تعلیمی مستقبل کورونا کے ہاتھ میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پوری دنیا ایک مرتبہ پھر کورونا کی زد میں آ چکی ہے. اس بات کا سائنس دانوں کو اندازہ ہو چکا تھا کہ کورونا کی دوسری لہر آئے گی جو پہلے کی نسبت زیادہ خطرناک ہوگی اور پھر ایسا ہی ہوا, کورونا کی دوسری لہر نے ایک مرتبہ پھر ان گنت انسانی جانیں لینا شروع کردیں ہیں. امریکہ, برطانیہ, فرانس, اسپین, ایران, انڈیا سمیت متعدد دیگر ممالک میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے. حالیہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ, انڈیا, برازیل اور فرانس کورونا سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں ٹاپ پر آ گئے ہیں. پاکستان میں کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ (covid.gov.pk) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 29378 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 2050 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ وائرس سے مزید 33 افراد انتقال کر گئے.

کورونا سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے, اکتوبر کے پہلے ہفتے میں یہ شرح 1.6 فیصد تھی جبکہ نومبر میں یہ شرح 5 فیصد تک پہنچ گئی ہے. رپورٹ کے مطابق کورونا سے اموات کی شرح میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے اور مرنے والوں کی تعداد ڈبل فگر میں داخل ہو گئی ہے جس کی بنیادی وجہ کورونا ایس او پیز سے لاپرواہی, ماسک کا استعمال نہ کرنا اور سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنا ہے.

اگرچہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد انڈیا اور دیگر ممالک کے مقابلے میں ابھی بھی کم ہے لیکن خدشہ ہے کہ اگر اس پر ایک مرتبہ پھر سے قابو نہ پایا گیا تو خدانخواستہ کورونا وائرس کے کیسز اس قدر بڑھ سکتے ہیں کہ ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے بستر اور وینٹی لیٹرز کم پڑ سکتے ہیں. کورونا کی پہلی لہر کے موقع پر ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگانا پڑے اس کے باوجود تعلیم, کاروبار, روزگار, معیشت کو زبردست نقصان پہنچا جس کی تلافی کا عمل جاری تھا کہ ایک مرتبہ پھر کورونا کی وجہ سے سمارٹ لاک ڈاؤن لگنا شروع ہو گئے ہیں. جلسے جلوسوں پر پابندی لگ گئی ہے, شادی ہالز کی بجائے کھلے مقامات پر تقریبات منعقد کی جائیں گی.

ایک طرف کورونا سے جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے تو دوسری طرف کورونا سے تعلیم کا بے حد نقصان ہو رہا ہے جس کا خمیازہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا. وقت کے ساتھ ساتھ معیشت کی بحالی تو ممکن ہے لیکن تعلیم کی بحالی کس طرح ہوگی اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے. کورونا کی وجہ سے طلباء کے سلیبس میں کمی کردی گئی ہے, تعلیمی اوقات میں کمی کردی گئی ہے, کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے طلباء کی تعداد کو کم کرنے کے لئے تعلیمی دنوں میں کمی کردی گئی ہے لیکن پھر بھی تعلیم کا سلسلہ ڈانواں ڈول ہے.

ابھی تعلیمی ادارے اللہ اللہ کر کے کھلے ہی تھے کہ پھر سے بند ہونے کے آثار پیدا ہو گئے ہیں. سکولز, کالجز, اور یونیورسٹیز میں زیر تعلیم طلباء اور طالبات کے مستقبل کا فیصلہ اب کورونا کے ہاتھ میں ہے. اگر خدانخواستہ کورونا کے کیسز کی تعداد تعلیمی اداروں میں بڑھی تو تعلیمی ادارے بند کرنا پڑ سکتے ہیں. حکومت نے تعلیمی اداروں کو کھلا رکھنے یا بند کرنے کا فیصلہ آئندہ ہفتے کی کورونا صورتحال پر چھوڑ دیا ہے. یہ ہفتہ طے کرے گا کہ تعلیمی اداروں کے حوالے سے کیا اقدامات کیے جائیں کیونکہ تعلیم کے لئے انسانی جانیں گنوانا بھی کوئی عقلمندی نہیں ہے, اگر جان ہے تو جہان ہے.

کورونا کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے تعلیمی حکمت عملی طے کرلی ہے اسی لئے تعلیمی اداروں کو آن لائن کلاسز دینے کے لئے تیار رہنے اور ضروری انتظامات مکمل کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں جبکہ کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر سردیوں کی چھٹیاں بڑھانے اور اس کمی کو پورا کرنے کے لئے آئندہ گرمیوں کی چھٹیاں کم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے.

کورونا کے باعث چند ہنگامی اقدامات بھی کیے گئے ہیں. گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کورونا وبا کے دوران مشکلات سے دوچار میڈیکل کے طلباء کو آئندہ سپلیمنٹری امتحانات میں شامل ہونے کا اضافی موقع دینے کی منظوری دے دی ہے اسی طرح وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے اسکولوں میں ڈبل شفٹ شروع کرنے کی اصولی منظوری دی ہے جبکہ بلوچستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات جلد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.

اس بات کی خبر اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ زندگی کب اپنے معمول پر واپس آئے گی لیکن ایک بات ضرور ہے کہ کورونا وائرس کو شکست دینے کے لئے سب کو جذبہ ایمانی کے ساتھ کوششیں کرنا ہوں گی. ماسک کے استعمال کو یقینی بنا کر اور سماجی فاصلہ برقرار رکھ کر آپ اپنی اور دوسروں کی زندگی بچا سکتے ہیں اور کسی ایک کی جان بچانا گویا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •