نوید اقبال، اس پار کیا گزرے گی معلوم نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تدفین کے وقت چھ سات پتھر کی سلیبیں ترتیب وار رکھی جاتی ہیں اور آخری پتھر رکھنے سے پہلے کھیس یا چادر کھینچ لی جاتی ہے۔ اگر اس منظر کی ویڈیو کو فاسٹ فارورڈ کر کے دیکھا جائے تو میت کے اوپر چھ سات پتھروں کی ترتیب وار ٹھک ٹھک کے بعد کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ اب آنے والی نسل کو کیا معلوم کہ کیسے کیسے بڑے لوگ پتھروں کی ٹھک ٹھک کے بعد کہاں چلے گئے۔

نوید اقبال، اس پار کیا گزرے گی معلوم نہیں لیکن میرے بھائی۔ اس طرف کی ایک خبر تمہیں دینی تھی کہ تمہاری عینک ٹوٹ گئی ہے۔

نوید اقبال میرے خالہ زاد بھائی تھے۔ والد سخت گیر تھے جس کی وجہ سے نوید اقبال نے ایک خاص نفسیاتی مدافعتی نظام پیدا کر لیا تھا۔ وہ اپنے ارد گرد مایوسی کے کسی محرک کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ ایسے لوگ لاشعوری طور پر ہر وقت میلہ چاہتے ہیں خوشی چاہتے ہیں۔ یہ بچپن میں سخت گیری دیکھنے کے حوالے سے مخصوص ردعمل ہوتا ہے۔

نوید اقبال نہ صرف اپنی ذات کے حوالے سے مایوسی اور غم کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے بلکہ آس پاس کوئی غم زدہ یا مایوس چہرہ بھی دیکھنے کی تاب نہیں رکھتے تھے۔ ان کی انسانیت دوستی کے پیچھے غم اور مایوسی کا ایک خوف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ گاؤں میں ان کی سوزوکی کلٹس کار ایمبولینس کے طور شہرت رکھتی تھی۔ کوئی پوچھتا کہ نوید اقبال کہاں ہیں؟ جواب ملتا ابھی تھوڑی دیر پہلے ان کی ایمبولینس دیکھی تھی فلاں سمت جا رہی تھی۔ نوید اقبال کی زندگی یا تو سکول کی چاردیواری کے اندر تھی جہاں درس و تدریس ان کا پیشہ تھا اور یا پھر کسی نہ کسی مریض کو تلہ گنگ لے کر جا رہے ہوتے۔ مریض کے لواحقین کے ساتھ رہتے رپورٹس نکلواتے ہسپتال کے باہر سے دوائیں لے کر آتے۔ اپنے پاس ہر وقت ایک معقول رقم رکھتے اور لواحقین کو دلاسا دیتے کہ اگر آپ کو کوئی رقم کو مسئلہ ہے تو میرے پاس ہے آپ بعد میں رقم دے دیجئے گا۔

میرے بڑے بھائی تھے تو میں لاشعوری طور پر ایک فاصلہ رکھتا تھا۔ شروع سے ہی بھائی جان نوید کہنے کی وجہ سے بے تکلف نہیں ہو سکتا تھا۔ ان کی طرف سے البتہ کبھی ایسا فاصلہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ میں فیصل آباد میں تھا تو وہاں نوید اقبال نے ایک میلہ سجا رکھا ہوتا۔ لڈو کے ٹورنامنٹس منعقد ہوتے۔ اور حیران کن بات یہ ہے کہ وہ خود اس سرگرمی کا براہ راست حصہ لینے میں دلچسپی کم رکھتے۔

محبت ایسی کہ ان کے چھوٹے بھائی تصور اقبال نے ایک تصویر مجھے بھیجی کہ گھر سے لکڑی کا ایک صندوق برآمد ہوا ہے جس پر آپ کا اور نوید کا نام لکھا ہوا ہے۔ جیسے ہی میں وہ تصویر دیکھی تو اپنی تحریر پہچان لی لیکن یہ یاد نہیں کہ کب لکھا تھا۔ ماضی کے دریچے وا ہوتے چلے گئے۔ کاش میری جانب سے تکلفانہ فاصلہ نہ ہوتا۔ تو کیا خوب گزرنی تھی۔ یہ تصویر آپ اس مضمون میں دیکھ سکتے ہیں۔

وہ منتظم تھے۔ وہ پوری زندگی منتظم رہے۔ خوشیوں کے منتظم۔ ان کی ساری زندگی خوشیوں کے انتظامات کرتے گزری۔ خوشی کا براہ راست حصہ بننے میں ان کی دلچسپی کم رہی بس وہ اپنے آس پاس کی فضا میں قہقہے لگاتے تمتماتے چہرے دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ اہتمام ان کی ذات کی بقا کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے آس پاس کسی قسم کی مایوسی یا غم بطور محرک دیکھنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔

آپ کا سکول کے حوالے سے کوئی کام پھنسا ہوا ہے مثال کے طور پر آپ کو اپنا مڈل کا چالیس پرانا سرٹیفیکیٹ چاہیے یا کسی بیوہ کا پینشن یا کوئی بھی معاملہ ہے۔ نوید اقبال کی بے چین روح اس وقت تک قرار نہ پاتی جب تک کہ وہ کام ہو نہ جائے۔ گاؤں کے ہائی سکول میں ایک نیا بلاک زیر تعمیر تھا جس کی نگرانی نوید اقبال کر رہے تھے۔ اس بلاک کو نوید اقبال کا نام دیا گیا۔ ان کے ساتھی اساتذہ آج بھی غمزدہ ہیں۔ ایک استاد ایسے بھی ہیں جو روزانہ صبح سویر نوید کی قبر پر جاتے ہیں اور زور زور سے روتے ہیں کہ ان کی رونے کی آواز دور تک جاتی ہے۔ پھر وہاں قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ نوید اقبال کا جنازہ بہت بڑا تھا کہ نوید جہاں جہاں رہا وہاں سے مرد اور عورتیں پہنچیں۔ فیصل آباد۔ بشارت گاؤں سے بہت لوگ آئے۔

ان کی پوری زندگی صنف مخالف کے حوالے سے کسی کہانی سے خالی رہی جو میری نظر میں شاید مناسب بات نہیں تھی لیکن گاؤں میں ڈھکی چھپی محبتوں کی کہانیوں میں دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ پوری رات گزر جاتی لیکن مجال ہے جو تھکاوٹ کے ہلکے سے آثار بھی نظر آئیں۔ پوری رات کہانیاں سنتے رہتے اور مشوروں سے نوازتے رہتے۔ گاؤں میں مجھے ساتھ لیتے اور اپنی دوستوں کی محفل میں پہنچ جاتے۔ میں اس وقت شاید میٹرک کے آس پاس تھا۔ روزانہ کہانیاں سنتے۔

گاؤں کی محدود آبادی کے پیش نظر کہانیوں کی بھی ایک حد تھی اس محدودیت کا ان کے یار لوگوں نے یہ حل نکالا کہ ایک ہی کہانی کو الٹ پلٹ کر نئے محاوروں اور تمثیلوں کے ساتھ نیا رنگ دیا جاتا۔ تخلیقی ذہن تھا اس لیے عاشقوں کو جدت آمیز مشوروں سے نوازتے۔ ایک عاشق کے لیے معشوق کو رقعہ پہنچانے میں رکاوٹیں تھیں۔ معشوق کے گھر کی بکری روزانہ چرنے کے لیے ایک چرواہے کے ریوڑ میں جاتی۔ بکری کے گلے میں ایک تعویذ کا خول لٹک رہا ہوتا۔ طے پایا کہ ائندہ عاشق اپنے رقعے بکری کے تعویذ کے خول میں ڈالے گا اور بکری کے گھر پہنچنے پر معشوق وہ رقعہ تعویذ سے نکال لے گی۔ نوید اقبال کی خواہش ہوتی کہ ان کہانیوں کا انجام چاہنے والوں کی کامیابی یعنی شادی وغیرہ پر منتج ہو کیوں کہ ان کی پوری زندگی خوشیوں کے منتظم کے طور عبارت تھی۔

گاؤں میں ہماری ڈھوکوں پر ہر سال کرکٹ کا ٹورنامنٹ ہوا کرتا تھا جس کے منتظم طارق اور نوید اقبال ہوتے۔ طارق کو تو پھر کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا نوید اقبال کھیلتے تو تھے لیکن اپنی طبیعت کے عین مطابق انتظامی امور میں زیادہ دلچسپی رکھتے۔ ہم نے یعنی میں نے وقاص مرحوم اور دوسرے دوستوں نے اپنی ٹیم سے بغاوت کا ارادہ کیا اور عین ٹورنامنٹ کے دنوں میں ایک رات کو نئی الیون کی بنیاد رکھی۔ اس نئی الیون کا نام اڑنگ پھڑنگ الیون رکھا گیا۔ سب سے حلف لیا گیا کہ اس میٹنگ میں جو باتیں ہوئی ہیں کوئی شریک محفل یہ بات باہر نہیں کرے گا جب تک کہ ٹیم حتمی طور پر تیار نہیں ہو جاتی۔

نہیں معلوم یہ خبر نوید اقبال تک کیسے پہنچ گئی دوسرے دن ایک کچہری لگی۔ چالیس پچاس تماشائی تھے۔ جج کے فرائض منصبی طارق صاحب نے انجام دیے۔ نوید اقبال مدعی تھے اور ان کا اصرار تھا کہ اس بغاوت کے مرتکبین پر یہ ٹورنامنٹ کھیلنے پر ایک سال کی پابندی لگائی جائے۔ میرے سمیت سب سے پوچھا گیا اور ہم سب نے ایسی کسی باغیانہ میٹنگ سے یکسر انکار کیا۔ اس کے باوجود نوید اقبال کا اعتماد دیکھنے والا تھا جو ہم سب کو حیران کر رہا تھا۔ نوید اقبال نے آخر پر ایک لڑکے کو آواز دی۔ شعیب کھڑے ہو جاؤ۔ شعیب کے کھڑے ہونے کے ساتھ ہی ہمارے کان کھڑے ہو گئے۔ شعیب کو کہا گیا تفصیل سے بتاؤ کل رات کو یہ میٹنگ کہاں ہوئی اور اس میں کیا طے پایا۔ شعیب نے جوش میں آ کر سب بتایا۔ اس کے بعد کہا گیا کہ اب اس میٹنگ کے شرکا کا ایک ایک کر کے نام لو۔ اور عدالت سے حکم جاری کروایا گیا کہ جس جس کا نام لیا جائے سامنے کھڑا ہو تا جائے۔

شعیب نے نام لینا شروع کیے۔ وقار احمد۔ میں جا کر مجرموں کی طرح کھڑا ہو گیا۔ وقاص احمد۔ وقاص احمد بھی آ گئے۔ اشفاق احمد۔ غرض کے تھوڑی دیر کے بعد ایک صف میں کھڑے مجرم کبھی ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے۔ کبھی عدالت کو دیکھتے۔ اور کبھی شعیب کو زہر آلود نگاہوں سے دیکھتے جو فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا تھا۔ اس کیس پر نوید اقبال نے دلائل کے انبار لگا کر عدالت کو یقین دلا دیا کہ ان کی سزا کم از کم یہ ہو کہ یہ دو سال تک ٹورنامنٹ نہ کھیل سکیں۔ عدالت [طارق بھائی] خود غصے میں تھی کہ اس ٹورنامنٹ کے انعقاد پر وہی تن تنہا اخراجات اٹھاتی تھی۔

عدالت نے اپنے آپ کو غیر جانبدار ثابت کرنے کے لیے اتنا ضرور کہا کہ سزا میں تھوڑی نرمی برتی جائے لیکن نوید اقبال نے کہا کہ می لارڈ آج آپ نے یہ نرمی برتی تو کل دوسرے لوگوں کے لیے بھی راستہ ہموار ہو جائے گا۔ فاضل عدالت کو چاہیے کہ ان مجرموں کو عبرت ناک سزا دے کر تاریخی فیصلہ کر ہی ڈالے اور عدالت نے فیصلہ کر ہی ڈالا۔ یہ مقدمہ سات گھنٹوں پر محیط تھا [گاؤں میں اور کوئی کام کرنے والا ہوتا ہی نہیں تھا اس عمر میں فرصت ہی فرصت تھی] جب فیصلہ ہو گیا تو نوید اقبال ہمارے پاس آئے اور کہا کہ تم لوگ نظر ثانی کی اپیل کرو۔ ہم نے نظر ثانی کی اپیل کی اور دوسری طرف عدالت کے کان میں نوید اقبال نے کہا کہ ان کو یہی سزا کافی ہے اور عدالت نے روبوٹ کی مانند اسٹیبلشمنٹ کا کہا مانتے تمام سزا یکسر ختم کر دی۔

نوید اقبال کا اپنے بچوں سے پیار اور ان کی تعلیم کے حوالے سے اقدامات مثالی رہے۔ بیٹی کی شادی ہو گئی۔ بیٹا فسٹ ائر میں ہے اور ایک چھوٹی بیٹی چار سال کی ہے۔ نوید اقبال کے فوت ہونے کے دوسرے دن اچانک ایک کمرے سے چیخوں کی آواز آئی اور جب لوگ اندر گئے تو دیکھا کہ نوید کی چار سالہ بیٹی چیخ رہی ہے شور مچا رہی ہے کہ یہ دیکھو میرے بابا کی عینک کسی نے توڑ دی۔ بابا آئیں گے تو کیا کریں گے۔ کیوں توڑی عینک۔ کس نے توڑی عینک۔

ویڈیو فاسٹ فارورڈ ہوتی ہے۔ ٹھک ٹھک چھ سات سلیبیں فٹ ہوتی ہیں۔ کھیس نکالا جاتا ہے۔ مٹی ڈالی جاتی ہے۔ گھومتا جھومتا کرہ ارض ایک بہت بڑی کہانی کو ہمیشہ کے لیے اپنے پیٹ میں نگل جاتا ہے۔
نوید اقبال، اس پار کیا گزرے گی معلوم نہیں۔ لیکن اس طرف کی ایک خبر تمہیں دینی تھی کہ تمہاری عینک ٹوٹ گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 169 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik