جب ڈپٹی نذیر احمد کی آخری کتاب نذر آتش کی گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مرحوم ڈاکٹر آصف فرخی نے اپنے ایک مضمون میں ڈپٹی نذیر احمد کے ناول توبة النصوح کا ذکر کیا ہے جس میں نصوح کچھ کتابوں کو نذر آتش کرتا ہے۔ یہ کتابیں نصوح کے بیٹے کی ہیں جنہیں نصوح قابل اعتراض قرار دے کر جلادیتا ہے۔ اس کتاب پر بات کرتے ہوئے میرے دوست اجمل کمال نے مجھے یاد دلایا کہ بالآخر خود ڈپٹی نذیر احمد بھی ایسے ہی سلوک کا شکار ہوئے تھے جب ان کی زندگی کے آخری برسوں میں خود ان کی کتابیں قابل اعتراض قرار دے کر نذر آتش کی گئی تھیں۔

یہاں ہمیں کچھ دل چسپ تفصیلات معلوم ہوتی ہیں۔ جو غالباً بہت سے قارئین کے لیے علم میں نہ ہوں۔ اس دنیا کی تاریخ میں سینکڑوں کتابوں پر پابندی لگی اور ہزاروں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کس طرح عظیم ذہنوں کے مالک مفکرین اور سائنس دان اپنے خیالات کی پاداش میں سزا یافتہ قرارپائے اور کیسے انہیں معافیاں مانگنے پر مجبور کیا گیا گوکہ ان کے خیالات بعد میں صحیح ثابت ہوئے۔ ان کے نظریات جو شروع میں قابل تعزیر ٹھہرے بعد میں د نیا پر چھا گئے۔

ابن سینا اور ابن رشد سے لے کر برونو اور گالی لیو تک ایسے مفکرین کی طویل فہرست ہے جنہوں نے جہالت کے اندھیروں میں علم کے دیے جلائے اور اس کے نتیجے میں مارے گئے، تشدد کا نشانہ بنے اور مقدمات کا سامنا بھی کیا مگر بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ خود قدامت پرست لوگ بھی اپنے ہی طریقے کا شکار ہوئے۔ یہ قدامت پرست دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں جن میں کئی چھوٹے گروہ بھی ہوسکتے ہیں۔

اول وہ قدامت پرست جو تھوڑی بہت اصلاحات چاہتے ہیں اور دوسرے وہ جو کوئی نئی اصلاح نہیں چاہتے بل کہ قدیم کا احیاءکرنا چاہتے ہیں یعنی پرانا زمانہ واپس لانا چاہتے ہیں۔

ان دو گروہوں میں کئی خاصیتیں مشترک ہیں مگر پھر بھی وہ بعض اوقات ایک دوسرے کے درپے ہو جاتے ہیں اور ایسے قدامت پرستوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں جو صرف ذرا سے ہی مختلف ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایسے رہ نما اور مفکرین بھی جو کچھ معقول بات کریں یا رواداری اور برداشت کی تلقین کریں یا تھوڑی بہت اصلاحات کی بات کریں انہیں بھی کافر یا ملحد قرار دے دیا جاتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سرسید احمد خان، ڈپٹی نذیر احمد اورشبلی نعمانی کے ساتھ مرزا عظیم بیگ چغتائی بھی ایسے ہی لوگوں میں تھے جنہیں مختلف اوقات میں نشانہ بنایا گیا گوکہ وہ خود مسلمان ہونے کی گواہیاں پیش کرتے رہے اور بڑی حد تک خود تمام شعائر اسلامی پر عمل پیرا بھی رہے لیکن چوں کہ وہ اصلاحات کے داعی تھے اس لیے کٹر ملاؤں کا نشانہ بنے۔

سرسید احمد خان گوکہ خود جدید تعلیم کے بڑے حامی اور وکیل تھے لیکن ایسا صرف وہ لڑکوں کے لیے کرنا چاہتے تھے اور لڑکیوں کی تعلیم کے حامی نہیں تھے جس کے لیے وہ گھروں سے باہر نکلیں۔ خود شبلی نعمانی پر ان کی کتاب علم الکلام کے حوالے سے بڑی تنقید ہوئی۔

عظیم بیگ چغتائی، نیاز فتح پوری اور مرزا یاس یگانہ چنگیزی بھی نشانہ بنے مگر وہ کسی طرح بھی قدامت پرست نہیں تھے۔ جب کہ ڈپٹی نذیر احمد ہندوستان کے مسلمانوں کی اصلاح تو چاہتے تھے مگر وہ بھی قدامت کے طریقے سے۔ وہ لڑکیوں کو فرماں بردار اور لڑکوں کو روایت پسند بنانا چاہتے تھے مگر پھر کیسے انہیں خود اپنی کتابوں کو نذر آتش ہوتا دیکھنا پڑا اور اپنے تھوڑے بہت بھی اصلاحی خیالات پر بدعت کے فتوے بھگتنے پڑے خاص طور پر ان کے تاریخ، ادب اور ترجمہ قرآن پر خیالات نشانہ بنے۔

اس کو سمجھنے کے لیے کم از کم چار ایسے شخصیات کے کردار کو سمجھنا ہوگا جو اس ڈرامے کا حصہ بنے۔ یہ ڈرامہ بیسویں صدی کے اوائل کا ہے۔ یہ چار شخصیات تھیں حکیم اجمل خان، شاہد احمد دہلوی، عبدل ماجد دریابادی اور مرزا عظیم بیگ چغتائی۔ یہ چاروں شخصیات ہندوستان کے مسلمانوں میں خاصی معروف تھیں۔

دراصل ڈپٹی نذیر احمد کے خلاف تحریک چلانے والے زیادہ تر قدامت پرستوں کا تعلق ندوة العلما سے تھا جسے 1894 میں محمد علی مونگیری نے قائم کیا تھا۔

ڈپٹی نذیر احمد کے خلاف تحریک کی دو وجوہ تھیں۔ ایک تو یہ الزام تھا کہ انہوں نے قرآن کا ترجمہ کرتے ہوئے محتاط زبان استعمال نہیں کی اور دوسرے یہ کہ انہوں نے ”امہات الامہ“ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں ابتدائی اسلام کے دورمیں کثیر زوجگی پر غیر محتاط انداز میں تبصرے کیے۔

دونوں صورتوں میں ڈپٹی نذیر احمد کا انداز بیان رسمی سے زیادہ عامیانہ ہونے کا الزام لگایا گیا۔ مثلاً انہوں نے مناسب سابقے اور لاحقے استعمال نہیں کیے اور بعض مقدس ناموں کے ساتھ القابات اور خطابات بھی نہیں لگائے۔ یہ کتاب ریختہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے جہاں پڑھ کر اس کے انداز بیان کو دیکھا جاسکتا ہے جو کہ دلی کی بامحاوہ اردو کار رواں انداز ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈپٹی نذیر احمد کے بارے میں زیادہ تر تحریروں نے ان کی زندگی کے اس پہلو کو نظر انداز کیا ہے۔ مثال کے طور پر مرزا فرحت اللہ بیگ نے ”مولوی نذیر احمد کی کہانی۔ کچھ ان کی کچھ میری زبانی“ میں لکھا ہے ”مولوی صاحب پر بڑی تنقید ہو رہی تھی اور جب میں نے اس بارے میں بات کی تو مولوی صاحب بولے کہ انہیں تو اس کتاب میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی جس پر لوگ اتنے غصے میں آجائیں۔ تم نے کتاب پڑھی ہے بتاؤ تمہیں کیا قابل اعتراض بات لگی۔“

فرحت اللہ بیگ لکھتے ہیں ”میں ان کے انداز تحریر سے مانوس تھا۔ اس لیے بولا کہ مولوی صاحب آپ کے انداز میں مزاح کا پہلو ہے جو فکشن کے لیے تو ٹھیک ہے مگر تاریخی کاموں کے لیے موزوں نہیں۔ خاص طور پر جب معاملہ مذہب کا ہو اور اسی لیے لوگوں کی ناپسندیدگی صرف آپ کے انداز تحریر کے بارے میں ہے“

مولوی صاحب نے جواب دیا ”میرے قرآن کے ترجمے پر تو ایسا کوئی شور نہ اٹھا تھا۔ لوگوں کو اس پر بھی کچھ مسئلہ تھا مگر یہ معاملہ میرا اورمیرے خدا کا ہے۔ جب کہ یہاں ہم تاریخی کرداروں یا لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔“

اس کی تفصیل آپ کو فرحت اللہ بیگ کی کتاب کے صفحہ نمبر 107 پر مل جائے گی جس کو اردو اکیڈمی سندھ نے شائع کیا ہے۔ جب کہ اس کا انگریزی ترجمہ امینہ اظفر نے کیا ہے جو اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیاہے۔

لیکن فرحت اللہ بیگ اپنی کتاب میں اس تنازع کے بارے میں مزید کچھ نہیں لکھتے۔ اسی طرح ڈاکٹر سلیم اختر نے بھی اپنے مضمون ”کچھ نذیر احمد کے بارے میں“ لکھتے ہوئے اس تنازع کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ رئیس احمد جعفری نے حکیم اجمل خان پر اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ہم حکیم صاحب کے مذہبی جذبات کا اندازہ اس سے لگاسکتے ہیں کہ انہوں نے ڈپٹی نذیر احمد کی کتاب ”امہات الامہ“ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم کردار ادا کیا کیوں کہ یہ کتاب ادب کے دائرے سے باہر نکل گئی تھی اور اس کے انداز تحریر نے ملک میں طوفان بپا کر دیا تھا۔

رئیس احمد جعفری لکھتے ہیں کہ نذیر احمد کی نیت اچھی تھی اور وہ کسی کی بے ادبی نہیں چاہتے ہیں مگر ان کی مسالے دار زبان اور محاوروں میں عالمانہ اثر نہیں تھا جس سے زبان عامیانہ سطح پر آ گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ترجمہ قرآن کو بھی اعلاءدرجہ نہ ملا جو کہ کسی عالم کو ملناچاہیے خاص طور پر جب کہ انہیں عربی زبان پر پورا عبور حاصل تھا۔

اس کتاب نے پوری دلی کو ہلا کر رکھ دیا اور جب صورتحال قابو سے باہر ہونے لگی اور نذیر احمد کی زندگی خطرے میں پڑ گئی تو حکیم اجمل خان آگے آئے کیوں کہ ان کے دوست اور دشمن دونوں ان کی پارسائی اور اسلام پسندی کے قائل تھے۔ انہوں نے اس تنازع کو خوش اسلوبی سے حل کرایا اور مولوی نذیر احمد کی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔

رئیس احمد جعفری یہ مضمون شفیع عقیل کی کتاب ”مشہور اہل قلم کی گمنام تحریریں“ مطبوعہ بک ہوم 2004 میں شامل ہے اور اس کتاب کے صفحہ 174 پر اس تنازعہ کا ذکر موجود ہے۔

پھر شاہد احمد دہلوی نے ادبی رسالے ”نقوش“ کے جنوری 1955 کے شمارے میں عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ لکھا جس میں بیان کیا کہ مولوی نذیر احمد کی کتاب دراصل ایک پادری کے جواب میں تھی جس نے بعض مقدس ہستیوں کی توہین کی تھی پہلے تو سرسید احمد خان نے اس کا جواب لکھا اور پھر نذیر احمد نے یہ کتاب لکھ ڈالی جو تاریخی نوعیت کی تھی مگر اس میں احترام کے الفاظ و القاب استعمال نہیں کیے گئے تھے۔ اس کو نذیر احمد کی بے ادبی تصور کیا گیا گوکہ انہوں نے وضاحت کہ یہ کتاب دراصل ایک پادری کو مخاطب کر کے لکھی گئی ہے اس لیے القاب استعمال نہیں کیے گئے۔

مگر پھر یوں ہوا کہ کئی علما نے کتاب کو نذر آتش کرنے کا فتویٰ دیا اور ڈپٹی نذیر احمد کو کافر قرار دیا گیا مگر حکیم اجمل نے نذیر احمد سے ساری کتابیں لے لیں اور ان کی اجازت کے بغیر انہیں ایک بڑے مجمع کے سامنے ڈھیر کیا گیا جہاں مولانا حبیب خان شیروانی نے آگے بڑھ کر ان کتابوں کو نذر آتش کیا جس کے بعد نذیر احمد تین چار سال زندہ رہے مگر ایک لفظ نہ لکھ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •