بھارت: بہار اسمبلی کے انتخابات، کیا مسلمان سیکولر جماعتوں سے دور ہو رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت کی ریاست بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی سربراہی میں قائم ہونے والی حکومت میں ایک بھی مسلم وزیر کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔

بہار کی نو منتخب اسمبلی کا پہلا اجلاس 23 نومبر کو ہو گا۔ ریاست کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہو گا جب حکومت مسلم نمائندگی سے محروم ہو گی۔

ابتدائی طور پر 14 وزرا نے عہدے کا حلف اٹھایا ہے۔ جن میں بی جے پی کے سات، جنتا دل (یونائیٹڈ) کے پانچ جب کہ ہندوستانی عوام مورچہ اور وکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے ایک ایک رکن کو کابینہ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

بہار میں این ڈی اے کی گزشتہ حکومت میں ایک مسلم وزیر شامل تھے جو جنتا دل (یونائیٹڈ) کے خورشید عالم تھے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ این ڈی اے میں شامل جماعتوں بی جے پی، جنتا دل (یونائٹڈ)، ہندوستانی عوام مورچہ اور وی آئی پی کا کوئی بھی مسلم امیدوار انتخابات میں کامیاب نہیں ہوا۔

بہار اسمبلی کی 243 نشستوں کے لیے حال ہی میں ہونے والے انتخابات میں 19 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جن میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے 75 میں سے آٹھ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے تمام پانچ امیدوار، کانگریس کے 19 میں سے چار جب کہ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم ایل) کے ایک ایک امیدوار کو کامیابی ملی ہے۔

بی ایس پی کا ایک ہی امیدوار کامیاب ہوا ہے اور وہ مسلمان ہے۔

سابقہ اسمبلی میں 24 مسلم اراکین تھے۔ خیال رہے کہ بہار میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی 16 فی صد ہے۔

بھارتی لوک سبھا میں مسلمانوں کی تعداد کم کیوں؟

این ڈی اے میں شامل نتیش کمار کی جنتا دل (یو) نے 11 مسلم امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دیا تھا۔ جب کہ باقی تین اتحادیوں نے ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا۔

کابینہ میں توسیع پر مسلم رکن کی شمولیت کا امکان

‘این ڈی اے’ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلی بار جب کابینہ میں توسیع ہو گی تو ممکنہ طور پر کسی مسلم رکن کو بھی کابینہ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

جنتا دل (یونائیٹڈ) کے پانچ ایم ایل سی ہیں۔ یعنی وہ اسمبلی کے نہیں بلکہ قانون ساز (لیجس لیٹو) کونسل کے رکن ہیں۔ ایم ایل سی کا انتخاب نہیں ہوتا۔ وہ نامزد کیے جاتے ہیں۔ مگر وزیر بنائے جا سکتے ہیں۔

نتیش کمار نے خود کبھی الیکشن نہیں لڑا۔ وہ ہمیشہ لیجس لیٹو کونسل سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔

ایم ایل سی قمر عالم نے امید ظاہر کی ہے کہ نتیش کمار کسی مسلم رکن کو کابینہ میں ضرور شامل کریں گے۔

مسلمانوں کے کم ووٹ ملنے پر ناراضگی کا اظہار؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار شاہین نظر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بہار کی مسلم قیادت نتیش کمار کے قریب ہے۔ چوں کہ مسلمانوں نے اس بار انہیں کم ووٹ دیے ہیں اس لیے انہوں نے کسی مسلمان کو کابینہ میں شامل نہ کر کے اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔

شاہین نظر کے بقول یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نتیش کمار کی جماعت کا ایک بھی مسلمان امیدوار کامیاب نہیں ہوا۔

‘بی جے پی کا دباؤ پر نتیش کمار نے کسی مسلمان کو کابینہ میں نہیں رکھا’

کانگریس کی ریاستی شاخ نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ بہار کابینہ میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔

کانگریس کا الزام ہے کہ بی جے پی کے دباؤ پر نتیش کمار نے کسی مسلمان کو کابینہ میں نہیں رکھا۔

بھارت کے بڑے شہروں سے باہر آباد مسلمان کیا سوچتے ہیں؟

 

بی جے پی نے کانگریس کے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ بی جے پی کی بہار شاخ کے ترجمان اروند کمار کا کہنا ہے کہ بی جے پی تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتی ہے۔

یاد رہے کہ بہار میں ایک مسلم سیاست دان عبد الغفور جولائی 1973 سے اپریل 1975 تک کانگریس حکومت کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔

کیا مسلمانوں میں نیا سیاسی رجحان ابھر رہا ہے؟

کانگریس کے مسلم سینئر رہنما، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سابق قومی سیکریٹری اور تجزیہ کار انیس درانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کابینہ میں کسی مسلمان کو شامل نہ کیے جانے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اس کے لیے سیکولر سیاسی جماعتوں کو ذمہ دار ٹھیرایا ہے۔

اُن کا کہنا ہے سیکولر جماعتیں مسلمانوں کی بات تو کرتی ہیں لیکن ان کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ ہمدردانہ نہیں ہے۔

اُن کے بقول سیکولر جماعتیں اس خوش فہمی میں رہتی ہیں کہ مسلمان ان کو ووٹ نہیں دیں گے تو کس کو دیں گے۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمان تمام سیکولر جماعتوں کے ساتھ رہ کر ان سے بخوبی واقف ہیں اور اب وہ ان کے رویے سے مایوس ہو چکے ہیں۔ لہٰذا ان کے خیال میں مسلمان اب اپنی سیاسی جماعتیں چاہتے ہیں۔

انیس درانی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے پانچ مسلم امیدواروں کی کامیابی کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ بظاہر بہار کے مسلمانوں میں ایک نیا سیاسی رجحان ابھرتا نظر آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسد الدین اویسی کی جماعت کو پسند کرنے لگے ہیں۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے حوالے سے انیس درانی کا کہنا تھا کہ اس جماعت پر سیکولر ووٹ کاٹنے اور بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی سیاست کرنے کا الزام لگتا رہا ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بارے میں ابھی یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا واقعی مسلمانوں میں ایک نیا سیاسی رجحان پیدا ہو رہا ہے۔ اس کا اندازہ تیلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اسمبلی انتخابات میں ہو جائے گا۔

‘اسد الدین اویسی کی جماعت کی کامیابی وقتی حالات کا نتیجہ ہے’

تجزیہ کار شاہین نظر مسلمانوں میں نئے سیاسی رجحان کے ابھرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے بقول اسد الدین اویسی کی جماعت کی کامیابی وقتی اور عارضی حالات کا نتیجہ ہے۔ اگر مسلمان پوری طرح ان کے ساتھ ہوتے تو شیر گھاٹی حلقے میں ان کے امیدوار کی ضمانت ضبط نہ ہوتی۔

اُن کے خیال میں مسلمانوں نے ہمیشہ سیکولر جماعتوں پر اعتماد کیا اگر اسد الدین اویسی انتخابات لڑتے ہیں تو ان پر سیکولر ووٹ تقسیم کرنے کا الزام لگ جاتا ہے۔

‘مسلمان رائے دہندگان کو اب سیکولر جماعتوں پر یقین نہیں رہا’

پٹنہ کالج آف کامرس میں شعبہ سیاسیات کے استاد پروفیسر اروند آدتیہ راج کا کہنا ہے کہ مسلم ووٹرز کو اب سیکولر جماعتوں پر یقین نہیں رہا۔ بالخصوص بہار کے علاقے سیمانچل کے مسلم رائے دہندگان یہ سمجھتے ہیں کہ مجلس اتحاد المسلمین ان کے مسائل کو پوری قوت کے ساتھ اٹھائے گی۔

'بھارت کا شہریت قانون بنیادی حقوق کے خلاف ہے'

خیال رہے کہ سیمانچل مسلم اکثریتی خطہ ہے جہاں سے ریاستی اسمبلی کے 24 حلقے ہیں۔ اسد الدین اویسی نے 20 حلقوں میں اپنے امیدوار اتارے تھے جن میں سے پانچ کامیاب ہوئے ہیں۔ حالاں کہ الیکشن کے دوران ان پر سیکولر ووٹ کو تقسیم کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

‘سیکولر جماعتیں دیگر ریاستوں میں ووٹ کی تقسیم کے خوف میں مبتلا ہیں’

سینئر صحافی اور نیوز پورٹل ‘دی پرنٹ’ کے ایڈیٹر شیکھر گپتا کہتے ہیں کہ سیکولر جماعتیں اب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں اسد الدین اویسی دوسری ریاستوں میں بھی ان کے ووٹ نہ کاٹ لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 2015 میں بہار کے اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں نے کانگریس اور آر جے ڈی جیسی جماعتوں کو اسد الدین اویسی کی جماعت پر ترجیح دی تھی۔ لیکن اسد الدین اویسی کی جماعت نے اس بار اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔

شیکھر گپتا زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہار کے انتخابات کے بعد بھارت کی سیکولر جماعتیں مسلم رائے دہندگان کو سرسری نہیں لیں گی۔ ​

‘مسلمان کسی مسلم رہنما کے پیچھے چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں’

آزادی کے بعد بھارتی مسلمانوں کے سیاسی رویے کا جائزہ لیتے ہوئے سینئر صحافی کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی مسلمان کو اپنا قائد نہیں مانا۔

ان کے بقول مسلمانوں نے کانگریس، سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور بائیں بازو پر اعتماد کیا۔ انہوں نے ملائم سنگھ، مایاوتی اور لالو یادو جیسے رہنماؤں پر بھروسہ کیا۔

شیکھر گپتا کا مزید کہنا تھا کہ بہار میں مسلمانوں نے اویسی پر اعتماد تو کیا ہے لیکن وہ اب بھی مکمل طور پر کسی مسلم رہنما کے پیچھے چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ایک گھنٹے کے اندر ایک وزیر کا استعفیٰ

رپورٹس کے مطابق ریاست بہار میں جن 14 وزرا کی حلف برداری ہوئی تھی ان میں سے آٹھ وزرا نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ان کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں۔ 6 کے خلاف تو انتہائی سنگین دفعات کے تحت کیسز درج ہیں۔

2019 میں پاکستان اور بھارت میں انتہا پسندی میں کتنا اضافہ ہوا؟
اسی درمیان نتیش کمار کی کابینہ کے ایک وزیر میوا لال چوہدری نے بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

مستعفی ہونے والے وزیر میوا لال چوہدری نے جمعرات کی صبح 11 بجے وزارت کا چارج سنبھالا اور ایک گھنٹے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔

وزیر کے استعفے میں بی جے پی کا کردار

رپورٹس کے مطابق میوا لال چوہدری 2016 میں جب یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے، ان پر ملازمین کی بھرتی میں بدعنوانی کا الزام لگا تھا۔

اس وقت نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل (یونائیٹڈ) لالو یادو کی پارٹی آر جے ڈی کے ساتھ مل کر ریاست میں مخلوط حکومت میں تھی۔

اس وقت بی جے پی حزب ِ اختلاف کا حصہ تھی۔ اس نے اس معاملے کو پر زور انداز میں اٹھایا تھا۔

اس وقت رام ناتھ کووند، جو اب بھارت کے صدر ہیں، بہار کے گورنر تھے۔ رام ناتھ کووند نے یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے میوا لال کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ تحقیقات میں ان پر لگائے گئے الزامات درست ثابت ہوئے تھے۔

مبصرین کے مطابق جب میوا لال کو نتیش کمار نے وزیر بنایا تو بی جے پی میں بے چینی پھیل گئی اور یہ کہا جانے لگا کہ رام ناتھ کووند نے ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا اور اب رام ناتھ کووند صدر ہیں۔ تو ایسے میں میوا لال کا وزیر بننا بی جے پی کے لیے زبردست سبکی کا باعث بنے گا۔ لہٰذا بی جے پی کے دباؤ میں نتیش کمار نے ان سے استعفیٰ لیا ہے۔

میوا لال اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں ان پر ابھی فردِ جرم عائد نہیں ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 396 posts and counting.See all posts by voa