نواب اسلم رئیسانی: مالی اعتبار سے غریب صوبے کے’ امیر ترین‘ قانون ساز کے پاس کیا کیا اثاثے ہیں؟

اعظم خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواب اسلم رئیسانی
Getty Images
پاکستان کی پارلیمان (سینیٹ اور قومی اسمبلی) کے اراکین کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اور بلوچستان کے ارکان اسمبلی کے اثاثوں کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں۔

آپ کو یہ تفصیلات تو معلوم ہو ہی گئی ہوں گی کہ ارکان پارلیمان کے پاس کتنا سونا ہے اور وہ کتنے مقروض ہیں۔ آج ہم بات کر رہے ہیں پاکستان کے سب سے ’امیر ترین صوبائی‘ قانون ساز یعنی سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کی جنھوں نے 21 ارب روپے کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔

یہ وہی اسلم رئیسانی ہیں جن کا ایک جملہ بہت مشہور ہوا تھا کہ ’ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا جعلی۔‘

لیکن ان کے اثاثے اصلی ہیں اور انھوں نے اس کے دستاویزی ثبوت بھی پیش کیے ہیں۔

یہ اثاثے بلوچستان سے لے کر اسلام آباد اور کراچی کے ساحل سے لے کر مالٹا کے دلکش سیاحتی مقامات تک پھیلے ہوئے ہیں۔

نواب رئیسانی کے پاس تین ارب 75 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی آٹھ گاڑیاں بھی ہیں۔ وہ اکثر اسلام آباد کی سڑکوں پر تیز رفتار ہیوی بائیکس بھی دوڑاتے نظر آتے ہیں۔ نواب رئیسانی کے پاس 23 کروڑ روپے مالیت کی بکریاں، بھیڑیں اور دیگر جانور بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان اسمبلی کے نو منتخب رکن ’غیر پاکستانی‘ قرار

بلوچستان اسمبلی میں سعودی منصوبوں پر خدشات کا اظہار

مستونگ دھماکہ: ’تین بیٹے دیکھنے گئے تھے، تینوں مارے گئے‘

نواب رئیسانی کی مالٹا میں ایک ارب 73 کروڑ 58 لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد ہے۔

نواب اسلم رئیسانی نے اپنے گوشواروں میں لکھا ہے کہ ان کی اہلیہ کے پاس سونے کے ’بہت ہی پرانے زیورات‘ ہیں جو وہ استعمال کر رہی ہیں اور ان کا کل وزن 120 گرام بنتا ہے۔

اسلم رئیسانی کے اثاثوں میں زرعی زمین، رہائشی جائیداد، کان کنی کی کمپنی، گاڑیاں، بینک اکاؤنٹس اور مال مویشی شامل ہیں۔ ماضی میں قومی احتساب بیورو بھی ان سے ان کے اثاثہ جات کے بارے میں جواب طلبی کر چکا ہے۔

نواب اسلم رئیسانی کے اثاثوں پر نظر دوڑاتے ہوئے جو پہلا سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہی ہے کہ یہ سب کہاں سے آیا اور پھر نواب رئیسانی نے تمام تفصیلات بے باک ہو کر بتا بھی دیں۔

اس سوال کا جواب ان کے چھوٹے بھائی لشکری رئیسانی نے دیا اور کہا کہ ’ہمارے ملک کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اپنی دولت بتاتے نہیں ہیں اور ہم نے کچھ چھپایا نہیں ہے۔‘ ان کے مطابق نواب رئیسانی کو یہ ’اثاثے پاکستان نے نہیں بلکہ ان کے آباؤ اجداد نے دیے ہیں۔‘

اسلم رئیسانی کون ہیں؟

سنہ 1955 میں پیدا ہونے والے نواب محمد اسلم خان رئیسانی سابق گورنر اور وفاقی وزیر نواب غوث بخش رئیسانی کے برخوردار ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بلوچ قبائل میں چیف آف سراوان کی ذمہ داری بھی رکھتے ہیں۔

پولیٹکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والے رئیسانی نے عملی زندگی کا آغاز پولیس میں نوکری سے کیا۔ لیکن والد کی وفات کے بعد انھوں نے سیاست میں قدم رکھا اور صوبائی وزیر کے علاوہ کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔

وہ پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن سنہ 1988 میں منتخب ہوئے البتہ پیپلز پارٹی میں انھوں نے شمولیت سنہ 1994 میں اختیار کی۔

’ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا جعلی‘

اپنے طنزیہ اور مزاحیہ جملوں کی وجہ سے نواب رئیسانی میڈیا پر موضوع بحث بھی رہے ہیں۔

نواب اسلم رئیسانی کا ’ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘ والا جملہ بہت مشہور ہوا تھا۔

اپنی وزارت اعلیٰ کے دور کے اختتام پر ایک مرتبہ نگران وزیراعلیٰ کی تقریب حلف برداری کے بعد جب میڈیا کے نمائندوں نے ان سے ان کے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں پوچھا جس پر نواب رئیسانی نے کہا کہ ’پاکستان کی سیاست سے بہترہے کہ میں نسوار بیچوں۔‘

ان کی وزارت اعلیٰ کے دنوں میں ایک بار انھیں سپریم کورٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملی تو سڑک پر ہی دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ جب پولیس اہلکاروں سے ان کا تعارف کرایا گیا تو وہ معافی مانگنا شروع ہو گئے جبکہ نواب اسلم رئیسانی نے اٹھ کر ان سے ہاتھ ملایا اور احتجاج ختم کر دیا۔

نواب رئیسانی کے ایک دیرینہ دوست ریحان دشتی نے بی بی سی کو بتایا کہ نواب رئیسانی ایک ’بہت ہنس مکھ طبیعت کے مالک ہیں اور وہ جب میڈیا میں ایک مزاحیہ کردار بن کر آتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھیں کچھ پتا نہیں ہے مگر اس وقت وہ پورے نظام کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں۔‘

سراج

BBC
اسلم رئیسانی کے ایک بھائی سراج رئیسائی شدت پسندی کے ایک واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے

ریحان دشتی کے مطابق اس کے باوجود کے نواب رئیسانی خود وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں مگر وہ یہ بات اکثر کہتے ہیں کہ ’ملک کا نظام پیسے اور رشوت‘ پر چل رہا ہے۔

انھوں نے غیر ملکی کمپنیوں کو ریکوڈک کے ذخائر دینے کی بھی بھرپور مخالفت کی تھی۔

نواب رئیسانی کو قوم پرست سیاستدان سمجھا جاتا ہے۔

نواب اسلم رئیسانی کے ایک چھوٹے بھائی خود کش حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ سراج رئیسانی بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور چیف آف جھالاوان نواب اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی تھے اور اسی نشست سے وہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے بلوچستان عوامی پارٹی کی ٹکٹ پر اپنے ہی بھائی نواب اسلم رئیسانی کے مقابلے میں انتخاب لڑ رہے تھے۔

بلوچستان کے دیگر ارکان اسملبی کس حال میں ہیں؟

بلوچستان پاکستان کا سب سے غریب صوبہ سمجھا جاتا ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کے اکثر ارکان کے اثاثوں میں مہنگی گاڑیاں شامل ہیں۔ ان اراکین کی اکثریت نوابوں، سرداروں اور مذہبی پیشواؤں پر مشتمل ہے۔

الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق ان اراکین کے کل اثاثوں کی قیمت کروڑوں اور اربوں میں ہے۔ تاہم ان ارکان کی اکثریت کا موقف ہے کہ ان کے یہ اثاثے وراثتی ہیں۔

سب سے پہلے ذکر صوبے کے وزیراعلیٰ جام کمال خان کا جن کو ان کی والدہ نے لسبیلہ میں 200 ایکڑ زمین تحفے میں دے رکھی ہے جبکہ ان کی باقی جائیداد کی ایک طویل فہرست ہے۔ جام کمال خان کی گوادر اور گڈانی میں بھی کئی جگہوں پر جائیدادیں ہیں۔ انھوں نے یہ وضاحت نہیو دی کہ یہاں انھوں نے کب یہ جائیدادیں خریدیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے کان کنی کی کمپنی میں بھی شئیر ہیں۔ ان کا اپنا ’کرش پلانٹ‘ بھی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پاس چار کروڑ مالیت سے زائد کی 16 گاڑیاں ہیں جن میں سے چھ لینڈ کروز گاڑیاں ہیں۔

ان کے مطابق ان کے والد کی وفات کے بعد قانون کے مطابق ان کی دبئی کی کمپنی میں شئیر دوسرے بہن بھائیوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔

رکن بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کے علاوہ چالیس ایکڑ زرعی زمین کے مالک ہیں۔ جان جمالی ساٹھ تولے سونا اور پچیس لاکھ روپے مالیت کی گاڑی کے مالک ہیں۔ تحریک انصاف کے سردار یار محمد رند 14011 ایکڑ زرعی زمین کے مالک ہیں۔ سردار یار محمد نے ڈیرہ مراد جمالی میں اپنے رہاشی پلاٹ کی قیمت تیس لاکھ روپے اور کوئٹہ میں گھر کی قیمت دو کروڑ روپے بتائی ہے۔ ان کے مطابق ان کا ایمبیسی روڈ اسلام آباد میں تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کا گھر ہے۔

سردار یار محمد کے پاس میرینا دبئی میں دو اپارٹمنٹس بھی ہیں جن کی قیمت تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے بنتی ہے جبکہ انھوں نے دبئی میں ’وِلاز‘ کی قیمت چار کروڑ بیس لاکھ روپے ظاہر کی ہے۔ سردار یار محمد کے مطابق ان کے پاس 640 تولے وراثتی سونا ہے۔ انھوں نے اپنی چار گاڑیوں کی قیمت دو کروڑ اٹھاسی لاکھ روپے سے زائد بتائی ہے۔ سردار یار محمد کے پاس 20 لاکھ روپے کا ذاتی اسلحہ بھی ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی کے صاحبزادے عمر خان جمالی بھی بلوچستان اسمبلی کا حصہ ہیں۔ ان کے اثاثوں میں 327 ایکڑ زمین بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ زمین ان کے خاندان نے پرانے وقتوں میں خریدی تھی جب یہ اتنی مہنگی نہیں تھی۔ عمر خان جمالی ایک پٹرول پمپ کے بھی مالک ہیں۔

رکن صوبائی اسمبلی مٹھا خان کی دولت 41 کروڑ سے زائد ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16598 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp