ڈونلڈ ٹرمپ یا ایک رویے کی شکست؟ (مکمل کالم )۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ اب تک دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کا دعویدار ہے۔ سو وہاں کے انتخابات پر دنیا بھر نظریں جمائی بیٹھی تھی۔ ہماری سیاسی زبان کے مطابق وہاں دو جماعتوں نے ”باریاں“ لگائی ہوئی ہیں۔ کبھی ری پبلکن پارٹی حکومت بنا لیتی ہے اور کبھی ڈیموکریٹک۔ تقریباً دو صدیوں سے یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ امریکی اپنے اس دو جماعتی نظام پر فخر کرتے ہیں۔ اسے سیاسی استحکام کا ذریعہ خیال کرتے ہیں۔ دنیا کے جانے مانے سیاسی مفکرین کا بھی یہی خیال ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اب دو جماعتی نظام گالی بن چکا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کیوں ہارا؟ اس پر بہت دیر تک تبصرے ہوتے رہیں گے۔ اس نے امریکیوں کی مقدور بھر خدمت کی۔ امریکی معیشت کو بڑی حد تک بہتر بنایا۔ روزگار کے نئے نئے مواقع پیدا کیے۔ بیمار صنعتوں کو نئی زندگی دی۔ امریکیوں کو سہولتیں دیں۔ آباد کاروں اور نئے آنے والوں کی حوصلہ شکنی کر کے مقامی لوگوں کے مفادات کو تحفظ دیا۔ اس نے کوئی نئی جنگ نہیں چھیڑی۔ افغانستان سمیت پہلے سے جاری جنگوں کو سمیٹنے اور اپنی فوج کو واپس لانے کا سلسلہ شروع کیا۔ امریکیوں نے بڑی حد تک آسودگی محسوس کی۔ وہ ایک مقبول صدر رہا۔ نوجوان اس کے فریفتہ رہے۔

لیکن ٹرمپ کی شخصیت کا ایک دوسرا رخ بھی تھا۔ وہ بہت خود سر تھا۔ اس کی شخصیت سے رعونت جھلکتی تھی۔ وہ مخالفین پر نفرت اور تعصب سے بھری ہوئی تنقید کرتا تھا۔ اس کی شخصیت کا نفسیاتی جائزہ لینے والوں کا کہنا ہے کہ وہ ”نرگسیت“ کا شکار تھا۔ خود پرست تھا۔ اپنی ذات کو ہمیشہ دوسروں سے بالا تر سمجھتا۔ خود کو عقل و دانش کا مرقع خیال کرتا تھا۔ مخالفین کو حقیر خیال کرتا اور سر عام بازاری القابات سے نوازتا تھا۔ شائستگی اور متانت اس کی شخصیت سے کوسوں دور تھی۔

آزاد میڈیا سے اس کی کبھی نہ بنی۔ اگر کوئی صحافی تلخ سوال کرتا تو اسے اپنی پریس کانفرنس سے اٹھا دیتا تھا۔ وائٹ ہاؤس داخلے پر پابندی لگا دیتا۔ سی این این سے اسے انتہا درجے کی نفرت تھی۔ کھلے بندوں اسے برا بھلا کہتا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران بھی کہا ”جب بھی سی این این لگاو، یہ کاوڈ، کاوڈ، کاوڈ (Covid) کی گردان کر رہے ہوتے ہیں، باسٹرڈ“ ۔ کرونا کے حوالے سے ایک ادارے کے سربراہ ڈاکٹر فاو چی کو اس نے نشانے پر لے رکھا تھا۔

ووٹنگ سے چند دن پہلے ایک انتخابی جلسے میں کہا ”یہ اسی سالہ بوڑھا ہمیں چمٹا ہوا ہے۔ میں صدر بنتے ہی پہلا کام یہ کروں گا کہ اسے نکال پھینکوں گا“ ۔ اس نے امریکی صدارت کو ایک مضحکہ خیز تماشا بنائے رکھا۔ غیر مہذب اور گھٹیا زبان کو رواج دیا۔ اس کی بھتیجی میری ٹرمپ نے اپنی کتاب میں چچا ٹرمپ کو خود پرست، دھوکے باز، انا پرست، خود پرست اور دنیا کا خطرناک انسان قراردیا اور لوگوں کو تلقین کی کہ اب اسے صدر نہ بنائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو کھلے عام جھوٹ بولنے میں کبھی عار محسوس نہیں ہوتا تھا۔ خود کو ایک سپر ہیومن خیال کرتا، دوسروں کی بے عزتی سے خوش ہوتا اور انہیں برے ناموں سے پکار کر لطف لیتا تھا۔ امریکہ میں قانون و انصاف کا سخت نظام نہ ہوتا تو اس کے بیشتر سیاسی مخالفین جیلوں میں ہوتے۔ امریکہ میں کوئی ”نیب“ نہیں تھا۔ نہ ہی کوئی ”پیمرا“ تھا کہ سی این این اور دوسرے مخالف چینلوں کو بند کر دیا جاتا۔ صحافیوں کو اٹھا لینے اور غائب کر دینے کا بھی وہاں کوئی دستور نہیں اس لئے ڈونلڈ ٹرمپ بس خون کے گھونٹ پی کے رہ جاتا تھا۔

اس نے اپنے مخالف سیاسی امیدوار کو ”سلیپنگ جو“ یعنی ہر وقت سویا ہوا جو بائیڈن کا نام دیا تھا۔ صرف اس لئے کہ بائیڈن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہیں۔ وہ نسلی برتری کے مرض میں مبتلا تھا۔ جب ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ کو پولیس نے گلا گھونٹ کے مار دیا تو اس نے کوئی کارروائی ضروری نہ سمجھی۔ اس کی چال ڈھال میں بھی متانت، تحمل اور سنجیدگی نام کو نہ تھی۔ بیشتر لوگوں کے خیال میں وہ متکبر شخص تھا۔ گزشتہ سال کے ایک سروے میں 80 فی صد امریکیوں نے اسے خود پرست قرار دیا۔

ان میں 43 فیصد خود اس کی اپنی پارٹی کے حامی بھی شامل تھے۔ اس نے قوم کو بری طرح تقسیم بھی کر دیا۔ جھوٹ بولنا اس کے لئے عام سی بات تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی خود پرستی اور انا نے کرونا جیسی وبا کا بھی مذاق اڑایا۔ ماسک پہننے کو بھی غیر ضروری قرار دیا۔ اگرچہ وہ خود بھی اس کا شکار ہوا اور اس کی بیوی بھی، لیکن اس نے قوم کو ہرگز اس موذی مرض کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہ کیا اور نہ ہی کوئی موثر حکمت عملی بنائی۔ نتیجہ یہ کہ دو لاکھ چالیس ہزار کے لگ بھگ امریکی اس وبا کا شکار ہو گئے اور لاکھوں اب بھی اس میں مبتلا ہیں۔

مبصرین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کو ایک ”رویے“ ، ”ایک کردار“ اور ایک خاص ”نفسیاتی کیفیت“ کی شکست قرار دیا ہے۔ کوئی بھی قوم چاہے کتنی بھی گئی گزری کیوں نہ ہو، اپنے راہنماؤں کا یہ سطحی اور بازاری انداز پسند نہیں کرتی۔ سو انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نہیں، ایک خاص رویے کو شکست دی۔ امریکی دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو ایک بار پھر پا لیا۔ ان انتخابات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر قوم خوش حال بھی ہو جائے، اسے روزگار بھی ملنے لگے، اس کے لئے آسانی بھی پیدا ہو جائے تو بھی انہیں ایک ایسا لیڈر قبول نہیں ہوتا جو لیڈر کے بجائے اوباش کھلنڈرا دکھائی دے۔ جو شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ نہ رکھے۔ جو انا کے خول سے نہ نکلے۔

اپنے غیر ذمہ دارانہ، غیر سنجیدہ مزاج کے عین مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی اس روایت کو بھی روند ڈالا کہ خندہ پیشانی سے شکست قبول کر کے اپنے مدمقابل کو مبارک باد دے۔ گنتی ہو رہی تھی کہ اس نے دھاندلی کا شور شروع کر دیا۔ کہنے لگا ”گنتی بند کرو“ ۔ جب اپنی ایک پریس ٹاک میں اس نے ایسی ہی بچگانہ باتوں کی تکرار کی اور کسی ثبوت کے بغیر دھاندلی کا غوغا شروع کر دیا تو کئی اہم ٹی وی چینلوں نے اسے یہ کہہ کر دکھانا بند کر دیا کہ صدر غیر ذمہ دارانہ باتیں کر رہا ہے۔ وہ اب تک خود کو فاتح قرار دے رہا ہے اور عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا کر اپنا ہلکا پن ظاہر کر رہا ہے۔

فتح کے بعد نئے منتخب صدر جو بائیڈن کی تقریر میں امریکیوں نے ایک نیا پن محسوس کیا۔ بائیڈن نے کہا، ۔ ”میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایک ایسا صدر بنوں گا جو تفرقہ پھیلانے کے بجائے لوگوں کو متحد کرے گا۔ آپس میں جوڑے گا۔ آج کے بعد یہاں کوئی نیلا (ڈیمو کریٹس کا رنگ) اور کوئی سرخ (ری پبلکن کا رنگ) نہیں ہے۔ اب پورے امریکہ کا ایک ہی رنگ ہے۔ میں سب کو ایک نگاہ سے دیکھوں گا اور دل و جان لگا کر اپنی قوم کا اعتماد جیتنے کی کوشش کروں گا۔ میں امریکہ کی روح کو دوبارہ بحال کروں گا۔ امریکہ کے وقار کو بحال کروں گا۔ ہمیں ایک دوسرے کو موقع دینا ہو گا۔ وقت آ گیا ہے کہ اب سخت الفاظ کا استعمال بند ہو۔ ماحول کی گرمی کو کم کیا جائے۔ ہم ایک دوسرے کو دیکھیں، ایک دوسرے کی سنیں۔ اپنے سیاسی حریفوں کو دشمن سمجھنا بند کریں۔ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اور یہ وقت امریکہ کے زخم بھرنے کا ہے“ ۔

جو بائیڈن کو امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ ٹرمپ نے ابھی تک اپنی شکست نہیں مانی۔ شاید کبھی نہ مانے لیکن امریکہ میں واقعی تبدیلی آ گئی ہے۔ یہ تبدیلی پاکستان پر بھی بہت گہرے اثرات ڈالنے جا رہی ہے۔

ٹرمپ نے داخلی طور پر امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خارجی محاذ پر امریکہ کی پالیسیاں ہمیشہ ہی تنقید کا نشانہ رہی ہیں۔ انسانیت کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنے والا پہلا اور اب تک آخری ملک بھی وہی ہے۔ اس نے چھوٹے ممالک کو اپنی رعونت کا نشانہ بنایا۔ اس کی چیرہ دستیوں کی داستانیں بڑی طویل ہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں اس کے دوہرے معیارات کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن داخلی طور پر امریکہ ہمیشہ مختلف رہا۔ اسے امکانات اور مواقع کی سر زمین کہا گیا۔ اور یہ سچ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک سے لوگ امریکہ میں آئے، اپنی محنت و مشقت سے بڑا نام اور مقام پیدا کیا۔

حالیہ انتخابات میں، جو بائیڈن کے ساتھ کامیاب ہونے والی نائب صدر کاملہ ہیرس، انہی مواقع اور امکانات کی ایک مثال ہے۔ کاملہ کی ماں شمالہ گوپالن بھارت میں پیدا ہوئیں۔ ان کے آبا و اجداد کا تعلق مدراس سے تھا۔ وہ تعلیم حاصل کرنے امریکہ گئیں۔ پی۔ ایچ۔ ڈی کیا، وہیں جمیکا سے آئے ایک آباد کار کے ساتھ شادی کر لی۔ کاملہ اپنے بچپن کی یادیں بیان کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ جب وہ سات سال کی عمر میں اپنے چچا کے پاس گئیں تو پاس پڑوس کے گھروں کے گورے والدین نے اپنے بچوں کو ”کالی“ کاملہ کے ساتھ کھیلنے سے منع کر دیا۔

ان حالات میں کاملہ نے تعلیم حاصل کی۔ وہ سینیٹر بنی۔ ڈیموکریٹ پارٹی میں شامل ہو کر سر گرم سیاست کی۔ آج وہ امریکہ کی تاریخ کا مستقل حصہ بن گئی ہے۔ وہ جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہے جو نائب صدارت کے منصب تک پہنچیں۔ جو بائیڈن کی زندگی میں بھی بہت دکھ آئے۔ بیوی اور بیٹی ایک حادثے میں مر گئیں۔ دو بیٹے زخمی ہو گئے۔ ایک بیٹا جواں سالی میں کینسر کا شکار ہو کر چل بسا۔ جو بائیڈن امریکی تاریخ کا سب سے کم عمر سینیٹر بنا اور اب وہ 78 سال کی عمر میں امریکہ کا معمر ترین صدر ہے۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کی کارکردگی نے نہیں، اس کے رویے اس کے طرز عمل اور اس کے عمومی کردار نے ہرایا۔ دنیا کی واحد سپر پاور کے بلند تریں منصب پر بیٹھ کر بھی وہ ایک دن کے لئے بھی اس منصب کے شایان شان نظر نہ آیا۔ اسے یقین تھا کہ اس کا بازاری لہجہ، اس کی زبان درازی، سیاسی مخالفین پر اس کے الزامات، دوسروں کا مضحکہ اڑانے کا مشغلہ اور خود کو سب سے بالاتر سمجھنے کی انانیت اسے فتح دلا دے گی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

یہی بات اس کی شکست کا ذریعہ بن گئی۔ جو بائیڈن کو کبھی بھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا مضبوط مد مقابل نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن ٹرمپ نے اس کا تمسخر اڑا کر خود کو بہت ہلکا کر لیا۔ اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر میں جو بائیڈن جیسے کمزور امیدوار سے ہار گیا تو لوگوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا اور ممکن ہے مجھے امریکہ چھوڑنا پڑے۔ یہ غرور و تکبر اسے لے بیٹھا۔ اس نے امریکہ کی اس جمہوری روایات کو بھی پامال کر دیا کہ ہارنے والا امیدوار، باضابطہ اعلان سے پہلے ہی اپنی ہار مان لے اور جیتنے والے کو مبارک باد دے۔ کیا ٹرمپ کا یہ رویہ نتائج کو بدل دے گا؟ ہر گز نہیں لیکن ٹرمپ سے یہی توقع کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کے حوالے سے امریکی انتخابات کی خاصی اہمیت ہے۔ 2018 کے بعد ہمارے ہاں بننے والی حکومت نے سارا زور ڈونلڈ ٹرمپ سے خوشگوار، دوستانہ تعلقات بنانے پر لگا دیا۔ محاورے کی زبان میں ”تمام انڈے، ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوکری میں رکھ دیے گئے“ ۔ ملا ہمیں پھر بھی کچھ نہیں۔ ٹرمپ کی دوستی نریندر مودی سے استوار ہوئی اور بھارت ہی ہر اعتبار سے اس کی پہلی ترجیح رہا۔ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر ہڑپ کرنے کی کارروائی کو بھی ٹرمپ کی حمایت حاصل رہی۔ حال ہی میں فاٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے بھی ٹرمپ نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ ٹرمپ ہمارے ہاں پریس پر پابندیوں، بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اپوزیشن کے بارے میں حکومتی رویے پر بھی خاموش رہا۔

جو بائیڈن، پاکستان کے لئے اور پاکستان جو بائیڈن کے لئے اجنبی نہیں۔ وہ جنوری 2008 سے جنوری 2016 تک صدر بارک اوبامہ کے ساتھ نائب صدر رہے۔ آصف زرداری اور میاں نواز شریف سے ان کی ذاتی دوستی ہے۔ 2008 میں زرداری حکومت نے بائیڈن کو ”ہلال پاکستان“ کا اعزاز دیا۔ وہ پاکستان آئے تو قائد حزب اختلاف نواز شریف سے ملنے رائیونڈ بھی گئے۔ ان کی کامیابی پر پاکستان سے مبارک باد کا پہلا پیغام بھی میاں نواز شریف کی طرف سے گیا۔ اپنی پارٹی کی طرح بائیڈن جمہوریت، بنیادی حقوق اور میڈیا کی آزادی کے بارے میں بہت حساس ہیں۔ وہ جمہوریت کو ہر طرح کے آمرانہ ہتھکنڈوں سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیری لوگر بل بھی دراصل بائیڈن ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا جس کے ذریعے پاکستان کے جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لئے خطیر مالی امداد دی گئی۔

ہر ملک کی پالیسی، سب سے پہلے اپنے قومی اور عوامی مفاد کی بنیاد پر بنتی ہے۔ یہ توقع رکھنا فریب ہی ہو گا کہ جو بائیڈن، حدوں سے آگے نکل کر ہمارا ساتھ دیں گے۔ بھارت ہمارا دشمن ہے اور امریکہ سمیت کوئی بھی ملک ہماری وجہ سے بھارت کو پس پشت نہیں ڈال سکتا۔ ایسا تو سعودی عرب اور چین جیسے ہمارے دیرینہ اور آزمائے ہوئے دوستوں نے بھی نہیں کیا۔ لہذا جو بائیڈن سے ہمیں ایسی کوئی غیر حقیقیت پسندانہ توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

بائیڈن وہی کرے گا جسے وہ امریکی مفاد سمجھے گا۔ لیکن یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے حوالے سے ڈیموکریٹس کی پالیسیاں، بالعموم ری پبلکنز کی پالیسیوں سے مختلف رہی ہیں۔ پاکستان کی جمہوری قوتوں کو شاید اس گھٹن کا احساس نہ ہو جس سے وہ اب تک گزر رہی تھیں۔ اسی طرح پریس کی آزادی کے حوالے سے بھی بائیڈن کا کردار، ٹرمپ سے مختلف رہے گا جو نہ صرف خود اپنے پریس کا شدید ناقد تھا بلکہ وہ کسی دوسرے ملک میں پریس کی آزادی کے حوالے سے بھی کوئی حساسیت نہیں رکھتا تھا۔

امریکہ میں بالعموم خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کہ داخلی طور پر اس کی روح پھر اپنی اصل کی طرف لوٹ رہی ہے۔ سیاہ فام آبادی اور مسلمانوں سمیت بیشتر ڈرے سہمے طبقوں نے جو بائیڈن کو ووٹ دیا۔ ان میں نفرت کا وہ ووٹ بہت موثر ثابت ہوا جو ٹرمپ کے رویے پر معترض تھے۔ پاکستان کو جنوری کے تیسرے ہفتے تک انتظار کرنا ہو گا جب ٹرمپ وائٹ ہاؤس خالی کر جائے گا اور بائیڈن صدارت کا منصب سنبھال لیں گے۔ آنے والا سال یقیناً پاکستان کے لئے بہت کچھ لائے گا۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •