عورت کی جنسی ہراسانی کو پیدایشی حق سمجھنے والے۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“تم آٹا گوندھتے ہوئے اتنا ہلتی کیوں ہو”

خلد مکانی اماں کہا کرتی تھیں، جب ہر بات میں مین میخ نکالنے والا کوئی قابل ذکر بات نہ ڈھونڈ سکے تو اس کی تان اس جملے پہ آن ٹوٹتی ہے، اور ہمیں یہ بات یاد آ گئی بینک وڈیو پہ لکھے گئے ہمارے کالم پہ اہل دانش و فہم کے کمنٹس پڑھ کر۔ سمجھ سے باہر ہے کہ کیا کہیں…

‎دیوں کو خود بجھا کر رکھ دیا ہے

‎اور الزام اب ہوا پر رکھ دیا ہے

دیکھیے کیا موتی پروئے ہیں،

“اگر عورت کو ہماری اس طرح کی بیہودہ حرکات سے شرمندگی ہوتی تو آج کسی خاتون کے ساتھ ایسی نازیبا حرکت کرنے کا کوئی سوچنے کی بھی جرات نہ کرتا”

“کسی بھی عورت کے ساتھ زیادتی یا زبردستی کی جائے تو وہ چہرے یا جسم سے ہی کم سے کم اظہار کرتی ہے۔ چاہے کتنی بار بھی کی جائے۔ اور جو بالکل کوئی تاثر نہ دے اس کے لیے یہ کوئی انہونی بات نہیں ہوتی ہے”

“بینک کے افسر کی حرکت اور خاتون کا رد عمل نہ دینا، ظاھرکرتا ہے کہ یہ سلسلہ پہلے سے چل رہا ہے۔ بینک افسر یقینا ایک گھٹیا شخص ہے لیکن کسی چھوٹی سی سہولت کے بدلے میں خاتون کی خاموشی افسوسناک ہے”

“خاتون کا اطمینان اور سکون بھی ایک کہانی سناتا ہے”

“وہ پہلے سے اس کے تعلق میں تھی تبھی کوئی ری ایکشن نہیں دیا”

“یہ سچ ہے جب کوئی عورت کسی کے ساتھ تعلق میں ہو تو وہ با لکل رسپونس نہیں کرتی اس کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہوتی جیسے میاں بیوی۔ اور اگر کسی کے ساتھ ظلم ہو رہا ہو یا بار بار کوئی اس کے ساتھ زبردستی بھی کرچکا ہو وہ کم سے کم کراہت کا اظہار کرتی ہے، سہم جاتی ہے، ناگواری ظاہر کرتی ہے۔ لیکن یہ ہماری بہن آرام سے فون پر بات کرتی رہیں یا جو بھی یہ کر رہی ہیں وڈیو میں۔ حالانکہ مجبور عورت بھی گھبراتی ہے کہ کم سے کم اور لوگوں کا لحاظ ہی کرلو۔ اتنا آلاؤ وہی کرتی ہیں جن کا ایسا ریلیشن ہو”

“کاش کہ لڑکی ہمت کر کے جوتا نکال کر اس بدذات کی وہ ٹھکائی کرتی کہ ہاتھ پکڑنے کے ساتھ ساتھ مکمل کہانی اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر وائرل ہوتی”

محظوظ ہوئے آپ؟ چلیے آپ کو اکیسویں صدی کی وہ حیران کن داستان سنائیں جس نے بڑے بڑے برج الٹ دیے اور وہ ہوا جس کا چالیس برس قبل کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

مشہور زمانہ کہیں یا بدنام زمانہ لیکن اکیڈمی ایوارڈ یافتہ فلم پروڈیوسر ہاروی آئین سٹین وہ بادشاہ گر تھا جس کا کسی کے بھی سر پہ رکھا ہاتھ، گویا ہما سر پہ بیٹھنے کے مترادف ہوتا۔ اس قدر اختیار کا مالک کہ جس کا سر نفی میں ہلتا، اس کا نام انڈسٹری سے ہمیشہ کے لئے غائب ہو جاتا۔ جس کی زبان کھلتی، وہ بلیک میلنگ کے ذریعے چپ کروا دی جاتی۔ نامی گرامی وکلا کا گروہ اور جاسوسی کا نظام اس کے مفادات کی حفاظت کرتا۔ چالیس طویل برسوں میں سینکڑوں عورتیں اس ہوس اور طاقت کا شکار ہو کے کچلی گئیں۔

اس جبر کا شکار ہونے والی عورتوں میں نامور اداکارہ انجلینا جولی اور نامور گلوکارہ میڈونا بھی شامل رہیں لیکن ہاروی آئین سٹین کا ہاتھ پکڑنے کا کوئی حوصلہ نہ کر سکا۔ وجوہات میں کم ہمتی، بلیک میلنگ، کیرئیر کے ڈوب جانے کا خوف، اوبامہ اور بل کلنٹن کے ہاروی سے ذاتی تعلقات اور مستند شواہد کی کمی تھی۔

بالآخر یہ بھاری پتھر ایک ایسی اداکارہ نے اٹھایا جو بیس برس خاموش رہنے کے بعد بھی اپنے جسم پہ لگے زخم کو فراموش نہیں کر پائی تھی۔ اس کے اندر کی بھڑکتی آگ متقاضی تھی کہ وہ پنڈورا باکس کھول دے۔ 1997 میں ریپ ہونے والی اطالوی نژاد اداکارہ روز میکگون نے 2017 میں اپنی زبان کھولی اور ایک طویل، تلخ اور کانٹوں بھری جنگ کا آغاز کیا۔

لیکن وقت آ گیا تھا کہ برسوں سے مہر بہ لب عورتوں کی خاموشی ٹوٹ جائے اور سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر سب ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں اور ظالم کو بے نقاب کریں۔ سو سے زیادہ عورتوں نے ہاروی کی جنسی بھوک کا شکار بننے کا اقرار کیا اور تین عورتوں نے ریپ ہو جانے کا بیان دیا۔ می ٹو کے ہیش ٹیگ کو پر لگ گئے اور لاکھوں افراد نے اس جنسی ہراسانی کے خلاف آواز بلند کی۔

کہیں یہ سننے کو نہیں ملا،

“فلموں میں کام کرنے کی ضرورت کیا تھی؟”

“نہ مانتیں اس کی بات، چھوڑ دیتیں اپنا کیرئیر “

“بیس برس کیا سوئی رہی؟”

“تعلق تو تھا تبھی تو سب ہاروی سے ملنے جاتی تھیں”

“فائدہ تو انہی کو ملا، شہرت کے آسمان پہ چمکیں”

“فلمی اداکاروں کی بھلا کیا عزت؟”

“ایسے کام تو فلم میں بھی کیا کرتے ہیں”

ایک بات سمجھ لیجیے، دو انسانوں کے بیچ کسی بھی تعلق کے لئے باہمی رضامندی بنا کسی اثرورسوخ اشد ضروری ہے۔ اگر ایک بھی فریق کسی بھی بندھن میں بندھنے سے انکاری ہے تو دوسرا اپنے مقام کا فائدہ اٹھا کر، اس کی مجبوریوں سے کھیل کر اور اس کی خواہشات کی آڑ لے کر اس کے جسم کو اپنی کھیتی نہیں بنا سکتا۔

اور مت بھولیے کہ جنسی ہراسانی کے فنکار ہمارے ہاں بھی کھل کھیلتے ہیں۔ امتحان میں کامیاب ہونے کا سلسلہ ہو تو گومل یونیورسٹی کے باریش استاد تو آپ کو یاد ہی ہوں گے جن کے چہرے پہ ثبوت کے باوجود کہیں شرمندگی نہیں تھی۔ کراچی میں پی ایچ ڈی تھیسس کے کئی دفعہ رد ہونے کے بعد طالبہ کی خود کشی ہماری آنکھ کو نم کرتی ہے۔

پچھلے برس انصاف کی تلاش میں نکلنے والی خاتون کو نیب میں کچھ ایسی ہی فرمائشوں سے پالا پڑا اور اس نے یہ کہانی سنائی بھی اور دکھائی بھی۔ کیا ریاست کے کسی بڑے نے جواب دہی کرنے کا سوچا ؟ دوسری طرف اگر ریاست خواب غفلت میں گم رہی تو عوام کے کان پہ بھی جوں نہیں رینگی۔

مذہب کی تبلیغ کرتے ہوئے بہت سے چہرے ٹوپی والی تصویروں سے بے نقاب ہو جاتے ہیں اور پھر وہ ٹوپی کسی کے خون سے رنگ دی جاتی ہے۔

یہ مثالیں اس برفیلی چٹان کا وہ حصہ ہیں جو ذلت کے گہرے پانیوں سے اپنی جھلک دکھاتا ہے۔ گہرائی میں موجود قیامت کو جاننے کی تو ہمارا معاشرہ کوشش ہی نہیں کرتا۔

لیکن ہم عورتوں سے پوچھیے، کون ہے جسے راہ چلتے کسی کا لاپروا کندھا، کسی کی رینگتی انگلیاں اور کسی کی بھوکی ننگی آنکھوں سے کبھی واسطہ نہیں پڑا؟ کون ہے جس نے کبھی اپنے جسم پہ تبصرہ نہیں سنا؟ عبایہ، نقاب، جینز، شلوار قمیض، بچپن، بزرگی، محلات ، جھونپڑی، عالیشان مالز یا تنگ وتاریک گلیاں، کچھ بھی ہراساں کرنے والے کا راستہ نہیں روک سکتا۔ یہ وہ کانٹوں بھری راہ ہے جس پہ ہر عورت کے پاؤں لہولہان ہو جاتے ہیں۔

بات کو واپس وڈیو والی خاتون کی طرف لاتے ہیں کہ وہ چونکیں کیوں نہیں اور آواز کیوں نہیں اٹھائی؟

کیا ہمیں علم ہے کہ خاتون کسی بلیک میلنگ، کسی دھمکی، کسی جبر کا شکار ہو کے خوفزدہ نہیں؟

کیا ہم جانتے ہیں کہ خاتون کے ذمے کتنے افراد کی کفالت ہے؟ خاتون کے خانگی حالات کیسے ہیں؟

فرض کیجیے، دونوں کے بیچ اگر تعلق ہے بھی تو کیسا خود غرض تعلق ہے جو بیچ چوراہے میں دوسرے کی ذات کی دھجیاں اڑا دیتا ہے۔

یہ بھی سوچے لیتے ہیں کہ اگر خاتون چیخ وپکار کر کے اپنی مدد کے لئے لوگ جمع کر لیتیں ، اپنی مظلومی کی داستان سناتیں تو آپ میں سے کتنے لوگ ان پہ یقین کرتے؟ کتنے لوگ دال میں کچھ کالا ہونے کا سوچ کے ادھر ادھر ہو جاتے؟ کتنوں کا خیال ہوتا کہ ہم کیوں پرائی آگ میں کودیں ؟

میڈیا میں جب خبر چلتی تو گلی محلے والے، احباب رشتے دار کیا کیا نہ کہتے؟ خاتون کے گھر کوئی رشتہ بھیجنے پہ تیار ہوتا؟ بلکہ طے شدہ رشتہ بھی ٹوٹ جاتا۔ اہل خانہ پہ کیا کیا نہ انگلیاں اٹھتیں؟

اس گھر کی بیٹی…

اسے ہی شوق تھا…

بن ٹھن کے جاتی تھی…

کچھ تو ہو گا، ایسے ہی کسی کی ہمت نہیں ہوا کرتی…

نہ بابا ، ایسی بدنام لڑکی سے ہم نے رشتہ نہیں کرنا…

پتہ نہیں کتنے مردوں نے چھوا ہو گا….

یہ ہے وہ ذہنیت، وہ خوف اور وہ اسباب جو عورت کے منہ پہ قفل لگا دیتے ہیں اور آگے خندق، پیچھے کھائی کا ڈر اسے کہیں کا نہیں رہنے دیتا۔

ہمارا ایک ہی سوال ہے؟

عورت کے گھر سے باہر نکلنے کا سبب کچھ بھی ہو، معاشی ضرورت، اپنی ذات منوانے کا شوق و جنون، یا کچھ اور ؟ مرد کس کلیے قانون اور اختیار کے تحت اس کے جسمانی اعضا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا یا آوازے کسنا اپنا حق سمجھتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •