کرونا کو بگڑنے سے کیسے بچائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

آپ میں سے جن لوگوں کا اپنے بارے میں خیال ہے کہ زندگی نے ان کے ساتھ بہت نا انصافی کی ہے وہ یہ واقعہ پڑھنے کے بعد فیصلہ کریں کہ کیا ان کے ساتھ ڈاکٹر لی سے بھی زیادہ نا انصافی ہوئی ہے! چین کا ڈاکٹر لی وہ پہلا شخص تھا جس نے دنیا کو کرونا وائرس کے خطرے سے آگاہ کیا۔ یہ ڈاکٹر وہان کے اسپتال میں کام کرتا تھا، دسمبر 2019 میں جب وہاں اوپر تلے سات مریض داخل ہوئے جن میں ایک ہی قسم کی علامات تھیں تو اس ڈاکٹر کا ماتھا ٹھنکا۔

اس نے اپنے اپنی ساتھی ڈاکٹروں کے سامنے یہ بات رکھی اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ اسے یہ سارس وائرس کی کوئی شکل لگ رہی ہے۔ چار دن بعد ڈاکٹر لی کو ’عوامی تحفظ بیورو‘ نے طلب کیا جہاں اسے ایک ’بیان حلفی‘ پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا جس میں لکھا تھا کہ اس نے جھوٹی افواہیں پھیلائیں ’جس سے نظم اجتماعی کو سخت نقصان پہنچا‘ ۔ بیورو کے افسران نے اسے سخت لہجے میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم تمہیں متنبہ کر رہے ہیں کہ اگر تم نے اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھی اور اسی لاپرواہی کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے تو تمہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟

’ڈاکٹر لی نے خاموشی سے سر جھکا دیا اور‘ جی جناب ’کہہ کر وہاں سے نکل آیا۔ یہ 3 جنوری 2020 کا واقعہ ہے۔ چینی حکام کی جانب سے ڈاکٹر لی کو جاری کیا گیا یہ خط آج بھی بی بی سی کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ 10 جنوری کو خود ڈاکٹر لی کو کرونا کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں اور دو دن بعد اسے اسپتال داخل کر دیا گیا۔ 20 جنوری کو چین نے اس وبا کے تناظر میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔ چینی حکام نے ڈاکٹر لی سے معافی مانگی۔ مگر اس وقت تک دیر ہو چکی تھی۔ ٹھیک اٹھارہ دن بعد 7 فروری 2020 کو تینتیس سالہ ڈاکٹر لی وین لیانگ کی کرونا وائرس کی وجہ سے موت واقع ہو گئی۔

2020 کرونا وائرس کا سال تھا، اس ایک سال میں جہاں یہ وائرس دنیا کو لاکھوں اموات دے گیا وہاں انسان کو یہ سبق بھی سکھا گیا کہ اپنی خواہش کے تابع کسی چیز کا انکار یا اقرار کرنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ چینی حکام نے ڈاکٹر لی کی سرزنش تو کر دی مگر اس سے کرونا وائرس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس پورے سال میں ہم نے کئی سازشی تھیوریاں سنیں، لوگوں نے کہا کہ بل گیٹس اپنی ویکسین بیچنے کی خاطر یہ وائرس پھیلا رہا ہے، کسی نے فائیو جی کے کھمبوں کو وائرس پھیلانے کا ذریعہ قرار دیا، کسی نے وائرس کو امریکہ اور یورپ کا کھیل بتا کر اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کی کوشش کی اور کسی نے تو سرے سے وبا کا ہی انکار کر دیا اور اسے فقط میڈیا کاہنگامہ کہہ کر سر جھٹک دیا۔ ہم میں سے کچھ ایسے بھی تھے جنہوں سے اس وائرس کے متعلق عجیب و غریب پیشگوئیاں کیں، کسی نے اس کے خاتمے کی تاریخ دی تو کسی نے کووڈ کا علاج جڑی بوٹیوں سے بتایا۔

کوئی پیشگوئی درست ثابت ہوئی اور نہ ہی کوئی ٹوٹکا کام آیا، کسی سازشی تھیوری کا سراغ ملا اورنہ ہی فائیو جی کے کھمبے اکھاڑ کر کچھ نکلا۔ آج ہم سب کو اس ویکسین کا انتظار ہے جو تیاری کے آخری مراحل میں ہے، یہ ویکسین پچانوے فیصد تک موثر ہے، ماہرین کے مطابق اس ویکسین کے استعمال سے اگلے سرما تک دنیا اپنے معمول پر واپس آ جائے گی۔ ہمارا کام بس اتنا ہے کہ جب تک یہ ویکسین نہیں آتی اس وقت تک احتیاط کریں اور اگر خدانخواستہ آپ کو کرونا کی علامات ظاہر ہوں تو کچھ ایسی باتوں پر عمل کریں جن سے یہ بیماری بگڑنے نہ پائے۔ یہ باتیں کیا ہیں؟

پہلی بات یہ ہے کہ بیماری کا انکار نہ کریں۔ یہ درست ہے کہ ہر کھانسی یا بخار کرونا نہیں ہوتا، آج کل موسم تبدیل ہو رہا ہے جس سے لوگوں کو عام فلو بھی رہا ہے مگر کرونا کی علامات مخصوص ہیں۔ جونہی یہ علامات ظاہر ہوں فوراً اس کا ٹیسٹ کروائیں مگر ساتھ ہی اپنی چھاتی کا ایکسرے اور کچھ خون کے ٹیسٹ بھی کروا لیں، مثلاً سی بی سی، ای ایس آر، ڈی ڈائمر وغیرہ، پوری تفصیل آپ کو کسی مستند ڈاکٹر سے مل سکتی ہے، ویسے تو فدوی کے پاس بھی یہ تفصیل موجود ہے مگر فدوی چونکہ ڈاکٹر نہیں اس لیے disclaimer (اعلان دستبرداری) دے دیا ہے۔

فائدہ اس کا یہ ہوگا کہ کرونا کے ٹیسٹ سے پہلے یہ ٹیسٹ مل جائیں گے اور علاج فوراً شروع ہو سکے گا۔ اس بیماری میں بروقت تشخیص بے حد ضروری ہے۔ ہمارے دلبر جانی ارشد وحید چوہدری کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انہیں کچھ دنوں سے بخار، کھانسی وغیرہ تھی مگر وہ یہی سمجھے کہ عام موسمی بخار ہے، اس میں کئی دن گزر گئے۔ جب تک کرونا کا ٹیسٹ کروایا اس وقت تک بیماری بگڑ چکی تھی، ارشد کو وینٹی لیٹر پر ڈالا گیا اور پھر وہاں سے یہ ہیرے جیسا صحافی واپس نہیں آیا۔ کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور!

کرونا میں بروقت تشخیص کے دو فائدے ہوتے ہیں، ایک تو ڈاکٹر آپ کو اسی سنجیدگی سے لیتے ہیں جس سنجیدگی سے آپ بیماری کو لیتے ہیں، اگر ڈاکٹر یہ دیکھے کہ آپ پورے ٹیسٹ لے کر اس کے پاس آئے ہیں تو اسے علاج میں بھی آسانی ہو جاتی ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر ایکسرے یا خون کے نمونوں میں کوئی بڑی خرابی نظر آئے تو پھر جان بچانے والی ادویات، اینٹی بائیوٹک اور ضروری انجیکشن وغیرہ بر وقت دیے جا سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہے اگر مریض بیماری کا انکار کرنے کی بجائے حقیقت قبول کرے اور ٹوٹکوں کی بجائے میڈیکل سائنس کے مطابق علاج کروائے۔

اس دوران مریض کو اپنا saturationلیول بھی دیکھتے رہنا چاہیے، آج کل یہ سمارٹ فون سے بھی دیکھا جا سکتا جاتا ہے، اگر کسی دن یہ مسلسل چوبیس گھنٹوں تک 94 سے نیچے رہے تو ایسی صورت میں فوراً اسپتال داخل ہو جانا چاہیے۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ وائرس اب اتنا خطرناک ہو چکا ہے کہ کسی ٹیسٹ میں ظاہر نہیں ہوتا لہذا اس سے پریشان نہ ہوں البتہ یہ ذہن میں رہے کہ جب تک علامات ختم نہ ہوں اور ٹیسٹ منفی نہ آئے مریض کو قرنطینہ سے نہیں نکلنا چاہے یہ مدت اکیس دن سے بڑھ ہی کیوں نہ جائے۔ یہ وہ چند باتیں ہیں جن پر عمل کر کے اس موذی مرض کو بگڑنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ رہ گئی احتیاط تو وہ آج بھی وہی ہے، ماسک پہنیں، ہاتھ دھوئیں، ہجوم اور بھیڑ سے بچیں۔ البتہ حواس باختہ نہ ہوں، گھر کی چیزوں کو، اپنے جوتوں یا کپڑوں کو پاگل پن کی حد تک صاف کرنے کی ضرورت نہیں۔ دل کی میل

البتہ صاف کرتے رہیں۔

اس وبا کے دوران ڈبلیو ایچ او کا کردار قابل رشک نہیں رہا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور اس قسم کے جتنے

بھی بین الاقوامی جناتی ادارے ہیں ان سب کی صلاحیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان اداروں میں احتساب کا ایسا کوئی موثر نظام موجود نہیں جس کی مدد سے ان اداروں کے نالائق اور سست اہلکاروں کو ذمہ دار بنایا جا سکے۔ ڈبلیو ایچ او نے اس کرونا وائرس کے دوران دو عظیم غلطیاں کیں۔ پہلی غلطی ماسک پہننے کی پالیسی کے بارے میں ہوئی۔ شروع میں ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ماسک پہننا ضروری نہیں کیونکہ اس سے دل کو جھوٹی تسلی ملتی ہے اور لوگ ضروری احتیاط کرنے سے چوک جاتے ہیں اور بعد میں یو ٹرن لے کر ماسک پہننے کو ضروری قرار دیا۔ دوسری غلطی تب ہوئی جب ڈبلیو ایچ او کے ایک اہلکار نے کہا کہ کرونا وائرس ان لوگوں کے ذریعے نہیں پھیلتا جو کووڈ مثبت تو ہوتے ہیں مگر ان میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ یہ بیان بھی نالائقی کا عظیم شاہکار تھا جس کی بعد میں ڈبلیو ایچ او کو وضاحت جاری کرنی پڑی۔

ڈاکٹر لی کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ کہانی صرف کرونا وائرس کی نہیں بلکہ یہ اس آمرانہ سوچ کی کہانی ہے جو اختلاف رائے رکھنے والے ہر شخص کو ملک دشمن اور ’نظم اجتماعی میں خلل‘ ڈالنے کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔ چین نے تو ڈاکٹر لی سے معافی مانگ لی، ہم نہ جانے ایک دوسرے سے کب معافی مانگیں گے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 144 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada