پانامہ کیس : نیا بنچ جنوری کے پہلے ہفتے ازسرنو سماعت کریگا : سپریم کورٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"supreme-court\"

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے تحقیقاتی کمشن کے قیام کی مخالفت جبکہ مسول علیہ و وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے بچوں حسن نواز ،حسین نواز اور مریم نواز نے کمشن کی تشکیل اس کے دائرہ اختیار سے مشروط کر دی، آئندہ سماعت سے قبل ہی چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ کی بناءپر کیس کی مزید سماعت نیا بنچ کرے گا، عدالت نے اپنے مختصر فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ ان درخواستوں کی اب تک کی سماعت کو(Part heard) یعنی سنا ہوا مقدمہ‘ تصور نہ کیا جائے جس کی بناءپر نیا بنچ اس کیس کی از سر نو سماعت کر سکے گا، سماعت جنوری کے پہلے ہفتے میں ہوگی، دوران سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے واضح کیا ہے کہ کمشن کی تشکیل عدالت کی صوابدید ہے اور اس کے لئے فریقین کی رضا مندی ضروری نہیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید خان کھوسہ ، جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 5رکنی لارجر بنچ نے جمعہ کے روز درخواستوں میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لئے کمشن تشکیل دینے یا سپریم کورٹ میں ہی مقدمہ کی سماعت کے حوالہ سے فریقین کے وکلاء سے رائے طلب کی تووزیراعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے موقف اختیار کیا کہ اس معاملہ میں فاضل عدالت جو بہتر سمجھے وہ فیصلہ کرے، ہمیں قبول ہوگا ، ہمیںکمشن کی تشکیل پر بھی کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی ہم کسی قسم کی تحقیقات کے راستے میں رکاوٹ بنیں گے۔ چیف جسٹس نے وزیر اعظم کے بچوں حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز کے وکیل اکرم شیخ سے اسی حوالہ سے استفسار کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ ان کے موکلان کو بھی کمشن کی تشکیل پر کوئی اعتراض نہیں تاہم ان درخواستوں کی آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت سماعت اور اسی آرٹیکل کے تحت مجوزہ کمشن کے دائرہ اختیار پر اعتراض ہے ، انہوں نے کہا کہ ان کے دو موکلان حسن نواز اور حسین نواز اوور سیز پاکستانی ہیں، تسلسل کے ساتھ شریف خاندان اور فاضل عدالت کا میڈیا ٹرائل اور پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، ایک مسول علیہ اس ملک کا چیف ایگزیکیٹو (وزیر اعظم) ہے، میڈیا کو اس کی عزت اور وقار کا بھی خیال رکھنا چاہئے، عدالت کے استفسار پر درخواست گزار عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو یقین ہے کہ ہم نے اپنا کیس مضبوط کردیا اس لئے فاضل عدالت ہی اس پر اپنا فیصلہ جاری کرے، عدالت اس حوالہ سے جو بھی فیصلہ دے گی ہمیں قبول ہوگا ،میرا موکل کمشن کی تشکیل کے خلاف ہے، اگر کمشن تشکیل دیا گیا تو ہم اس کا بائیکاٹ کریں گے، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے موقف اختیار کیا کہ20 کروڑ عوام اصرار کر رہے ہیں کہ ان درخواستوں پر یہی پانچ رکنی لارجر بنچ فیصلہ جاری کرے ، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے پاس 40 سال کا منی ٹریل کا ریکارڈ نہیں اور نہ ہی کوئی دستاویزات دستیاب ہیں، ایسی صورت میں عدالت کیا کرے ، جس پر شیخ رشید نے کہا کہ عدالت اس پر اپنا فیصلہ جاری کرے بصورت دیگر ملک بھر میں سب کو ہی منی لانڈرنگ کی اجازت د ے دی جائے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم سپریم کورٹ میں یہ کیس ہار بھی گئے تو قوم یہی تصور کرے گی کہ عدالت نے در ست فیصلہ کیا ہے، جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں کہ آپ نے ان دستاویزات کو پڑھا ہے یا نہیں؟ لیکن ہمیں ہزاروں صفحات پڑھنا پڑیںگے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیس کا خود فیصلہ کرنے میں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت مفاد عامہ کے کیس میں عدالت پر بھاری ذمہ داری ہوتی ہے، اس شق کے تحت مقدمہ چلا تو بات دور تک جائے گی۔ ہم نہیں چاہتے کہ جس فریق کے خلاف فیصلہ آئے بعد میں وہ کہے کہ اس کاموقف نہیں سنا گیا، اسی وجہ سے ہم تمام فریقین کو سننا چاہتے ہیں، کمشن کی تشکیل کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ ساری دستاویزات کا جائزہ لیا جاسکے، اگر کل کو کہا گیا کہ دستاویزات مصدقہ نہیں تو ایک فریق شکایت کرے گا اوراگر فیصلہ دیا کہ دستاویزات درست ہیں تو دوسرا فریق کہے گا۔ ان کو صفائی کا موقع نہیں ملا، ہم سب فریقین کا احترام کرتے ہیں کہ انہوں نے بنچ پر اعتماد کیا ہے تاہم یہ واضح کیا جاتاہے کہ کمشن کی تشکیل عدالت کی صوابدید پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا وہ 15 دسمبر کو اپنے اعزاز میں دیئے جانے والے فل کورٹ ریفرنس کے بعد عدالت میں نہیں بیٹھیں گے،اگر جج ایک بار اپنا (گاﺅن )چغہ اتار دے تو عدالت میں نہیں بیٹھتا، اداروں میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں ،کسی کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اصل اہمیت اداروں کی ہوتی ہے،جنہیں چلتے رہنا چاہیے ،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اس بنچ میں مقدمہ چلانے کے لئے ہمارے پاس آئندہ ہفتہ کے دوران صرف دو ورکنگ ڈے ہیں اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ دو دنوں کے اندر اس اہم ترین کیس کی سماعت مکمل کر کے اس کا فیصلہ جاری کرنا ممکن ہی نہیں، کچھ دنوں بعد عدالتوں میں موسم سرما کی چھٹیوں کا بھی آغاز ہونے والا ہے، ایسی صورت میں ہمارے لئے مزید سماعت جاری رکھنا ممکن نہیں۔ عدالت کا کہنا تھا اگر نیا بنچ چاہے تو وہ اس کیس کی ا ز سر نو سماعت کر سکے گا اور وکلاءکو دوبارہ دلائل دینا ہوں گے۔ یاد رہے کہ لارجر بنچ کے موجودہ سربراہ وچیف جسٹس آف پاکستان، مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی 31 دسمبر کو ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔ 15 دسمبر کے بعد موسم سرما کی چھٹیاں ہو جائیں گی اور اس کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئرترین جج ، مسٹر جسٹس ثاقب نثار چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال لیں گے۔ سماعت کے دور ان بنچ نے ریمارکس دیئے کہ الزام لگانے والی پارٹی اور جس پر الزام لگایا گیا ہے دونوں نے جو دستاویزات عدالت میں جمع کرائی ہیں وہ کوئی بھی فیصلہ دینے کےلئے ناکافی ہیں لہٰذا اِس معاملے کی تحقیقات کےلئے کیوں نہ کمیشن بنا دیا جائے؟ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا انہیں ایسی صورتحال کا سامنا ہے جس میں ان کے پاس تعطیلات سے قبل صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں اور ان دو دنوں کے دوران مقدمے کے حل ہونے کے امکانات نہیں لہٰذا اس مقدمے کی سماعت آئندہ سال جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دیتے ہیں۔ شیخ رشید احمد نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ مقدمے کی اہمیت کے پیش نظر اپنی تعطیلات موخر کر دیں تو ایک انتہائی اہم نوعیت کا مقدمہ حل ہو سکتا ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ صرف سماعت ہی نہیں کرنی بلکہ اس کیس کا فیصلہ بھی لکھنا ہے اور وہ عملاً 15 دسمبر کے بعد بنچ کا حصہ نہیں رہ سکتے۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ آج کی سماعت کو جزوی سماعت نہ سمجھا جائے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments