیو بش کو اپنی یادداشت لکھنے کے لیے 10 ملین ڈالر پیشگی رقم دی گئی۔

اوباما فیملی نے نیٹ فلکس کے ساتھ کئی ملین ڈالر کے پروڈکشن معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے اور دونوں کلنٹنز نے پوڈ کاسٹ کے معاہدے کیے۔

صدارت کے بعد ریٹائرمنٹ

صدر ٹرمپ جب صدارت سے سبکدوش ہوں گے تو ان کو صدر کی پینشن کے علاوہ دیگر بہت سے مراعات بھی ملیں گی۔

سابق صدور کی پینشن اور مراعات سے متعلق ایک قانون جو 1958 میں منظور کیا گیا تھا، اس کا مقصد صدارت کے عہدے کی عزت اور وقار برقرار رکھنا تھا اور اس کے تحت سنہ 2017 میں سابق صدور کو سالانہ 2 لاکھ 7 ہزار 8 سو ڈالر پینشن کی مد میں ملتے ہیں۔

سابق صدور کو تاحیات خفیہ اداروں کی طرف سے سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے، انہیں مفت علاج کرانے کی سہولت حاصل ہوتی ہے اور اس کے علاوہ سفری اور سٹاف یا ذاتی عملے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی مالی مراعات دی جاتی ہیں۔

صدر ٹرمپ جن کی عمر 74 برس ہو چکی ہے وہ خاموشی سے ریٹائرمنٹ بھی اختیار کر سکتے ہیں.

وہ اپنی باقی زندگی رفاحی کاموں کے لیے بھی وقف کر سکتے ہیں، اپنے بینک بیلنس میں لیکچر اور تقریریں کر کے اضافہ کر سکتے ہیں اور کوئی صدارتی لائبریری بھی بنا سکتے ہیں۔ عام طور پر صدر اپنی آبائی ریاست میں اپنی صدارت کے دور اور اپنے دور کی انتظامیہ کے بارے میں ایسے میوزیم بناتے ہیں جہاں پر ان کے دور کی اہم دستاویزات بھی دستیاب ہوتی ہیں۔

وہ اپنا فارغ وقت فلوریڈا کی ریاست میں مار آ لاگو جو ان کی پام بیچ سیر گاہ ہے، وہاں گزار سکتے ہیں۔

لیکن پروفیسر کالکنز ایک ایسے شخص کے لیے جس نے اپنی زندگی میں اس قدر توجہ حاصل کی ہو اور مرکز نگاہ رہا ہو، ایک خاموش زندگی یا کنارہ کشی اختیار کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایسی شخصیت کے مالک نہیں جو اتنی خاموشی سے پس منظر میں چلی جائے۔ ان کے خیال میں صدر ٹرمپ کا برانڈ ابھی کافی عرصے تک منظر عام پر رہے گا۔

اس سال اکتوبر میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر وہ الیکشن ہار گئے تو انھیں بہت برا محسوس ہوگا اور ہو سکتا ہے وہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16562 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp