ایک عام لڑکی کی ڈائری ( 1 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مورخہ اتوار پندرہ نومبر انیس سو بانوے
15/11/1992

ہیلو ڈائری کیسی ہو؟ آج سے مجھے ایک نیا دوست بنانا ہے جس سے میں اپنے جذبات کھل کے بتا سکوں۔ ایسا نہیں ہے کہ میرے دوست نہیں ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہر کسی سے کسی نہ کسی وجہ سے مجھے جج کیے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ کسی کی شکل مجھ سے اچھی ہے تو کسی کی عقل، کسی کے ابا کی تنخواہ میرے ابا سے زیادہ ہے تو کسی کی الماری میں میرے کپڑوں سے زیادہ جدید انداز کے کپڑے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ کچھ ایسی ہیں جن کی الماری میں مجھ سے زیادہ باحجاب کپڑے بھی ہیں۔ اب تم سوچو گی کہ مسئلہ کیا ہے میرے ساتھ مجھے جدید کپڑوں کا بھی ڈر ہے اور باحجاب کپڑوں کا بھی۔ تو ڈئیر ڈائری یہی تو مسئلہ ہے کہ مجھے دونوں قسم بلکہ ہر قسم کی دوستوں سے تحفظات ہیں، مجھے اپنا آپ ہر کسی سے کم ہی لگتا ہے۔ امی کہتی ہیں تمہارے تو رونے ہی ختم نہیں ہوتے آج بھی تو ایسا ہی ہوا تھا۔

آج سے یاد آیا تمہیں آج سے میرے دکھڑے سننے ہوں گے اور اپنے اندر محفوظ کر لینے ہوں گے۔ جو تم سے کہہ رہی ہوں اور کہوں گی وہ کسی اور سے نہیں کہہ سکتی۔ نہ کہنا چاہتی ہوں۔ بہت کوشش کر کے دیکھ لی۔ میں کسی کو نہیں سمجھا سکتی کہ میں کیا محسوس کر رہی ہوں پھر کیا فائدہ ایک جیسی باتیں بار بار دہرانے کا۔ مگر پھر بھی دل تو چاہتا ہے ناں۔ اور میں کہہ بھی دیتی ہوں جو منہ میں آتا ہے ”بک“ دیتی ہوں اور پھر جو مسئلہ نمٹانے کی کوشش کرتی ہوں وہ اور بگڑ جاتا ہے۔

ہاں میں بتا رہی تھی آج کیا ہوا۔ آج صبح تو ویسے ہی ہوئی جیسے روز ہی ہوتی ہے۔ صبح اٹھی، اسکول جانے سے پہلے اپنا اور راحیل کا ناشتہ پکایا، روٹی کی شکل دیکھ کر راحیل نے دوبارہ مذاق اڑایا میرا اور اس کا دوبارہ جھگڑا ہوا کہ اتنی بری لگتی ہے اسے میری روٹی تو خود پکا لیا کرے اپنی۔ اور دوبارہ امی نے مجھے ڈانٹا کہ تین مہینے سے روٹی پکا رہی ہوں اور ابھی تک الٹے سیدھے نقشے بنا رہی ہوں۔ امی نے اشاروں اشاروں میں ٹوکا بھی کہ اب بڑی ہو گئی ہوں سلیقہ سیکھوں اگلے گھر جاکر کیا کروں گی۔

یہ طعنہ وہ پچھلے چار ماہ سے مزید شد و مد سے دینے لگی ہیں جب سے وہ شروع ہوا ہے۔ پتا نہیں تم سے بات کرتے ہوئے میں اس کا نام کھل کر لے سکتی ہوں یا تم سے بھی چھپانا ہے۔ خیر جب سے امی نے مجھے روٹی پکانا سکھائی ہے راحیل کو وہ دوبارہ بنا کے دے ہی دیتی ہیں مگر مجھے اپنے ہاتھ کی روٹی ہی کھانی ہوتی ہے۔ آج غنیمت پکی تھی بلکہ میرے خیال میں تو پچھلے تمام دنوں سے اچھی ہی شکل تھی تو میں نے اپنی روٹی سے ناشتہ کر ہی لیا۔

مگر روز کی طرح ہی مجھے تیار ہونے میں دیر ہو گئی۔ میں جب بستہ لے کر نکلی تو میری اسکول کی لڑکیاں گلی کے کونے تک پہنچ چکی تھیں۔ میں جلدی جلدی چلنے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ جلدی سے ان تک پہنچ جاؤں تو چادر پیروں میں اٹک گئی گری تو نہیں مگر میرا پیر کافی زور سے مڑا۔ مجھے ابھی اتنی بڑی چادر سنبھالنے کی عادت نہیں ہوئی۔ وہ لڑکیاں بھی نکل گئیں میں جب اسکول پہنچی تو گیٹ بند ہو گیا تھا رحمان بابا نے بھی دوبارہ ٹوکا۔

