آخر کب تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن پہلے ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا کالم، اسلام آباد بینک وڈیو
پڑھا۔ ڈاکٹر صاحبہ بہت خوبصورت اور بے باک انداز میں ان تلخ حقیقتوں پر تبصرہ کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔

کالم پڑھ کے دل بوجھل سا ہو گیا۔ اور خیالات کا دھارا کئی سال پیچھے چلا گیا۔ جب ہم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے، تو سوچا کیوں نہ بینک میں جاب کی جائے، سو ڈرتے جھجکتے والد صاحب کے پاس پہنچے، اور اپنا مدعا بیان کیا، یہ سنتے ہی کہ ہم بینک میں جاب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہوں نے سختی سے ڈانٹ دیا، کہ یہ بھی کوئی ملازمت کرنے کی جگہ ہے۔ بہت حیرانی ہوئی، کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔ جب کو ایجوکیشن میں پڑھنے کی اجازت دے دی، تو اس میں کیا قباحت ہے۔

ابھی ہم یہ گتھی سلجھا نہ پائے تھے، تو والد صاحب نے اپنے پاس بلایا، اور پیار سے سمجھایا، دیکھو بیٹے ایسی ملازمت کرنی ہو تو بڑے شہروں میں کرنی چاہیے، جیسے کراچی، اسلام آباد وغیرہ، وہاں لوگ زیادہ تعلیم یافتہ اور مہذب ہیں، ماحول اچھا ہوتا ہے۔ ہمارا شہر چھوٹا ہے، لوگوں کی سوچ بہت چھوٹی ہے، تب یہ بات ہمارے بھی دل کو لگی، کہ واقعی وہ صحیح کہہ رہے ہیں۔

اب جب کہ عورت ہر شعبے میں مرد کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہے، کیا ابھی تک اس گلے سڑے معاشرے میں تبدیلی نا ممکن ہے۔ تب میں اور اب میں کیا فرق ہے۔ اس میں شک نہیں، کہ سوچ اور رویوں میں تبدیلی آئی ہے، لیکن عورت آج بھی کسی نہ کسی روپ میں بے بس اور مجبور ہے۔ کسی کو روزی روٹی کے کھونے کا خوف، کسی کو ارد گرد کے لوگوں کا ڈر، ایسے بہت سے خوف، جن کی وجہ سے عورت چاہتے ہوئے بھی چپ رہنے پہ مجبور ہوتی ہے۔ اور ان ہوس ناک رویوں کا سامنا بے بسی کے ساتھ کرتی رہتی ہے۔ اور جو عورتیں ان تلخ حقیقتوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں، انہیں بھی مادر پدر آزاد جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔

ڈاکٹر صاحبہ نے بالکل بجا کہا، کہ والدین کو چاہیے، اپنی بیٹیوں کو سات پردوں میں رکھنے کی بجائے ان کو بولنے کا، اپنا حق لینے اور پہچاننے کا ہنر سکھائیں۔ تاکہ وہ اپنی لڑائی خود لڑ سکیں۔ اور ایوان بالا پہ بیٹھے ہوئے صاحب اقتدار کو اس معاشرے کی صفائی ستھرائی کے لئے سخت قوانین کا نفاذ کرنا چاہیے، اور ان کی عملداری کو یقینی بنانے کے ہر مجرم کو عہدے، امارت کو دیکھے بغیر سخت سے سخت سزائیں دینی چاہیے۔ کیونکہ پاکستان سے باہر دوسرے ملکوں میں بھی انسان ہی رہتے ہیں، فرشتے نہیں رہتے۔ صرف فرق یہ کہ وہاں قانون کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا، مجرم کوئی وزیر یا مشیر ہو، یا غریب ہو، قانون کی نظر میں سب ایک جیسے ہیں۔

بس افسوس تو اس بات کا ہے، اس نام نہاد معاشرے میں، مذہب کے ٹھیکیدار تو بہت ہیں، لیکن انسانوں کی کمی ہے۔ بقول شاعر

فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا مگر
اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •