جو بائیڈن اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشہور امریکی صحافی سٹیو کول افغان جنگ پر اپنی کتاب ”ڈائریکٹوریٹ ایس“ میں لکھتے ہیں کہ براک اوباما کے صدر منتخب ہونے کے بعد 2008 میں ان کے نائب صدر جوزف آر بائیڈن افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے لئے کابل آئے۔ افغان صدر نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان میں طالبان کے ٹھکانے ختم کروانے کے لیے امریکی حکومت ان سے مل کر پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالے۔ لیکن بائیڈن نے درشت لہجے میں کہا ”مسٹر صدر! پاکستان امریکہ کے لئے افغانستان سے 50 گنا زیادہ اہم ہے۔“

سوال یہ ہے کہ اگر نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی نظر میں پاکستان واقعی امریکہ کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے تو پھر پاکستان کے لیے جو بائیڈن کی متوقع حکومت کون سے فوائد اور امکانات لا سکتی ہے؟

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مختلف ادوار میں گرمجوشی، سردمہری، باہمی بدگمانی، جائز اور ناجائز توقعات و مطالبات اور گلے شکووں سے عبارت رہے ہیں۔ پاکستان کو گلہ ہے اس کی امریکہ کے لیے خدمات اور قربانیوں کی قدر کرنے کے بجائے اسے ہمیشہ زچ کیا گیا اور اس کی خدمات اور قربانیوں کی قدر کرنے کے بجائے امریکہ نے اپنا مفاد پورا ہونے کے بعد مسائل سے نمٹنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا۔

تو کیا جو بائیڈن کی حکومت افغانستان، کشمیر، ایف اے ٹی ایف وغیرہ میں پاکستان کے مفادات کا خیال رکھے گی؟
ایک ہندوستانی کالم نگار سمرتی چودھری کے الفاظ میں جو بائیڈن کی جیت پر بھارت سوگ جبکہ پاکستان خوشیاں منا رہا ہے۔

چین کی مخالفت کی بنیاد پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مابین قریبی ذاتی تعلق قائم ہوا۔ یہاں تک کہ ٹرمپ نے مودی کو امریکہ میں ایک بڑے جلسے میں خطاب کا موقع دیا جہاں مودی نے امریکیوں کو ٹرمپ کے انتخاب کا مشورہ دیا۔ پاکستان نے ایسی کوئی لائن نہیں لی۔ مبصرین کے مطابق مودی نے امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی طرف داری کر کے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس کا بائیڈن کی کامیابی کے بعد اب یقیناً بھارت کو نقصان ہوگا۔

اس کے برعکس پاکستان کو اگرچہ ٹرمپ کے پہلے دو سالوں میں سردمہری کا سامنا تھا لیکن پھر افغانستان میں امن عمل میں اپنے مثبت اور کامیاب کردار کے بعد ان کے تعلقات بہتر ہو گئے حتیٰ کہ مودی کی جانب سے ٹرمپ کے لیے بھارت میں منعقدہ ”نمستے ٹرمپ“ ریلی میں ہی صدر ٹرمپ نے پاکستان اور امریکہ کے اچھے تعلقات کا اقرار کیا اور اس کی تعریف کی۔

اگرچہ صدر ٹرمپ کسی شخص اور ملک بارے بولتے ہوئے بڑے بڑے ایڈجیکٹیوز یعنی اسماء صفت استعمال کرنے کے عادی ہیں مگر متلون مزاج اور متکبر صدر ٹرمپ کسی بھی وقت پینترا بدل سکتے ہیں اس لیے بائیڈن کی جیت سے پاکستان کو زیادہ خوشی ہوئی۔

وزیراعظم عمران خان نے جو بائیڈن کی جانب سے جیت کے اعلان کے بعد فوراً انہیں مبارکباد دی اور غیر قانونی ٹیکس ٹھکانوں اور بدعنوانی کو ختم کرنے اور افغانستان اور خطے میں امن کے لئے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

نومنتخب صدر بائیڈن نے اوباما کے دونوں ادوار صدارت میں نائب صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ چھتیس سال سے سینیٹ اور سیاست میں موجود ایک قابل اعتماد، تجربہ کار اور خطے اور دنیا کی سیاست سے آگاہ سیاستدان ہیں جن کے پاکستان کے جمہوری سیاستدانوں سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ چنانچہ مبصرین ان کی کامیابی کو پاکستان میں جمہوریت کے لیے نیک شگون قرار دے رہے ہیں۔

ٹرمپ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء میں بڑی عجلت دکھا رہے ہیں جو افغانستان، پاکستان اور خطے کے مفاد میں نہیں۔ امید ہے بیس جنوری کے بعد ذمہ دار، دانا اور محتاط بائیڈن کی حکومت افغانستان سے فوجیوں کے انخلا پر محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کے مشورے سے چلے گی۔

تمام تر منصوبہ بندی، پیش بندی اور انتظامات کے بعد اس حوالے سے باخبر اور سوچا سمجھا فیصلہ کرے گی اور یہاں سے عجلت میں نکلنے اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے سے اجتناب کرے گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب برسر اقتدار آئے تو وہ سفارتی آداب اور احتیاط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھارت کی بولی بولتے ہوئے پاکستان کو ”جھوٹ اور دھوکہ دہی“ کا مرتکب اور دہشت گردوں کی ”محفوظ پناہ گاہ“ کہتے رہے۔ انہوں نے مودی حکومت کی انتہاپسندانہ اقدامات، اقلیت مخالف پالیسیوں اور کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آنکھیں بند رکھیں۔

اس کے برعکس بائیڈن اور ان کی نائب صدر کملا ہیرس نے بھارت اور کشمیر میں مودی کی آزادی مخالف اقدامات پر تنقید کی۔

بائیڈن سے اگرچہ یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ انسانی حقوق پر بھارت کے ساتھ امریکی تعلقات بگاڑ لیں گے لیکن بائیڈن نے چونکہ خود کشمیریوں کی حالت زار کا موازنہ بنگلہ دیش میں روہنگیا اور چین کے ایغور مسلمانوں سے کیا تھا اس لیے امکان ہے کہ وہ ہندوستان سے کشمیریوں کے حقوق کی بحالی کے لئے ضروری اقدامات ”کرنے اور انسانی حقوق کی کسی بھی اور ہر طرح کی خلاف ورزیوں پر بات کریں گے۔

امید کی جا سکتی ہے کہ بھارت کو اب اپنی تشدد پسندی اور اقلیتوں پر اکثریتی آمریت مسلط کرنے میں امریکہ سے ٹرمپ جیسی حمایت نہیں بلکہ مخالفت کا سامنا ہوگا۔
چین کے ساتھ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کے تعلقات کشیدہ رہے جس کے نتیجے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری پر ایلس ویلز سمیت امریکی عہدیدار تنقید کرتے رہے۔
اب بائیڈن کے آنے سے امید ہے چین امریکہ تعلقات میں توازن آ جائے گا اور سی پیک کے حوالے سے امریکی حکومت پاکستان کی پوزیشن اور مفادات کا احترام کرنے لگے گی۔

ٹرمپ پالیسی کے مطابق بھارت اگر چین سے مقابلہ کے لیے امریکہ کی ضرورت تھا تو اب اگر بائیڈن چین کے ساتھ مقابلے اور دشمنی کے بجائے تعلقات کار اور ضروری رابطے استوار کرنا چاہیں تو پاکستان اس کی مدد کر سکتا ہے۔

پاکستان افغانستان میں دیرپا امن کے لیے کوشاں ہے کیوں کہ وہاں بدامنی کا براہ راست نقصان پاکستان کو پہنچتا ہے۔ امریکہ اس کے تعاون کا معترف بھی ہے۔ پاکستان کو گلہ ہے کہ بھارتی اور افغان خفیہ ادارے پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے اور افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال کر رہے ہیں لیکن امریکہ نے اب تک انہیں نہیں روکا۔ امید ہے جو بائیڈن اس بابت بھی پاکستان کے تحفظات دور کریں گے۔

پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور اہم محل وقوع کی وجہ سے جو بائیڈن پاکستان کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور افغان امن کے لیے بھی وہ پاکستان کو ایک قابل اعتماد اور دیانتدار اتحادی سمجھتے ہیں۔

2008 میں جو بائیڈن نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے سینیٹر لوگر کے ساتھ مل کر پاکستان کو سویلین امداد میں کئی ارب بلین ڈالر کی امداد بھی دلوائی تھی جس پر 2009 میں صدر زرداری نے انہیں ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہری اعزاز ’ہلال پاکستان‘ سے نوازا تھا۔

اب پاک امریکہ تجارت کی بات کرتے ہیں۔ امریکہ کو پاکستانی برآمدات بتدریج کم اور پاکستان کو امریکی درآمدات بڑھ رہی ہیں۔ بائیڈن پاکستان کی معاشی ترقی کے ذریعے یہاں انتہاپسندی کو شکست کی بات کرتے رہے ہیں۔ کیا وہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے مالی امداد اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے آسان شرائط پر قرضوں کے حصول میں سہولت کار کا کردار ادا کریں گے؟

اس کا امکان نہیں ہے کہ بائیڈن کے امریکی صدر بننے کے بعد پاکستان سے امریکی تعلقات مکمل طور پر درست ہوجائیں گے۔ تاہم جو بائیڈن اپنے پیش رو کے برعکس بین الاقوامیت، ربط و تعاون، پرامن بقائے باہمی، رواداری اور ذمہ دارانہ طرزعمل کے علمبردار ہیں۔ ان کی انگیجمنٹ کی پالیسی کا پاکستان کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •