خلیل جبران: محبت کے خطوط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ خلیل جبران نے اپنی زندگی میں پانچ عورتوں سے محبت کی: لبنانی حلا، فرانسیسی میشلن، امریکی میری ہیسکل، مصری می زائدہ اور امریکی باربرا ینگ۔ خلیل جبران کی ایک کتاب ’محبت کے خطوط‘ شایع ہوئی، جس میں می زائدہ کے ساتھ ان کے رومان کی خط و کتابت نقل کی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خلیل جبران، جنہوں نے دنیا کے بہت سے ممالک کے سفر کیے، کبھی اپنی مصری محبوبہ سے بالمشافہ نہیں ملے۔ گویا وہ اس تعلق کو لفظوں کے مقدس پیکر میں محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔ شاید اسی کی بدولت ان کی یہ محبت امر ہو گئی۔ ان کے خطوط کا خلاصہ ملاحظہ کیجئے۔

ان تمام خاموش مہینوں میں میں نے بہت سی باتوں پر غور کیا۔ ہر اس لفظ پر غور کیا جو تم نے میرے کانوں میں سرگوشی کیے۔ ایسی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی کہ ہم کبھی دوبدو ملاقات کر سکیں۔ تمہاری عظیم قابلیت کو تمہاری داخلی ذات کے رازوں کو افشا کرنے کے لئے وقف ہونا چاہیے۔ تمھارے نایاب جوہر کے لئے فن کا وسیلہ زیادہ موزوں ہے۔

تمھارے خط نے ایک ہزار بہاروں اور ایک ہزار خزاؤں کی یاد کو تازہ کر دیا ہے۔ میں خود سے کہا کرتا تھا: مشرق میں ایک ایسی دوشیزہ رہتی ہے جو دوسروں سے مختلف ہے۔ جو ان اسراروں سے واقف ہو چکی ہے جن کی حفاظت صبح کے فرشتے کرتے ہیں۔

میں تمہارے تبسم پر ایک نظم لکھوں گا۔ شاید یہ مونا لیزا کی مسکراہٹ کی طرح پر اسرار ہو۔ تمھارے پاس ایک تیسری تخیل کی آنکھ ہے۔ تم نفیس آوازوں کو سننے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ خلوت کی میٹھی آوازیں، مسرت اور کرب کی آوازیں۔ اس خواہش کی آوازیں جو غیر معلوم اور دور کی دنیا کے لئے ہیں۔

تمھارے خط شہد کے دریا کی مانند ہیں۔ جو بہتے ہوئے میرے خوابوں کی وادی تک پہنچتے ہیں۔ جب تمہارا خط مجھ تک پہنچتا ہے تو میرے لئے پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہونے جیسی مسرت کے مساوی ہوتا ہے۔ اس کے لئے میں تنہا ستونوں کے شہر ’ارم‘ کی گلیوں میں گھومنے کو بھی فراموش کردوں گا۔

کیا تم نے میرا سٹوڈیو دیکھا ہے؟ یہ ایک معبد ہے، ایک عجائب خانہ ہے، ایک جنت ہے۔ یہ ایک جنگل ہے، جس میں زندگی زندگی کو پکارتی ہے۔ اس کے مختلف گوشوں میں ازمنہ قدیم کے نوادرات سجے ہوئے ہیں۔ اور موسیقی کے ساز ہیں جو خاموشی میں بھی بولتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں میرے اندر قدیم اور پراسرار یادوں کو بھر دیتی ہیں۔ یہ انسانی اذہان کی کاوش ہیں، جو ایک جلوس کی صورت میں ظلمت سے روشنی کی طرف بڑھتے ہیں۔

میں نے کتنا وقت تم سے باتیں کرتے گزار دیے۔ میں اپنے مطالعہ کے کمرے میں تمہاری غیر مرئی ذات کو محسوس کرتا ہوں۔ جو میری حرکات سکنات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ تمہارے ساتھ رابطے کا خط کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ جب ہم ایک خیال کو بیان کرنا چاھتے ہیں تو الفاظ ہمارا ساتھ نہیں دیتے۔ ایک آزاد، لافانی جذبہ ایک چیز ہے اور خط نویسی ایک قطعی مختلف چیز۔

May Ziadeh

تمہارے خط نے میری زندگی کی ایک ہزار ایک گرہیں کھول دی ہیں۔ مجھے ایک ایسی ہستی مل گئی ہے جس نے میری روح کے تالاب میں تھرتھراہٹ پیدا کر دی ہے۔ میں ایک افسوں زدہ رستے پر چلتا ہوں۔ میری آنکھیں نور سے روشن ہیں۔ میں ایک ایسے سائے کے پہلو بہ پہلو چل رہا ہوں جو حقیقت سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے۔ میں اپنے ہاتھ میں ایک ہاتھ لئے چلتا ہوں۔ میں دو آنکھوں اور دو ہونٹوں کو دیکھنے کے لئے گردن موڑتا ہوں۔

میری زندگی دو زندگیوں میں منقسم ہے۔ ایک میں میں کام کرتا ہوں۔ دوسری ایک دھند ہے۔ لیکن اب میری زندگی یکجا ہو چکی ہے۔ میں دھند میں کام کرتا ہوں، دھند ہی میں لوگوں سے ملتا ہوں۔ یہ کیفیت پروں کی پھرپھراہٹ کی گونج سے بھری ہے۔ اس کیفیت میں تنہائی تنہائی نہیں رہتی۔

نظمیں جو خلا میں ٹھہری ہوئی ہیں انہیں حکم دو کہ وہ زمین پر ہر طرف پھیل جائیں۔ میرے لئے اس سے بڑھ کر کیا بات ہوگی کہ میں ایک پیاری سی لڑکی کے تعاقب میں بھاگوں۔ اسے واپس لاؤں تاکہ حیران کن کہانیاں سنا سکوں۔ حتی کہ خواب اس کی پلکوں کو چھوئیں اور وہ ایک خاموش حور کی سی معصومیت کے ساتھ سو جائے۔

یہ ایک مختصر خط ہے، ایک بہت مختصر خط۔ کیا تم اس میں وہ سب کچھ پڑھ پائی ہو جو لکھا نہیں جا سکا؟ کسی انسان کے لئے یہ سہل نہیں کہ وہ دکھائے کہ اس کے دل میں کیا چھپا ہے۔ محترمہ، یہی تنہائی ہے اور یہی اداسی ہے۔ اجنبی لوگوں کے بیچ اجنبی ہونا آسان ہے۔ اپنوں میں اجنبی بن جانا نا قابل برداشت ہے۔

خدا تمہاری مغفرت کرے، تم نے میرے دل کا سکون چھین لیا ہے۔ وہ لوگ جو ہماری زندگی کے بہت قریب ہوتے ہیں، ہماری زندگی کو منتشر کر دینے کا سب سے زیادہ امکان رکھتے ہیں۔ تمہارا جواب ایک محتاط عورت کا جواب تھا۔ میں تم سے نہیں تمہاری محتاط روح سے ناراض تھا۔ جب کبھی ہم آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں۔ یہ محتاط روح ہمارے درمیان آ کر بیٹھ جاتی ہے۔

تمہارے خط نے میرے دل کو کتنی راحت پہنچائی ہے۔ اس لمحہ تم میرے پاس ہو۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو واضح طور پر سمجھ چکے ہیں۔ میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ایک مسافر اپنے گھر پہنچا ہے۔ ہر دل کا ایک قبلہ ہوتا ہے۔ ہر دل کا ایک آستانہ ہوتا ہے۔ ہر دل کی ایک خاص سمت ہوتی ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ میں نے وہ سمت پالی ہے۔ شاید ہم یونہی خاموشی کی زبان بولتے رہیں۔ یہ خاموشی ابدیت کی طرح طویل اور خوابوں کی طرح گہری ہے۔

اپنی پیشانی میرے نزدیک لاؤ۔ اسے اور نزدیک لاؤ۔ میرے دل میں ایک سفید پھول کھلا ہے۔ اسے میں تمہاری پیشانی پر سجانا چاہتا ہوں۔ میرے پاس آؤ، اپنے تمام دکھ یہاں انڈیل دو۔ خدا تمہارے دل کو فرشتوں کے گیتوں سے بھر دے۔ یہ رات اس محبوب حسین چہرے کے نام۔

Kahlil Gibran (2nd from left)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •