اسپیس ایکس کی دوسری انسان بردار پرواز سے چار خلاباز روانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپیس ایکس کا راکٹ فالکن 9 فلوریڈا سے چار خلابازوں کے ساتھ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے سفر پر روانہ ہو رہا ہے۔ 15 نومبر 2020

ایک پرائیویٹ کمپنی اسپیس ایکس کے خلائی جہاز کے ذریعے امریکہ سے چار خلاباز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ اسپیس ایکس کی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب دوسری انسان بردار پرواز ہے۔

اس سے قبل یہ کمپنی خلابازوں کو کامیابی کے ساتھ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچا اور انہیں وہاں سے واپس لا چکی ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے کرہ ارض سے باہر انسان بردار راکٹ بھیجنے کا سلسلہ منقطع ہو جانے کے بعد امریکی خلاباز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر جانے اور وہاں سے واپسی کے لیے روس کے خلائی جہاز استعمال کر رہے تھے۔

اسپیس ایکس خلابازوں کو لے جانے اور واپس لانے کے لیے ایک خصوصی کیپسول ڈریگن استعمال کرتا ہے جو راکٹ کے ذریعے اپنی منزل مقصود تک پہنچایا جاتا ہے۔

تین امریکی اور ایک جاپانی خلاباز، خلائی مشن پر روانہ ہونے سے پہلے راکٹ میں سوار ہو رہے ہیں۔
تین امریکی اور ایک جاپانی خلاباز، خلائی مشن پر روانہ ہونے سے پہلے راکٹ میں سوار ہو رہے ہیں۔

سپس ایکس کی موجودہ پرواز کے ذریعے بھیجے جانے والے چار خلابازوں میں تین امریکی اور ایک جاپانی ہے جو ناسا کی جانب سے کمرشل پرواز کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن بھیجے جا رہے ہیں۔

توقع ہے کہ وہ پیر کو دیر گئے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچ جائیں گے، جہاں تین خلاباز پہلے سے ہی موجود ہیں، جن میں سے دو روسی اور ایک امریکی ہے۔ وہ پچھلے مہینے کاغستان کے خلائی مرکز سے اس مہم پر گئے تھے۔

پرواز سے قبل اس خلائی مہم کے کمانڈر مائیک ہاپکز نے کہا کہ ان مشکل وقتوں میں اکھٹے کام کر کے آپ نے قوم اور دنیا کو متاثر کیا ہے۔

امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس اتوار کے روز خلابازوں کو اس سفر پر روانہ کرنے کے لیے فلوریڈا میں قائم ناسا کے خلائی مرکز گئے تھے اور پرواز کا مشاہدہ کیا تھا۔

دنیا کا سب سے طاقتور راکٹ خلا میں کامیابی سے بھیج دیا گیا
پینس اسپیس ایکس کی پرواز کے وقت لانچنگ کے کنٹرول روم میں موجود تھے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ خلائی راکٹ کی زمین سے روانگی کے بعد تقریباً ایک منٹ تک میرا سانس رکا رہا۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اپنے قیام کے دوران خلاباز مختلف نوعیت کے سائنسی تجربات کریں گے، جن میں خلا میں مولیاں اگانا اور کشش ثقل کی عدم موجودگی میں خون کے سرطان کی ادویات پر تجربات شامل ہیں۔

خلاباز ایک نیا خصوصی ٹائلٹ بھی اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں جس کے متعلق ناسا کا کہنا ہے کہ اسے مستقبل کے چاند اور مریخ کی جانب خلائی مہمات کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 434 posts and counting.See all posts by voa