مائیں یوں ہی چلی جاتی ہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماں کی گود، ماں کی مسکراہٹ، ماں کا چہرہ، ماں کیا خوبصورت نام ہے جن سے انسیت ہوئی، ماں کی بانہوں کی خوشبو، ماں کی محبت، شفقت، پیار، ڈانٹ ان کا فکرمند چہرہ ان کا مضبوط ارادہ ان کے پیچھے پیچھے بھاگنا ان سے الفت ان کی بے بس آنکھوں میں چمکتے آنسو بوند بوند گرتی موتیوں کا اثر، ماں بھلائے نہیں بھولتی جیسے وہ ابھی ہو کر گزری ہو جیسے ابھی میری پکار سن کے چلی آئے گی اور اس کے سینے پر اپنا سر رکھ کر میں اپنا قصہ سناؤنگا اپنی خجالت بتا کر رو دوں گا اور ماں ہمیشہ کی طرح حوصلہ دے گی سینے سے لگا لے گی اور کہے گی بس کر میرا بیٹا تو نے کیا ہی کیا ہے۔ میں زمانے کا شکوہ کروں گا اور وہ گویا ہوگی کہ زمانہ جھوٹا ہے اور میں زمانے سے نظریں ملاکر اپنی مضبوطی کا تاثر چھوڑوں گا مگر ماں کہاں ہے؟ مضبوط تحفظ کی وہ علامت کہاں ہے؟ بھلا جانے والے کبھی لوٹ کر آتے ہیں.

ماں تو کہیں نہیں گئی. میرا من نہیں مانتا. تو میرے من میں بستی ہو، میں تجھ سے محو گفتگو رہتا ہوں میں اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کا حال تجھے بتاتا ہوں اور پھر سے مضبوط ہوتا ہوں، میں نے زمانے کے گلے شکوے چھوڑ دیے ہیں ماں میں زمانے کو جاننے لگا ہوں اور زمانے کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے لگا ہوں۔ ماں زمانہ بھی خوبصورت ہے، حسین ہے مگر زمانے کے پاس آپ کی سی شفقت آپ کی نرم ہاتھوں کا لمس کہاں؟ زمانے میں میری ان کہی باتوں کو سمجھنے کی صلاحیت کہاں؟ ماں زمانے کے ساتھ دوڑنا پڑتا ہے۔ اس دوڑ میں جابجا مشکلات اور رکاوٹیں ہیں۔ میں گر پڑتا ہوں۔ زخم کھاتا ہوں، پھر سنبھلتا اور ہر بار کی طرح پھر سے دوڑنے لگتا ہوں۔

یہی زمانے کی ریت ہے یہی زمانے نے سکھایا ہے۔ ماں یہ رکاوٹیں اور مشکلات بڑی تکلیف دہ ہیں مگر میں ان تکالیف کو زبان پر نہیں لاتا میں جانتا ہوں ماں میں نے زمانے کے چلن سیکھے ہیں۔ بس ہنس کے گزر جاتا ہوں۔ میں جانتا ہوں ماں گر میں زبان پر لاؤں گا تو تماشا بنوں گا۔ زمانے میں تیری جیسی اپنائیت کہاں؟ وہ ظرف وہ حوصلہ وہ مہربانی وہ پگھلنا، وہ آنکھوں میں چھپی بے بسی کے باوجود حوصلے کے بلند مینار۔ ماں تو انمول تھیں میں جان نہ سکا، میں سمجھ نہ سکا، میری عمر ہی کیا تھی تو روٹھ کے چلی گئی۔ میری نادانیوں کا شکوہ کیے بنا، مجھے ٹوکے بنا، مجھ پر اپنا حق جتائے بنا، میری وجہ سے ملنے والی تکالیف کا میری طرف سے ازالے کا انتظار کیے بنا، تو نے رخت سفر باندھ لیا۔

مائیں یوں ہی چلی جاتی ہیں، خاموشی سے کوچ کرجاتی ہیں اور ساری زندگی کے لیے اک خلا چھوڑ جاتی ہیں۔ ماں یہ من اب تلک بچہ ہی ہے۔ ان نظروں کو تیری تلاش آج بھی ہے۔ اس من میں تیری گرم لمس کی تپش اور اسے پانے کی کسک آج بھی ہے۔ اب بھی میرے من میں تروتازہ ہے تیرا چہرہ۔ اب بھی میں بہت چھوٹا ہوں، تیری گود میں سر رکھ کر رونا چاہتا ہوں، من ہلکا کرنا چاہتا ہوں، بناوٹی زندگی سے اکتا جاتا ہوں۔ میرے قدم تیری ہی طرف ہیں، میں آن ملوں گا۔

جانے وہ کون سی ساعت ہو گی۔ ماں میرا انتظار کرنا، میں آ ملوں تو مجھے معاف کر دینا، میری نادانیوں کو بھول جانا، میں بہت تھک چکا ہوں، مجھے ویسے ہی قبول کرنا جیسے میرے بچپن میں سینے سے لگا کر کیا کرتی تھی۔ ماں جی لفظ کہاں اتنے معتبر کہ تیرا سراپا بیان کروں، میں رکتا ہوں ٹھہر جاتا ہوں میں محسوس کر سکتا ہوں اس لمحے کو جس لمحے میں تیری نظروں کی زبان نے میری دنیا بدل دی، مجھے انسان بنایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رحیم بلوچ کی دیگر تحریریں