زیر زمین (فیض احمد فیض کی یاد میں )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیوشا ایک عام عورت تھی اپنے لوگوں میں رچی بسی سی۔ شاعرہ تھی تو الفاظ کے بہاؤ میں بہت کچھ کہہ جاتی۔ وہ لکھتی رہتی، لکھتی رہتی جب تک کہ کوئی آواز، کوئی تیز روشنی کی کرن اسے لا شعور کی دنیا سے شعور کی دنیا میں نہ دھکیل دے۔ پھر وہ حیران ہو جاتی کہ اس نے کتنا سارا لکھ دیا ہے، کئی صفحوں کے سینے چاک کر دیے ہیں۔ پتا نہیں کون کون سے خیالات جو تہہ در تہہ دماغ کے کسی کونے میں دبے ہوئے تھے کیسے یکایک جاگ کر اس کے سامنے آن کھڑے ہوتے تھے۔

پھر وہ پڑھنے بیٹھ جاتی کہ اس نے کیا لکھ دیا ہے۔ وہ حیرانی سے کئی بار اپنے لکھے ہوئے اشعار کو پڑھتی جیسے یہ کسی اور کے لکھے ہوئے ہیں، جذبات سے بھر پور، احساسات سے بوجھل، اور بعض تلوار کی نوک سے زیادہ چھلنی کرنے والے۔ لیکن وہ انہیں کیسے اور کہاں شائع کروائے وہ تو خود کئی سالوں سے چھپی ہوئی تھی۔ کئی لوگ کہتے کہ وہ ایک خفیہ جگہ یعنی زیر زمین چلی گئی ہے۔ ملک میں نیوشا کی شاعری کو شائع کرنے پر پابندی تھی۔ اس کی تلاش میں کچھ لوگ تگ و دو میں لگے ہوئے تھے نیوشا کے قلم کو ہمیشہ کے لئے توڑنے کے لئے اور ساتھ ہی اس کی روح اور جسم کو بھی۔

نیوشا کسی طرح چھپتے چھپاتے ہوئے ایک دور افتادہ گاؤں میں چلی گئی تھی۔ لوگوں کی ہمدردیاں اس کے ساتھ تھیں تو انہوں نے نیوشا کو پناہ دی، ایک بند کمرے میں اسے چھپا دیا اور ایک دیوی کی طرح جان کر اس کی خدمت بھی کی۔ وہ ان معصوم اور مفلوک ا لحال لوگوں سے اور متاثر ہوئی۔ اس کے قلم کی جادوانی میں اضافہ ہو گیا اور اس کی تحریر کا رنگ نکھرتا چلا گیا۔ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے قلم پاروں کو عوام تک پہنچاتی رہی۔ وہ لکھتی رہی اور اس کے دشمن اسے ڈھونڈتے رہے۔ اسی طرح کئی سال گزر گئے اور نیوشا کو میڈیا ’دشمن کا ایجنٹ‘ کے لقب سے نوازتا رہا لیکن اندر ہی اندر وہ لوگ نیوشا کے انا ا لحق کے نعرے سے کانپ جاتے۔

آسمان سب کچھ دیکھ رہا تھا، سورج بھی اور چاند بھی۔ ملک میں انا ا لحق کا نعرہ اتنی شدت اور زور سے بلند ہوا کہ نیوشا کو دشمن کا ایجنٹ کہنے والے تتر بتر ہو گئے اور ان کے گیت الاپنے والے دنیاوی سزا سے بچنے کے لئے خود زیر زمین چلے گئے۔

اب نیوشا کی ماں باہر نکلی اپنی بیٹی کو ڈھونڈنے کے لئے۔ نیوشا کہاں ہے؟ کیا نیوشا اپنے دشمنوں سے زندہ بچ گئی؟ دوستوں اور دشمنوں سب سے پوچھا اور پھر اسی گاؤں کی طرف چل دی۔ جب وہ اس جنت نظیر گاؤں پہنچی تو اس کو بتایا گیا کہ نیوشا اب بھی زیر زمیں ہے۔ لیکن وہ باہر کیوں نہیں آتی! ماں کے اسرار پر گاؤں والے اس کو ایک کھلے میدان میں لے گئے۔ نیوشا کی ماں کی بوڑھی مگر جھیل سی گہری آنکھوں سے کئی آنسو نکلے۔ ’میری بیٹی کو ضرور پتا لگ گیا ہو گا کہ انا ا لحق کا نعرہ گلی گلی کوچے کوچے گونجنے والا ہے، امید سحر کی آمد آمد ہے۔ اس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ زیر زمیں خفیہ رہ کر گزارا تھا۔ نیوشا باہر آنے کے لئے تیار نہیں تھی تو وہ ہمیشہ کے لئے زیر زمیں چلی گئی۔‘ یہ کہہ کر ماں مٹی کے ایک ڈھیر پر جھک گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •