ارطغرل کی چار چاند ریٹنگ اور بڑھتی ہوئی فحاشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یقین جانیں میں پاکستان کے سیاسی حالات کو دیکھ کر تھک چکا ہوں۔ سمجھ نہیں آتی کہ ہماری سیاست کس طرف جا رہی ہے۔ روزانہ سیاستدان اپنے حریفوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔ ایک دوسرے کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ مگر نہیں جانتے کہ اس حمام میں سارے ننگے ہیں۔ آپ ایک پل کو ہمارے سیاستدانوں کی باتوں کا مشاہدہ تو کریں۔ سوائے مخالفیں کو لتاڑنے، ایک دوسرے کی تذلیل کرنے، اور سوائے ایک دوسرے کو جھوٹا مکار ثابت کرنے کے کوئی بات نہیں ہوتی۔

آپ حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف میں، ملکی اصلاحات پر بات کرنی چاہیے۔ پی ڈی ایم بنتے ہی حکومت دباؤ کا شکار تھی۔ کیونکہ حکومتی پالیسوں پر بات ہو رہی تھی۔ سب کہہ رہے تھے کہ بہت ہو گیا اب بتائیں کہ ان دو سالوں میں کیا پایا کیا کھویا۔ خارجہ پالیسی کہاں ہے؟ ، کیا نئی اصلاحات ہوئی؟ ، مقننہ کے ہوتے ہوئے ایوان صدر کو آرڈیننس فیکٹری کیوں بنایا گیا ہے؟ مگر پھر نواز شریف نے اداروں اور ان سے وابستہ افراد کے نام لے کر ساری بحث کا رخ ہی بدل دیا۔

کردار سازی کی نا صرف نئی نسلوں کو ضرورت ہے بلکہ ہمارے سیاستدانوں کو بھی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہم کہاں جا رہے ہیں۔ ریپ کے بڑھتے کیسسزکی آخر کیا وجہ ہے؟ پہلے قصور میں کئی بچے زد میں آئے، پھر ننی زینب درندے کی بھینٹ چڑھ گئی، پھر موٹر وے پہ نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا اور اب کچھ روز قبل کشمور میں سانحہ پیش آیا۔ کیا اس پر کسی نے مزید قانون سازی کی ضرورت سمجھی؟ مجھے سمجھ نہیں آتا کی مدنیہ کی ریاست کے دعویدار ایسے بھیڑیوں کو سزائے موت کیوں نہیں دیتے۔ اس حوالے سے زینب الرٹ بل قانون کا حصہ ہے، جو مقتول کو قصاص کا حق ہی نہیں دیتا۔ اور مجرم کو محض 7 سال کی قید۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ سیاستدان عیاشیوں میں مگن ہیں۔

میرے نزدیک اس طرح کے واقعات ہونے کی سب سے بڑی وجہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی فحاشی ہے۔ جو ہماری نئی نسل کو مسلسل گمراہ اور تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ صلاح الدینؒ نے فرمایا تھا کہ اگر کسی قوم کو برباد کرنا ہو تو اس قوم میں فحاشی عام کردو۔ آپ میڈیا دیکھ لیں، ڈرامے دیکھ لیں یا صرف اشتہارات ہی دیکھ لیں۔ غلاظت ہی غلاظت ہے۔ پاکستانی ڈراموں نے ہمارے ہر رشتے کو گندا دیکھا یا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ایسے خرافات کے حامی مجھے یہی کہیں گے کہ ہم تو سچائی دیکھا رہے ہیں یا یہ کہیں گے کہ ڈرامہ ہوتا ہی کچھ منفرد دکھانے کے لیے ہے، اگر معمول پر مبنی ڈرامے دکھائیں گے تو کون دیکھے گا؟

ایسی سوچ والے لوگ خود تو سمجھدار ہیں مگر دوسروں کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔ اگر آپ سچائی دیکھا رہے ہیں تو کم از کم آخر میں قانون کی بلادستی دکھائیں۔ اور اگر کچھ منفرد بنانا ہے تو ارطغرل جیسے ڈرامے بنائیں، نہ کے مقدس رشتوں سے کھیلنے لگ جائیں۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ اس کے جواب میں کہیں گے کہ لوگ دیکھنا یہی چاہتے ہیں۔ تو حضور ارطغرل نے اس دلیل کو مسترد کر دیا ہے۔ ارطغرل کی چار چاند ریٹنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام ایسے غلیظ ڈرامے نہیں دیکھنا چاہتی۔ اس کا جواب بھی آئے گا کہ اگر آپ نہیں دیکھنا چایتے تو نہ دیکھیں۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ یہ لوگ خود تو سمجھدار ہیں مگر دوسروں کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔

میڈیا کے طالب علموں کو بوبو ڈول تجربہ کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔ جس میں بتایا جاتا ہے کہ بچہ جو چیز دیکھتا ہے وہ وہی حرکتیں کرتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی بچی یہ دیکھے کہ گڑیا کا خیال رکھنا چاہیے تو بچی بھی گڑیا کا خیال رکھے گی۔ بچپن میں ریسلنگ دیکھ کر چھوٹے بھائی کو مارنا اس بات کا ثبوت ہے۔ یعنی جو ہم دیکھتے ہیں ہم وہی حرکتیں دھراتے ہیں۔ نہیں یقین تو یوٹیوب پر سرچ کر کے دیکھ لیں۔ تو اب آپ کو یقین ہو گیا ہوگا کہ یہ ڈرامے کس قدر بیمار اور گمراہ کن ہیں۔ اور جب بازار میں سوائے غلیظ ڈراموں کے کچھ نا ہو تو معاشرے کا اللہ ہی مالک ہے۔ اس قسم کی خرافات کے حامی اب یہ کہہ دیں گے کہ فحاشی کی تعریف کیا ہے، یہ تو واضح کر دیں۔ تو ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کے اس کی تعریف آئین پاکستان میں واضح موجود ہے۔

میں نے پہلے کہا تھا کہ معاشرے میں بگاڑ کا سب سے بڑا سبب یہ فحاشی ہے۔ عورت کو ننگ دھڑنگ دیکھانا ترقی کی نہیں بلکہ تنزلی کی نشانی ہے۔ اور یہی وجہ ہے پاکستان میں بڑھتے ریپ کیسسز کی۔ یونیسف (UNICEF) کی رپورٹ کے مطابق فحاشی کو عام کرنے سے ریپ کیسسز میں مسلسل اضافہ ہوتاہے۔ یہ رپورٹ انصار عباسی یا کسی مولوی نے نہیں بلکہ یونیسف (UNICEF) نے خود لکھی ہے۔

لہذا میری گزارش ہے ارباب اختیار سے کہ اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کریں۔ اصلاحات کریں، قانون سازی کریں۔ کچھ خود بھی کر کے دکھائیں نا کہ مورد الزام ماضی کی حکومتوں کو ٹھرائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •