جو بائیڈن کے دور میں امیگریشن پالیسی تبدیل ہونے کا امکان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کے صدارتی انتخابات کے بعد غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق برتری حاصل کرنے والے امیدوار جو بائیڈن کے ممکنہ دورِ صدارت کے دوران امید کی جا رہی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کی امیگریشن پالیسیوں کو تبدیل کیا جائے گا۔

مبصرین کے مطابق جو بائیڈن صدر ٹرمپ کی گائیڈ لائنز کو ان ہی طریقوں سے تبدیل کر سکتے ہیں جس طرح انہیں لاگو کیا گیا تھا۔ یعنی صدارتی حکم ناموں کے ذریعے۔ بہت سے نئے قواعد کو تبدیل کرنے کے لیے دیگر ذرائع کی ضرورت پڑے گی۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ چار برس کے دوران صدارتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے 400 سے زائد قواعد و ضوابط سے متعلق اقدامات کیے ہیں۔

‘جارج میسن یونیورسٹی’ میں انسٹی ٹیوٹ آف امیگریشن ریسرچ کی پروگرام کو آرڈینیٹر مشیل وسلین نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان اقدامات میں سفری پابندیاں، امیگریشن کے قواعد، سیاسی پناہ لینے کے قوانین، سرحد پر دیوار کی تعمیر اور مہاجرین کے اندراج پر پابندیاں شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قوانین کے مطابق تو صدارتی حکم نامے نیا صدر آ کر واپس لے سکتا ہے۔ لیکن بہت سے کیسز میں تبدیلیاں فوری طور پر نافذ نہیں ہوتیں۔ کیوں کہ ایجنسیوں میں نئے لوگ بھرتی کرنے پڑتے ہیں۔ نئے قواعد بنانے پڑتے ہیں اور ان تبدیلیوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان پالیسیوں کو واپس لینا پیچیدہ عمل ہے۔

ان کے مطابق وہ پالیسیاں جو قواعد میں تبدیلی کے ذریعے نافذ کی گئی تھیں، انہیں ختم کرنے کے لیے نئے قواعد بنانے پڑیں گے اور اس پر عوامی رائے کے لیے وقت درکار ہو گا۔

بائیڈن حکومت کی خارجہ پالیسی کیا ہو گی؟

جو بائیڈن کے پہلے 100 دن میں امید کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کی بعض ممالک کے شہریوں پر امریکہ داخلے کی سفری پابندیوں کو ہٹا لیا جائے گا۔ یہ پابندیاں شروع میں مسلمان اکثریتی ممالک پر لگائی گئی تھیں۔ مگر بعد میں بعض دیگر ممالک کو بھی ان میں شامل کر لیا گیا تھا۔

آخری حکم نامے میں ان ممالک میں میانمار، اریٹیریا، کرغستان، نائجیریا، سوڈان، تنزانیہ، ایران، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن، وینزویلا اور شمالی کوریا شامل تھے۔

ماہرین کے مطابق اس کے علاوہ بچپن میں غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے افراد کے تحفظ کے لیے اوباما دور میں لائے گئے پروگرام ڈی اے سی اے کو دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

اس بات کی امید کی جا رہی ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ مزید لاکھوں ایسے درخواست گزاروں کو امریکہ سے بے دخل ہونے سے روک کر انہیں ملک میں کام کرنے کی اجازت دے گی جو بچپن میں بغیر اجازت کے ملک میں بطور تارک وطن داخل ہوئے تھے۔

جو بائیڈن پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ دستاویزات کے بغیر آنے والے بہت سے مہاجرین کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے کانگریس میں قانون سازی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکہ کئی برس سے ہر سال ہزاروں مہاجرین کا ملک میں داخلہ قبول کرتا رہا ہے۔ جسے ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ریکارڈ سطح پر کم کیا گیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس کی حد 15 ہزار تک کر دی تھی جسے بائیڈن ایک لاکھ 25 ہزار تک لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 396 posts and counting.See all posts by voa