جو بائیڈن کی کامیابی: پاپولسٹ سیاست کے خلاف پہلی کرن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن پہلے لگتا تھا کہ دنیا کی سیاست پر آسیب کا سایا ہو گیا ہے، ایک کے بعد ایک انسانوں کو تقسیم کرنے والے، نفرت کی بنیادوں پر سیاسی عمارت تعمیر کرنے دنیا پر آہستہ آہستہ قابض ہو رہے ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ اس لہر کا توڑ نہیں، نفرت کے بیانئے کے مقابلے میں انسانوں کو قریب لانے والا بیانیہ اپنا اثر کھو رہا ہے اور انسانی حقوق کے علمبردار طبقہ دیوار سے لگا ہوا ہے۔ پچھلے سالوں میں یہ چلن بھی عام رہا کہ جو مین سٹریم صحافت تھی اس کو فیک نیوز یا پیڈ میڈیا کہہ کر دھتکارنے کا عمل نہایت ہی کھلے انداز میں کیا جانے لگا سو جو آوازیں ایک وقت میں معتبر سمجھی جاتی تھیں وہ سب باقاعدہ ملعون کی جانی لگی اور سوشل میڈیا کے ذریعہ جھوٹ اور پروپیگنڈے کا وہ طوفان برپا کیا گیا کہ عام افراد سچ اور جھوٹ میں فرق نہ کر پائیں۔

اس اثر میں امریکہ نے اپنا بڑا حصہ ڈالا اور ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی سابقہ مہم نفرت کی بنیاد پر چلائی تھی، جس کے ”کی ورڈز“ میکسیکو سے دیوار کی تعمیر، مسلمانوں نے نفرت اور امیگریشن پر سختی پر مشتمل تھے۔ اس بیانیہ سے منتخب ہو کر جب وہ ایوان اقتدار پر قابض ہوئے تو کچھ مسلمان ممالک پر ویزا کی پابندی لگائی، ایران کے ساتھ عالمی برادری کے ہونے والے معاہدے سے امریکا نکل گیا، پیرس کے ماحولیاتی تبدیلی کے معاہدہ سے بھی امریکا نے کنارہ کشی کر لی۔

اس کے بعد دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے امریکا کا جو کردار تھا وہ بھی تقریباً ختم ہو گیا، بلکہ امریکا دنیا میں ان کوششوں کے ساتھ کھڑا نظر آنے لگا جو مظلوم اور محکوم طبقے کے خلاف مختلف حصوں میں جاری تھیں۔ ہم نے پچھلے چار برس میں دیکھا کہ انڈیا نے کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کر دیا، ایک طویل ترین کرفیو مسلط کیا اور کشمیر کی تمام قیادت علانیہ نظر بند کر دی گئی۔ مگر دنیا میں کہیں آواز نہیں اٹھی، ہم نے ان برسوں میں دیکھا کہ ایک ایک کر کے عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرنا شروع کیا، جس میں فلسطین کی عوام کی رائے اور دو ریاستی منصوبہ کی کوئی باز گشت نہیں تھی۔ ہم نے یہ دیکھا کہ جمال خشوگی کو ترکی کی سرزمین میں سعودی عرب کے سفارت خانے میں بلا کر ٹکرے ٹکرے کیا گیا مگر مجرمان اس بین الاقوامی جرم میں بچ گئے بلکہ ان کو باقاعدہ امریکہ کے صدر کی سپورٹ ملی۔

پھر ہم نے دیکھا کہ پچھلے سو سال کی سب سے بڑی وبا نے دنیا کو گھیرا، عام طور پر جہاں دنیا وبا کے دنوں میں قیادت کے لئے دیکھتی ہیں وہاں ایسے لوگ تھے جنھوں نے بزنس بچانا زیادہ مناسب سمجھا اور وبا کے سدباب کی عالمی کوششوں میں یہ افراد رکاوٹیں پیدا کرتے رہے، کبھی اس کو چائنیز وائرس کہا گیا، کبھی اس کو صرف فلو سے تشبیہ دی گئی، کبھی ڈبلیو ایچ او پر تنقید کے نشتر برسائے گئے، اور آخر میں امریکہ نے ڈبلیو ایچ او سے نکل گیا۔ اگر آج سے دس بیس سال پہلے یہ وائرس آیا ہوتا تو دنیا کا ردعمل مختلف ہوتا مگر جو قیادت دنیا پر آج مسلط ہے اس نے بجائے ایک عالمی پلیٹ فارم پر جمع ہونے کے، ایک ایسا رویہ اختیار کیا جس سے تقسیم ہی مقدر ٹھہری اور انسانوں کی جانیں داؤ پر لگیں۔

پچھلی چند دہائیوں میں تمام تر مشکلات کے باوجود انسان نے آگے کا سفر کیا تھا۔ انسانی حقوق کے معاملات، خواتین کے حقوق، قوموں کے درمیان تعلق اور انسانی برابری کے محاذوں پر انسان نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے تھے۔ مگر پچھلے سالوں کے واقعات نے ان سب کامیابیوں کو ریورس گیئر لگا دیا ہے۔ اس لئے اس کے خلاف آواز اور پہلی للکار بھی ایسی جگہ سے ہونی چاہیے تھی جہاں کی گونج دنیا بھر میں سنائی دے۔ سو اس کی شروعات امریکہ سے ہوئی، ہم نے دیکھا کہ تمام طبقات جن میں صحافت سے لے کر انسانی حقوق کی تنظیمیں تھی وہ ایک پیج پر آئیں، ان کا ساتھ ان تنظیموں نے بھی دیا جو دنیا میں نئے میڈیا کی قیادت کر رہی ہیں، جس میڈیا کو استعمال کر کے ہی نفرت کے پجاریوں نے اپنا جال بنا تھا، ہم نے دیکھا کہ پہلی بار قیادتوں کی پوسٹ فلیگ ہونے لگیں، لوگوں کو کہا گیا کہ جھوٹ اور پروپیگنڈا کیا ہے اور صحیح معلومات کے لئے کہاں سے رہنمائی لینی ہے۔

یہ سب پہلی بار تھا، اس سے پہلے یہ پلیٹ فارم عالمی رہنما بغیر کسی چیک اور بیلنس کے استعمال کرتے تھے، مگر اس بار رولز آف بزنس سیٹل ہوئے اور اب اس کا دائرہ دنیا میں پھیلایا جانا چائیے۔ امریکہ میں ٹرمپ کی شکست صرف ایک ملک کا معاملہ نہیں بلکہ یہ وہ شروعات ہے جس کو دوسرے ممالک میں پھیلنا ہوگا، امریکہ نے جو چیز حاصل کی ہے اس میں مختلف ممالک کے صحیح الخیال طبقہ کو اس مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نکل کر آپس میں اتحاد کرنا ہوگا اور نفرت کے مقابلے میں ہر اتحاد بنانا پڑے گا، اس میں ارباب صحافت سے لے کر اہل دانش سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، ہم کو سمجھنا ہوگا کہ نفرت اور تقسیم کی معاشروں میں جگہ نہیں ہونی چاہیے، جو اصول عام فرد پر ریاستیں لگاتیں ہیں۔ وہی اصول ملکی رہنماؤں پر بھی لگنے چاہیے، اور مقبول بیانیہ اور نفرت کے خلاف فتح اپس میں اتحاد سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔

امریکا نے جس طرح مل کر پاپولسٹ بیانئے کو شکست دی ہے، یہ وہ پہلی کرن ہے جس سے صبح کا آغاز ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •