کہانی حرکت کیسے کرتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”سر مجھے ایک اچھے افسانے کے رموز بتا دیں اور ایک ایسی کہانی جو حرکت کرتی ہو۔“
مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میں افسانہ تو لکھتی ہوں پر اس کی کہانی حرکت نہیں کرتی۔
فارحہ نے الجھے ہوئے لہجے میں سر فاران علی سے پوچھا۔

فاران علی شہر کے مشہور لکھاری تھے اور اکثر نوآموز لکھاریوں کے لیے لیکچرز اور سیمینارز کا اہتمام کرتے رہتے تھے۔ وہ بھی چاہتی تھی کہ کسی طرح خوبصورت کہانیاں لکھنا سیکھ لے۔ اسی لیے ان سے ملاقات کا وقت مانگا۔

آج جب وہ ایک کتاب کی تقریب رونمائی سے فارغ ہوئے تو الحمراآرٹس کونسل کے ایک نسبتاًخاموش گوشے میں اس کی تحریروں کی اصلاح کی غرض سے ایک چھوٹی سی ملاقات طے کی۔

فارحہ نے کچھ کاغذات ان کی طرف بڑھائے۔
”یہ کہانی میں نے پچھلے ہفتے ہی لکھی تھی۔“

فاران علی نے کاغذ پہ کاڑھے حرفوں کے پھولوں میں دھڑکتی خوشبو محسوس کی مگر عجیب بات تھی کہانی سانس تو لیتی تھی مگر اس میں کردارحرکت نہیں کرتے تھے۔ منظر ٹھہرا سا رہتا تھا، تخیل کے پانیوں میں بہاو تو تھا مگر بنت میں کچھ کمی تھی، جیسے سب ساکت سا تھا۔ وہ دوبارہ گویا ہوئے ”، فارحہ ان میں کردار ڈالیں“ ”واقعات اور مکالمے کے تسلسل سے کہانی کو بنیں جیسے آپ لوگ سویٹر بنتے ہیں کبھی خانے ڈالتے ہیں، بڑھاتے ہیں اورکبھی گھٹاتے ہیں، ۔“ وہ سمجھاتے ہوئے بولے اورسگار کا لمبا کش لیا۔ دھواں مرغولوں کی صورت میں اڑا ان کی گہری سبز آنکھیں پورے منظر پہ چھا گئیں۔ کچھ لمحوں کے لیے وہ بھول گئی وہ کہاں تھی کیوں ملنے آئی تھی اس ملاقات کا مقصد کیا تھا۔

سب کہیں پس منظر میں چھپ گیا تھا۔

اس نے سوچا جیسے وہ ان مہربان آنکھوں کو صدیوں سے جانتی ہو۔ ہلکی سبز پانیوں کے رنگ کی، رنگ بدلتی ہوئی، وہی تھیں یا ”اس“ سے مشابہت تھی۔ وہ ان انکھوں کو کہیں پہلے بھی دیکھ چکی تھی۔ اپنی پہلی محبت کو بھول جانا کب ممکن ہے۔ مسکراہٹ آنکھوں کا رنگ ”اس“ سے ملتا ہوا تھا جس کے ساتھ زندگی جینا سیکھی تھی۔

ہوا پتوں کی پاذیب پہنے سریلی گھنٹیاں بجانے میں مصروف تھی۔ ٹنڈ منڈ درختوں کے خالی پن کا دکھ ہوا کیوں جانے بھلا!

کسی کا چراغ جلے یا بجھے اس کا کام تو چلتے رہنا تھا۔ وہ کچھ لمحوں کے لیے کہیں ڈوب گئی۔ ماضی کی جانب سفر کسی بھی لمحے شروع ہو جایا کرتا تھا۔

”آپ سن رہی ہیں ناں فارحہ“ انہوں نے اسے متوجہ کیا۔

کہانی لکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے درد کو نہ صرف محسوس کیا جائے بلکہ اسے پڑھ کے ایک ہنر کے ساتھ سلیقے سے گوندھ کر کرداروں اور واقعات کے ذریعے قاری تک پہنچانے کا سامان کیا جائے۔

” سچے جذبوں کے اپنے اپنے رنگ ہوتے ہیں ہمیں ان کو محسوس کرنا ہوتا ہے اور لفظوں کے رنگوں سے کینوس پر اتارنا ہوتا ہے۔ جگ بیتی ہڈ بیتی سے گزر کر روشنی بنتی ہے۔“

سر فاران نے اسے دھیرے دھیرے سمجھایا۔


اس نے کچھ کچھ سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا
”جی سر جان جوکھوں کا کام ہے یہ تو“ ، وہ مسکرائے، ”کیاآپ نے کبھی محبت کاذائقہ چکھا۔“
سوال کرتے سمے ان کی انکھوں کے سمندرمیں اسرار کی لہریں ابھریں۔
”جی سر“
تو بس وہی گھول کر سب کو پلا دیں۔ وہ خوش دلی سے مسکرائے۔

کیا جان لیوا مسکراہٹ تھی، کیا واقعی آنکھیں روح کی کھڑکیاں ہوتی ہیں، کبھی ہم اپنی گم شدہ چیزوں کو دوسروں میں بے وجہ کھوجتے ہیں۔ اس نے بے دھیانی میں سوچا۔

جب کسی کھوئے ہوئے انسان کی مشابہت کسی دوسرے میں نظر آئے تو ہمارے احساس تشنگی کی تسکین ہوتی ہے۔ مماثلت میں سے انسیت کے نغمے پھوٹتے ہیں۔ فارحہ کا دل چاہا کہ سر فاران علی کو بتائے کہ آپ کی آنکھیں میرے محبوب مگر بے وفاشوہر کی آنکھوں کے رنگ کی ہیں۔ ہلکی سبز جن میں اتر کے میں نے محبت کی عظیم دیوی کے قدموں کوچھوا مجھے اس کی سنگت میں لگا کہ میں کسی بحری جہاز کے عرشے پر ہوں اورکائنات ایک نرم سمندر کی طرح میرے پاؤں کے نیچے پر سکون بہہ رہی ہے۔ جھاگ اڑاتی جل پریاں نرم موجوں سے کھیل رہی ہیں۔ محبت ہماری روح میں چھپے تنہائی کے ذرد جنگل کو آن ہی آن میں ہرا کر دیتی ہے، پر موسم کبھی ٹھہرتے تھوڑی ہیں۔ سب بیت جاتا ہے اور ہم عمر بھر ان کی قیمت چکاتے رہتے ہیں۔

سر فاران ایک کال میں مصروف تھے اور وہ اپنے خیالات کے پھول چننے میں مگن اچانک تتلیوں کے پیچھے بھاگتے بچوں پہ اس کی نظر پڑی اسے اپنا لخت جگر یاد آیا جو اس کی مدد کے بغیر ہلنے جلنے سے قاصر تھا۔ اللہ جانے آیا نے اس کی مالش کی ہوگی اسے کھانا وقت پہ دیا ہوگا یا نہیں بے چینی سے اس نے کاغذ اورقلم سمیٹا اور سر سے اجازت چاہی۔ وہ اپنی دونوں ہتھیلیاں مسلنے لگی جو اس کی اضطراری حالت کو ظاہر کر رہی تھیں۔ یکسوئی قسمت والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اس کا دل دماغ جانے کہاں کہاں بٹا ہوا تھا۔

کیا میں پوچھ سکتا ہوں آپ کے کتنے بچے ہیں؟

سر نے اس سے ذاتی سوال پوچھا۔ ”ایک ہی بیٹا ہے سر“ ، ”میں آپ کو گھرڈراپ کر دیتا ہوں اگر آپ مناسب سمجھیں۔ آپ کے بیٹے سے بھی مل لیں گے اور شوہر سے بھی“

نہیں سر میرے شوہر تو سعودیہ ہوتے ہیں ان کی جاب ہے وہاں، ”اس نے جلدی سے بات بنائی،

وہ نہیں بتاناچاہتی تھی کہ محبت کے تحفوں کو خواہ وہ یادیں ہوں یا بچے سینے سے لگانے کی ذمے داری اکیلے اسی کی تھی۔

سبز آنکھیں مسکرائیں ”اوکے“ ”جیسے آپ مناسب سمجھیں، ۔“

وہ نہیں چاہتی تھی کہ سر فاران علی یہ جان پائیں کہ کہانیوں میں بعض اوقات کرداراور مکالمے کیوں حرکت نہیں کرتے۔ کہانی جامد کیسے ہو جاتی ہے۔ اس نے تیزی سے بھاگ جانے میں عافیت جانی۔ ممتا بھرے دل سے بڑی کون سی کہانی ہو سکتی ہے۔

شادی کے پانچ سال تو ہنستے کھیلتے گزر گئے تھے، پھر قدرت نے اس کی گود بھری۔ محبت کا تحفہ اسے عطا ہوا۔ مگر بچہ پیدائشی معذوری کا مقدر ساتھ لے آیا۔ جانے یہ آزمائش کیسے اور کیونکر آن پڑی تھی۔

ممتا نے بڑھ کر اسے یوں سینے سے لگایا کہ کسی اور جذبے کا احساس ہی نہ رہا۔ دن رات اسی کاخیال رہتا ہائے ننھی سی جان ٹھیک تو ہے! یہ کیسے ٹھیک ہوگا؟ کیسے جیے گا؟ کیسے کیسے؟

سوچ سوچ کر وہ ہلکان ہو گئی تھی۔

دن رات ہسپتال علاج معالجہ، دوائی دارو، دعائیں اور نسخے ہی چاروں طرف رہتے تھے۔ بیچاری ماں وقف ہو گئی۔ ہر ماں کی طرح، ایک بے چینی تڑپ اور مسلسل خدمت سے اس کی زندگی بھر گئی۔ بچے کی بے طرح خدمت نے اسے اپنے ارد گرد کی دنیا بھلا دی۔ حتیٰ کہ محبت کرنے والا شوہر کب پرایا ہو گیا اسے پتہ ہی نہ چلا۔ اس کی عدم توجہی کو وجہ بنا کر اسے چھوڑ کے پردیس نکل گیا تھا اور وہ محبت کو وفاکی صورت دینے کی خاطر تنہا رہ گئی۔ مرد چاہے تو اس کے پاس راہ فرار کے ہزار راستے مگر عورت اس معاملے میں مختلف ہے کیونکہ اس کے وعدے کسی اور سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے ہوتے ہیں۔

جذ بوں کے تار عنکبوت سے بندھی ہوئی وہ کہاں بھاگ سکتی تھی۔ گھر پہنچی تو لخت جگر منتظر تھا اس کی معصوم آنکھوں کا رنگ بالکل فارحہ جیسا تھا۔ کالی رات میں چمکتے جگنوؤں کی طرح ’بھلے اس کا وجود دنیا والوں کے لیے ایک بے حرکت کہانی ہو مگر فارحہ کی زندگی کا محور ومرکز وہی تھا۔

اس کا پیارا لاڈلا سات جنم بھی ہوتے تو وہ اس پہ وار دیتی۔ محبت سے دیوانہ وار گلے سے لگاتے ہوئے اس نے بھر پور یقین سے سوچا۔ ایک دن آئے گا جب میرا لاڈلا بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔ دعا روشنی بن کے فارحہ کے چہرے پہ پھیل گئی۔

بچے نے مسکرا کے ماں کو دیکھا تو زندگی حرکت کرتی ہوئی کہانی میں ڈھل گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •