صنف نازک ہونا ہی جرم بن گیا ہے !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز میں حیوان سے بڑھ کرانسانوں کے روپ میں گھومنے والے جنسی درندے زیادہ خطرناک ہیں، ہمارے ہاں روز بروز ایسے بڑھتے خوفناک حقائق و واقعات سامنے آرہے ہیں کہ جن کو شیطانیت و درندگی کے کھلے مظاہرے کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا، اس میں زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہوس کے پجاریوں نے خواتین کے ساتھ ساتھ معصوم بچوں کو بھی نہیں چھوڑاہے۔ معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ایسے ایسے دل دہلا دینے والے سانحات رونما ہو رہے ہیں کہ انسانی روح کانپ جاتی ہے۔

خواتین و بچوں سے زیادتی کے ان بڑھتے واقعات نے پورے معاشرے کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے، معصوم بچیوں کو نہ صرف زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، بلکہ شقی القلب ملزمان انہیں قتل بھی کر رہے ہیں، چند روز قبل لاہور کے علاقہ باغبانپورہ سے لاپتہ ہونے والی بچی کو ہمسائے نے گھر لے جا کر زیادتی کے بعد قتل کر دیا، سیالکوٹ میں ایک بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، کشمورمیں بھی ایک پانچ سالہ بچی سے زیادتی کی گئی ہے، اس صورت حال میں معاشرے سے معصوم بیٹیاں سوال کرتی ہیں کہ کیا صرف صنف نازک ہونا ہی ہمارا قصور بن گیا ہے۔

یہ امر واضح ہے کہ معصوم بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات جنسی طور پر بیمار معاشرے کی نشاندہی کرتے ہیں، یہ صورتحال بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے بھی ہماری غفلت اور غیر ذمہ داری کی عکاس ہے جو جنسی طور پر بیمار ذہنیت کے ساتھ جوان ہوتے ہیں اور معاشرے میں زیادتی کے مجرموں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ موجودہ تشویشناک صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ایسے بدکرداروں کی مصلحت کی آڑ میں حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے فوری قلع قمع کیا جائے، اس حوالے سے قوانین میں ترمیم کر کے فوری ٹرائل عدالت میں وقوعہ پر ہی سخت سزائیں سنائی جائیں اور ان کی لاشوں کو شہرکے چوراہوں میں لٹکا دیا جائے، تاکہ نشان عبرت بنانے سے معاشرے کو ایسے جنسی درندوں سے پاک کیا جا سکے۔

اس میں شک نہیں کہ ہمارا مستقبل، ہمارے بچے بہت بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔ بچوں سے زیادتی، تشدد، ریپ کیسز میں مسلسل اضافہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون بنا کر سخت ترین سزا کا اجرا کرنا ہوگا۔ زینب، اسما جیسے دیگر واقعات صرف سخت ترین سزا ؤں کے اجراء سے ہی روکے جا سکتے ہیں۔ اس کاعبرت ناک انجام سر عام پھانس ہے، یہ سزا وحشیانہ اس وقت لگتی ہے جب مجرم کی نفسیات سے دیکھا جائے، معاشرے کے حوالے سے نہیں، قانون کا خوف ہی جرم کے سدباب کا واحد ذریعہ ہے، مجرم جب فطری، اخلاقی احساس، تعلیم و تربیت اور سماج کے دباؤ سے ماورا ہو جائے تو وہ سخت سزا کا ہی مستحق ہوتاہے، تاہم معصوم بچوں کو جنسی درندوں سے بچانے کے لئے قانونی اداروں کے متحرک ہونے کے ساتھ والدین کو بھی اپنی ذمہ داریوں سے عہدا برا ہو نا ہو گا۔

یہ بات بجا ہے کہ ہمارے ہاں اس کی سزا سرعام پھانسی دینا نہیں، مگرسوال یہ ہے کہ جب حکمرانوں کے اپنے مفاد کے قوانین بن سکتے ہیں تو عوام کے مفادمیں بچوں کی حفاظت کے لیے سخت سزا کا قانون کیوں نہیں بن سکتا؟ اگر ہم نے اپنے بچوں کو واقعی محفوط کرنا ہے تو سخت قوانین بنانے ہو ں گے۔ حکومت اور قانونی اداروں کو جہاں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا، وہیں والدین کا کردار بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، والدین کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنی اولاد کی تربیت کے ساتھ انہیں زیادہ وقت دینا ہو گا، اپنے بچوں سے دوریاں ختم کر کے دوستی کے رشتے کو پروان چڑھانا ہو گا، تاکہ کوئی تیسرا تعلق اندر نہ گھس سکے۔

بچوں کے زیادتی کیسز میں زیادہ تر قریبی رشتہ دار، محلے دار، جاننے والے ہی ملوث پائے جاتے ہیں۔ اس لیے سب سے زیادہ جاننے والوں سے اپنے بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں، اگر بچے کسی حرکت کی شکایت کریں تو چپ رہنے یا نظر انداز کرنیکی بجائے فوری ایکشن لینا چاہے، یہ آپ کا حق اور فرض ہے، اگر آپ ایکشن نہیں لیں گے تو آپ بھی مجرم ہوں گے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ عوام کوتحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، تاہم ہمیں ہر مسئلہ کا بوجھ حکومت پر ڈالنے کی بجائے اپنی ذمہ داری کا بھی احساس کرنا چاہیے، والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں، تا کہ وہ ایسے کسی واقعے کا نشانہ بننے سے بچ سکیں، انہیں بچپن سے ہی ابتدائی تعلیم سے آگاہی دیں، انہیں حفاظتی تدابیر سے روشناس کروائیں، تاکہ وہ کسی کی بھی لالچ میں نہ آ سکیں، کیوں کہ اکثر واقعات میں بچے کو کسی چیز کا لالچ دے کرپھانسا جاتا ہے، اگر ہم اپنے معالج خود نہیں بنیں گے تو بعد میں بغیر پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، اس کے بعد تو صرف صبر کے گھونٹ ہی بھر کر آنسو ہی بہا سکتے ہیں۔

اگر چہ دنیا میں کسی قوم کا بھی صبر ضائع نہیں جاتا، لیکن معلوم نہیں ہمارے صبر کے نتیجے کا وقت کب آئے گا؟ ہم بہتری کا خواب تو دیکھ سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے امید بھی لگا سکتے ہیں کہ وہ واحد ذات ہے جو ناممکنات کو ممکنات سے بدل سکتا ہے، وگرنہ بظاہر ہم ایک ہا ری ہوئی قوم ہیں، ہم ایک ایسی غیر ذمہ دار نسل ہونے کا تاثر دے رہے ہیں کہ جو اپنے بزرگوں کو سکھ دے سکتی ہے، نا ہی اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کر سکتی ہے، ہاں البتہ کورونا وائرس میں بھی جلسے جلوسوں میں بریانی کی ایک پلیٹ پر جیئے بھٹو اور ووٹ کو عزت دو کے نعرے خوب لگا سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •