کشمور: ماں اور بیٹی کے مبینہ ریپ کے کیس سے متعلق وائرل ویڈیو پر شدید ردعمل

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

'میں نے غلطی سے اس ویڈیو پر کلِک کرلیا کیونکہ یہ ایک بہت بڑے صحافی نے بغیر انتباہ کے شیئر کی ہے۔ پہلے دو تین سیکنڈ تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہو رہا ہے۔ لیکن جب میں نے اس کی آڈیو سنی تو میں کانپنے اور پھر رونے لگی۔‘

وہ اس وائرل ویڈیو کی بات کر رہی ہیں جس میں ایک ماں اپنی چار سالہ بیٹی سے پولیس کی موجودگی میں پوچھ رہی ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا اور بچی اس واقعے کو بیان کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

10 نومبر کو صوبہ سندھ کے ضلع کشمور کے ایک تھانے میں جاکر ایک خاتون نے الزامات عائد کیے تھے کہ انھیں نوکری کا جھانسہ دے کر ریپ کیا گیا اور ملزم نے ان کی بچی کو یرغمال بنا کر اس کا بھی ریپ کیا۔ پولیس نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کیا اور پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کر کے تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

بدھ کی رات ایک گمنام ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ماں اور بیٹی کی پولیس کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی مکمل ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی۔

پیشے کے لحاظ سے وکیل ایمان مزاری کا غلطی سے اس ویڈیو سے سامنا ہوگیا کیوں کہ ایک صحافی نے اسے شیئر کیا ہوا تھا۔

وہ مزید بتاتی ہیں کہ ’میں اس کے بعد دو سے تین گھنٹے جیسے سکتے میں چلی گئی۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ اتنی کم عمر سے آپ اتنے کمزور اور غیر محفوظ ہیں۔۔۔آپ کی بہت ‘لائک’ والی وائرل ویڈیو کسی کے لیے عمر بھر کا صدمہ بن سکتی ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

ماں اور کمسن بیٹی کا مبینہ ’ریپ‘، ملزم ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

’میں بے باک لڑکی ہوں لیکن اس لمحے میرا سانس رُک گیا‘

’ہراس کا شکار مرد ہوں یا خواتین، خاموش رہنا حل نہیں’

ریپ کی گئی بچی سے ملزم کی موجودگی میں تفتیش ’انہونی بات‘ نہیں؟

’ریپ سے متاثرہ‘ کم عمر ماں حکومتی ادارے کے حوالے

پاکستان نے بچیوں کا ریپ کرنے والے مفرور مجرم کو برطانیہ کے حوالے کر دیا

شازیہ عبداللہ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کا سوشل میڈیا پر اس ویڈیو سے سامنا ہوا۔

‘آپ بتائیں جب ایک چار سالہ بچی اپنے ساتھ ہونے والے ریپ کو بیان کرنے کی کوشش کرتی ہے، اسے سننے کے بعد آپ کو نیند آسکتی ہے؟ میں ایک ماں ہوں۔ اور میری دو بیٹیاں ہیں۔ آپ سوچیں اچانک سے ایسی ویڈیو دیکھنے سے میرا کیا حشر ہوا ہوگا۔۔۔’

یہی ویڈیو صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے بھی اپنے اپنے سوشل میڈیا صفحات پر شیئر کی اور اب ان تمام لوگوں پر کڑی تنقید کی جارہی ہے۔

انٹرنیٹ کے ذریعے اپنا بزنس چلانے والی شازیہ عبداللہ کا وائرل ہونے والی ویڈیو کے بارے میں کہنا ہے کہ ‘میرا سوال صرف یہ ہے کہ اگر اپنے گھر کی کوئی بچی ہوتی تو کیا آپ ایسا کرتے؟’

وہ ایسے مواد کے ساتھ وارننگ کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتی ہیں ‘اچھا ہوتا اگر یہ لوگ یہ ویڈیو شئیر کرنے سے پہلے ‘ٹرِگر’ وارننگ جاری کرتے۔ ‘

‘ٹرِگر’ وارننگ کیا ہے؟

rape

Getty Images

بہت سے صارفین جن میں شازیہ بھی شامل ہیں، انھوں نے بارہا انگریزی زبان کے لفظ 'ٹِرگر' کا استعمال کیا ہے۔ ٹرِگر شدید ذہنی اور جسمانی ردِعمل کو کہتے ہیں جو کسی پرتشدد واقعے کو دیکھنے یا سننے کے نتیجے میں ہو سکتا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ‘ٹِرگر وارننگ’ یا ٹی ڈبلیو کسی ایسی ویڈیو کے اوپر انتباہ کے طور پر لگایا جاتا ہے جس کے ذریعے صارف شیئر کیے گئے مواد کے بارے میں باقی صارفین کو آگاہ کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کے شیئر کیا یا کسی شخص کی تکلیف یا پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

لیکن یہاں ماہرین ایک عنصر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ صرف وہ ہی افراد ‘ٹرِگر’ نہیں ہوتے جن کی زندگی میں کوئی پرتشدد واقعہ رونما ہوا ہو بلکہ یہ دوسرے افراد کے لیے بھی شدید پریشانی یا ذہنی تناؤ کا باعث ہو سکتا۔

‘انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہو جانے والی چیز ہمیشہ وہاں رہتی ہے

اب اس تمام تر معاملے میں ہماری سوشل میڈیا صارفین کے طور پر کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والے ادارے کی سربراہ نگہت داد نے بتایا کہ ‘حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ ویڈیو ایک گمنام پیج سے ٹویٹ ہوئی اور پھر ایک صحافی نے اسے شیئر کیا جس کے بعد یہ وائرل ہوگئی۔اب یہ دونوں اعتبار سے غلط ہے۔ ایک تو صحافی یا سماجی کارکن ہونے کے ناتے آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ سوچ سمجھ کر چیزیں شیئر کریں۔ دوسرا، اس بچی کی شناخت ظاہر ہوگئی اور ہم سب کو پتا ہے کہ کوئی چیز ایک بار انٹرنیٹ پر آجائے تو وہ ہمیشہ وہاں رہتی ہے۔’

اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ ‘ضابطہ فوجداری کے سیکشن 352 کے تحت ایسے تمام بیانات جیسے کہ ویڈیو میں دیکھے جاسکتے ہیں یہ اِن کیمرہ ہوتا ہے۔ اور اس میں کسی مظلوم کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی’۔

‘ایسی ویڈیوز سے انصاف کے عمل میں تیزی آ جاتی ہے!

اب اسی بارے میں ایک دوسرا بیانیہ بھی ہے۔ کچھ ماہ پہلے خیرپور کے ایک سکول ٹیچر کی اپنے شاگرد کو مبینہ طور پر ریپ کرتے ہوئے ایک تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وائرل ہوگئی۔ جس کے نتیجے میں ٹیچر کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ اس کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں۔

کچھ صارف کا خیال ہے کہ کسی ویڈیو کو جاری کرنے سے انصاف کی فراہمی جلد ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ لیکن جہاں خیرپور کے واقعے میں پولیس میں مقدمہ تصویر جاری ہونے کے بعد درج کیا گیا۔ وہیں اس کے برعکس کشمور کے واقعے میں اس ویڈیو کے سامنے انے سے پہلے پولیس اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کر چکی تھی۔

لیکن اس خیال کے بارے میں منقسم آرا پائی جاتی ہیں۔

نگہت داد کہتی ہیں کہ ‘یہ کوئی جواز نہیں ہوا۔ اگر آپ کسی معاملے کو سماجی رابطے کے ذریعے اجاگر کرنا بھی چاہ رہے ہیں، پھر بھی آپ کو کسی بھی قسم کے ظلم کا شکار ہونے والے افراد کی عزتِ نفس کے بارے میں سوچنا ہوگا۔’

جبکہ ایمان مزاری کہتی ہیں کہ ‘آپ کی ترجیح اس ویڈیو میں موجود انسان ہونا چاہیے نہ کہ آپ کو اس کے ذریعے ملنے والی پذیرائی یا لائکس۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16633 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp