20 نومبر بچوں کا عالمی دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

20 نومبر بچوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔
پاکستان میں بچوں کے حقوق کی حالت انتہائی پسماندگی کا شکار ہے۔
پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور بنیادی تعلیم سے بھی محروم کیے گئے ہیں۔
لاکھوں بچے انتہائی کم عمری میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان میں 25 فیصد کے قریب لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کر دی جاتی ہے۔

لوگ خاندانی دشمنیوں کے خاتمے اور قتل کے کیسز میں راضی ناموں کے لیے 10 سال سے بھی کم عمر لڑکیوں کو ونی کر دیتے ہیں۔

ہزاروں بچوں کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے اور ان کو قتل کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں لاکھوں بچے مدرسوں میں پڑھتے ہیں ان مدرسوں میں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے ان بچوں کا مدرسوں میں منظم جنسی استحصال کیا جاتا ہے اور ان کو وحشیانہ سلوک کا نشانہ بنا کر ان کی شخصیت کو تباہ کر دیا جاتا ہے۔

ریاست کا کردار مجرمانہ ہے چائلڈ لیبر کو روکنے کے لیے کوئی واضح قانون سازی نہیں کی گئی یا حکمت عملی نہیں اپنائی گئی جس سے اسے روکا جا سکے۔

نہ ہی کم عمری کی شادی کو روکنے کے لیے کوئی ایسی قانون سازی کی گئی ہے جو پورے ملک میں نافذ ہو جس صوبے میں قانون سازی کی گئی ہے وہاں بھی اس کا نفاذ نظر نہیں آتا۔

اس کے علاوہ بچوں سے ریپ اور ان کے قتل جیسے جرائم بہت بڑے پیمانے کیے جا رہے ہیں لیکن ریاست کوئی اقدامات نہیں کر رہی جس سے بچوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

نہ ہی ایسی ٹریجڈی میں سروائیو کرنے والے بچوں کے لیے کوئی بحالی مراکز ہیں۔

ریاست عوام کے ٹیکس کا ایک بڑا حصہ دفاع کے نام پر خرچ کر رہی ہے جبکہ کروڑوں بچے تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم ہیں اور جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کو ذہنی بانجھ بنانے اور ان کی ذہنی نشوونما کو روکنے کے لیے ان کو جھوٹا اور نفرت انگیز نصاب پڑھایا جا رہا ہے۔

نظام تعلیم ایسا ہے جو حکم کے بندے ہی پیدا کرتا ہے۔

ریاست نے جو انتہا پسندی کے بیج بوئے اس سے لاکھوں بچے متاثر ہو رہے ہیں، چند روز قبل شدت پسند جماعت کے فیض آباد دھرنے کی ایک تصویر دیکھی جس میں دس بارہ سالہ بچہ ایک تیز دھار ٹوکا ہوا میں لہرا رہا تھا۔

اسلام آباد کے ایک مدرسے کی ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ایک خاتون ٹیچر چھے سات سال کی بچیوں کے سامنے فرانسیسی صدر کے پتلے کا سر قلم کر رہی تھی سوچیں ان معصوم ذہنوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہوں گے۔

ریاست کی جنگی پالیسیوں اور پراجیکٹ جہاد سے لاکھوں بچے متاثر ہوئے ایک طرف تو وہ ہیں جن کو مدرسوں میں جہادی نصاب پڑھا کر جنگ کا ایندھن بنایا گیا اور دوسرے وہ جن کو اپنے گھروں سے در بدر ہونا پڑا اور ہر وقت ایک عدم تحفظ کے احساس سے گھرے ہوئے ہیں، جن کے پیارے قتل ہو گئے، وہ جو گیند سے کھیلنے کی عمر میں جب کسی چیز کو کھلونا سمجھ کر اٹھاتے ہیں تو وہ باردوی گولا پھٹ کر ان کو ٹانگ ہاتھ یا کسی بھی جسمانی اعضا سے معذور کر دیتا ہے۔

وہ ہزاروں افراد جو اغوا کر کے فوج کے حراستی مراکز میں رکھے گئے ہیں ان کے بچوں اور چھوٹے بہن بھائیوں پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہوں گے یہ بھی سوچیں۔

معاشرے میں برپا ہونے والے کسی بھی تغیر کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑتا ہے ہمارا معاشرہ بچوں کے لیے ایک محفوظ معاشرہ نہیں ہے۔

معاشرے کا اہم ستون خاندان ہوتا ہے ہمارے خاندانی نظام میں بھی بے شمار ایسی خامیاں ہیں جو بچوں کے مستقبل تباہ کر دیتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •