الطاف حسین کا نام انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایم کیو ایم کے بانی رہنما الطاف حسین (فائل فوٹو)

پاکستان میں دہشت گردی سمیت مختلف واقعات میں ملوث افراد سے متعلق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انتہائی مطلوب ملزمان کی فہرست جاری کر دی ہے جس میں ایک ہزار 210 ملزمان کے نام شامل ہیں۔

انتہائی مطلوب ملزمان میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں ملوث متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین، محمد انور، افتخار حسین اور کاشف خان کامران کے نام شامل ہیں۔

اس فہرست میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے ساتھ بات چیت کرنے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنما ناصر محمود بٹ اور میاں سلیم رضا کے نام بھی شامل ہیں۔

پنجاب کے سابق وزیر کرنل (ر) شجاع خانزادہ پر حملہ کرنے والے ملزمان مطیع اللہ اور دیگر کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

سابق صدر پرویز مشرف اور سابق وزیرِ اعظم شوکت عزیز پر خودکش حملہ کرنے والے ملزمان کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جب کہ پیپلز پارٹی کے رہنما و سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کے اغوا میں ملوث ملزمان بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔

عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ: تین ملزمان کو عمر قید، الطاف حسین مرکزی کردار قرار

ممبئی حملہ کیس میں نامزد ملزمان بھی فہرست میں موجود ہیں۔ فہرست میں شامل افراد میں سے بیشتر کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ اُن میں سے بیشتر افراد اشتہاری ہو چکے ہیں اور کسی بھی عدالت کے سامنے پیش ہونے سے گریزاں ہیں۔ کئی افراد کے خلاف سنگین کیسز کی بنا پر سر کی قیمت بھی رکھی گئی ہے۔

دہشت گردوں کی انتہائی مطلوب ملزمان کی فہرست میں گزشتہ برسوں کی نسبت اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ مجرمان قانون کے کٹہرے میں کیوں نہیں لائے جاسکے۔

سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سال اس فہرست میں نام درج کرنے کے لیے طریقۂ کار اختیار کرنے کا فیصلہ وزارتِ داخلہ کرتی ہے۔ ان کے بقول وہ اس طریقہ کار سے لاعلم ہیں۔

اس فہرست میں سب سے زیادہ مطلوب افراد کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے جن کی تعداد 737 ہے۔

اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والی بلوچستان لبریشن آرمی کیسے بنی؟

بلوچستان کے 161، پنجاب کے 122، سندھ کے 100 اور اسلام آباد کے 32 ملزمان ایف آئی اے کو انتہائی مطلوب ہیں جب کہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے 30 ملزمان بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

بلوچستان کی فہرست میں بلوچستان لبریشن آرمی کے ڈاکٹر اللہ نذر سمیت اسی تنظیم کے کئی افراد شامل ہیں جن پر بلوچستان میں دہشت گرد کارروائیوں کا الزام ہے۔

اس فہرست میں شامل بیشتر نام مختلف مذہبی تنظیموں کے ہیں جن میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، سپاہ محمد پاکستان، امامیہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن، جند اللہ، لشکرِ طیبہ، سپاہ صحابہ، لشکر اسلامی اور جیش محمد شامل ہیں۔

اس فہرست میں شامل کئی افراد ملک سے باہر ہیں جن میں سے بعض ملزمان کی وطن واپسی کے لیے ایف آئی اے نے انٹرپول سے رابطہ کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 443 posts and counting.See all posts by voa