رحمان بابا ہمارے اسکول کے چوکیدار ہیں۔ اسکول میں سارا دن وہی عام سا گزرا آدھی کاپیاں کمپلیٹ تھیں آدھی ان کمپلیٹ تھیں۔ جو کام اسکول کے اسکول میں کر لیتی ہوں وہ ہو جاتا ہے گھر جاکر امی گھر کے کام میں لگا لیتی ہیں۔ اردو والی مس ہمیشہ ہی اتنے لمبے لمبے مضمون لکھواتی ہیں کہ کاپی مکمل ہی نہیں ہو پاتی۔ ان کا کیا جاتا ہے ان کے ہاتھ تو پچھلے سال کی فرسٹ آنے والی لڑکی کی کاپی لگ گئی ہے۔ آج بھی انہوں نے اس میں سے کام نکال کے مجھے پکڑا دیا کہ میں بورڈ پہ لکھ دوں۔ باقی سب کا کام پورا ہو گیا اور مجھے انہوں نے کاپی اپنے پاس رکھنے کو کہہ دیا کہ میں گھر پہ پوری کر لوں۔

مجھے پتا ہے صبح پھر وہ مجھ سے پوچھیں گی

”فرخندہ تم نے پھر کاپی پوری نہیں کری“ اور میں پھر سوچوں گی کہ یہ اردو پڑھاتی ہیں تو ان کی اپنی اردو کیوں خراب ہے۔ روز کا ڈرامہ ہے۔

ارے ہاں آج شاہدہ تالے والی ڈائری لائی تھی گلابی رنگ کی اس کی اسلام آباد والی خالہ نے بھیجی تھی اسے سالگرہ پہ۔ اس نے مجھے بتایا کہ اب وہ اپنی ساری راز کی باتیں اس میں لکھے گی۔ شاید یہ بھی کہ یہ ڈائری اصل میں خالہ نے نہیں خالہ زاد نے دی ہے۔ وہ ہے تو ہماری کلاس میں مگر ہم سے دو سال بڑی ہے۔ اس کی سب حرکتیں ہی اتنی عجیب ہیں۔ بس کیا بتاؤں۔

مجھے بھی ڈائری لکھنے کا خیال اسی کی ڈائری دیکھ کر آیا اسی لیے اسکول والی بک شاپ سے ایک لائن والی موٹی کاپی لے لی۔ بس تم سمجھ جاؤ تمہارا پیار کا نام ڈائری ہے۔ مجھے بس یہ پریشانی تھی کہ تم پہ تالا کیسے لگاؤں۔ اس کا بھی حل میں نے یہ نکالا کہ چھوٹا تالا بھی لے لیا اور اب ڈائری لکھنے کے بعد ابو کی پنچ مشین سے کھولنے والی سائیڈ کے بیچ میں ایک سوراخ کرلوں گی آرپار۔ تھوڑا وقت لگے گا تھوڑے تھوڑے صفحے پنچ کرنے پڑیں گے۔

لیکن سب کے پڑھنے کے لیے چھوڑ بھی تو نہیں سکتی۔ ہاں شاہدہ نے اپنی سالگرہ کی تفصیل بھی بتائی تھی جو میرے ذہن میں ایسی بیٹھی کہ نکلتی ہی نہیں تھی گھر آ کر سب سے پہلی ضد امی سے یہی کری۔ سوری ضد کی۔ کہ میری سالگرہ بھی کیا کریں جس پہ امی نے وہ لمبا چوڑا خطاب کیا جس کا اوپر حوالہ دیا تھا۔ کہ مجھے سلیقہ سیکھنا چاہیے، ہمارا باپ گورنر کی گدی پہ نہیں بیٹھا، انہیں دیکھوں جن کے ماں باپ نہیں، جو اسکول نہیں جا سکتے، جو عید بقر عید بھی نئے کپڑے نہیں بنواتے۔

اور مجھے ناشکری نہیں کرنی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ ان کی ڈانٹ تب ختم ہوئی جب برابر والے گھر کی رشیدہ چاچی آئیں۔ اور امی نے وہی روز والی دکھڑے انہیں سنانے شروع کر دیے وہ کل ہی تایا ابو والوں کے یہاں سے ہو کر آئی تھیں اور رشیدہ چاچی کو بتانے لگیں کہ تایا ابو کے گھر کیسی نئی نئی چیزیں ہیں اور فرخندہ کے ابو کچھ بھی نہیں لاکر دیتے۔ امی تو کل اشرف چاچو کے گھر بھی گئی تھیں پھر ان کے پرانے صوفے اور ٹوٹا فرش کیوں یاد نہیں رہا۔ یہ بات میں ان سے نہیں کہہ سکتی۔ اسی لیے تم سے کہہ رہی ہوں۔ اور اسی لیے تمہاری زبان کو تالا لگائے رکھنے کی ضرورت ہے۔ کہ تم امی کو میری چغلی نہ کھا لو۔ لاحول ولا تم امی سے میری چغلی نہ کردو۔

میری اردو کا خانہ خراب ہوتا جا رہا ہے۔ خدا خیر کرے۔ ویسے آج مجھے پورے دن کی روداد لکھ کر بہت مزا آیا۔ بہت دن بعد اپنے الفاظ لکھے ہیں کسی دوسرے کے الفاظ سے صفحے کالے نہیں کیے۔ عجیب سی خوشی محسوس ہو رہی ہے جیسے خوشی کے بگولے پیٹ سے اٹھ رہے ہوں۔ مگر مجھے اب سونا ہے صبح جلدی اٹھنا ہوگا ورنہ پھر اسکول پہنچنے میں دیر ہو جائے گی۔ پیاری ڈائری شب بخیر

مورخہ
پندرہ نومبر دو ہزار بیس اتوار
15/11/2020

آج کا دن بہت تھکا دینے والا تھا۔ اسکول میں سارا وقت بچوں کا شور سن کر گھر آنے تک دماغ سن ہو گیا تھا۔ کانوں میں سیٹیاں سی بجتی ہیں کسی سے کوئی بات کرنے کا دل نہیں چاہتا اپنی آواز سے نفرت محسوس ہوتی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اتنی بلند آواز نکلتی ہے جو اپنے ہی کانوں میں چبھتی ہے۔ کئی بار بچے شکایت کرتے ہیں امی آپ بہت زور سے بولتی ہیں مگر انہیں کیسے سمجھاؤں کے پورا دن کلاس میں چیخ چیخ کر ہلکی آواز میں بولنا ممکن نہیں ہوتا۔

آج بھی یہی حال تھا۔ مگر ریاض نے اسکول کی چھٹی کے وقت ہی میسج کر دیا تھا کہ گھر پہنچ کے پہلے ان کا آفیشل ڈاکیومنٹ نکال کے رکھوں۔ مجھے پتا تھا کہ پورا کمرہ تلپٹ ہوگا تو ہمارے شوہر نامدار کا رکھا ڈاکیومنٹ ملے گا۔ اسی لیے رستے سے نان چھولے لیتی ہوئی آئی تھی۔ مجھے پتا تھا ساس کا منہ بن جائے گا مگر میرے پاس اور کوئی رستہ نہیں ہے کہ بیک وقت دو کام نمٹاؤں۔ نہ میری کسی بحث میں پڑنے کی ہمت تھی۔ وہ اس زمانے کی خاتون ہیں جب ایک تنخواہ سے گھر چل جایا کرتے تھے۔

جب بچوں کی تعلیم کے لیے والدین کو الگ وقت نہیں دینا پڑتا تھا۔ اور جب ساسیں بھی بہووں کے ساتھ کام کروا لیتی تھیں ساس بہو کے ڈرامے دیکھنے میں مگن نہیں ہوتی تھیں۔ ہاں ہنس لو مجھ پہ کہ ساس پہ طنز مارا ہے۔ ان سے تو کہہ نہیں سکتی۔ شادی کے اتنے سال بعد کم از کم اتنا تو میں سمجھ گئی ہوں کہ میں انہیں بدلے ہوئے وقت کے تقاضے سمجھا نہیں سکتی لیکن ساتھ ہی میں ان کے تقاضوں کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتی۔

گھر پہنچ کے کپڑے بدل کے ان کے لیے ایک چپاتی پکا کر کھانا دیا۔ اور کمرے میں مہم پہ روانہ ہو گئی۔ کبھی الماری میں غوطہ لگایا تو کیبنٹ سے نکلی صندوق میں غروب ہوئی تو بیڈ کے نیچے رکھے کاغذوں کے انبار سے طلوع ہوئی شوہر صاحب کا ڈاکیومنٹ تو ملا ہی ساتھ اپنی کئی ڈائریز بھی ملیں۔ کچھ پرانی کاپیاں جن پہ میں نے ڈائری لکھنی شروع کی تھی۔ اور پتا نہیں کیوں میں نے پہلی کاپی کھول لی۔ پہلی دفعہ والی ڈائری پڑھ کے بہت عجیب لگا۔

وہی خوشی محسوس ہوئی جیسی پہلی دفعہ ڈائری لکھ کر ہوئی تھی۔ کام نمٹا کر دوبارہ ڈائری کھول لی کئی دفعہ پہلا صفحہ پڑھا اور پھر تاریخ پہ دھیان گیا۔ اٹھائیس سال پہلے اسی دن میں نے ڈائری لکھنی شروع کی تھی اور پھر خیال آیا کہ کیوں نہ آج دوبارہ ڈائری لکھنی شروع کروں۔ آخری دفعہ جس ڈائری میں روزمرہ کی روداد لکھی تھی اسی کے آخری خالی صفحوں پہ دوبارہ آج کی روداد لکھ رہی ہوں۔ مگر بہت خالی پن ہے۔ میں چاہتی ہوں وہی خوشی دوبارہ محسوس کروں مگر اس وقت کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔ اور اب تھکن سے میری آنکھیں بند ہو رہی ہیں۔ کل دوبارہ کوشش کروں گی۔

شب بخیر ڈائری

Latest posts by ابصار فاطمہ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 88 posts and counting.See all posts by absar-fatima