علامہ خادم کا جنازہ یا ہمارے مستقبل کا جنازہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر معاشرے کا ارتقاء ہوتا ہے، ہو رہا ہے، اور ہوگا۔ پاکستانی معاشرے کا بھی ارتقاء ہو رہا ہے لیکن یہ ارتقاء معکوس کے سفر میں ہے اور اس کی رفتار انتہائی سریع ہے۔

یہ جنازے اسی ”ارتقاء“ کا نمونہ ہیں۔ اگر یوں ہی چلتا رہا اور یوں ہی لوگوں کے جنازوں کے حجم بڑھتے رہے اور یوں ہی لوگوں کو اپنے جنازے شاندار بنانے کا شوق چراتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب یہاں گلی گلی میں معرکے ہوں گے۔ کافر کافر کی صدائیں ہوں گی، اور کانوں میں گالیوں اور دشنام کی موسیقی گونجا کرے گی۔

دائیں بازو کے صحافی اور نام نہاد دانشور خود بھی عش عش کر رہے ہیں کہ ماشاءاللہ کیا ہی بڑا جنازہ تھا اور اپنے قارئین کو بھی بتا رہے ہیں کہ دیکھو اگر تمہیں دنیا اور آخرت کی بھلائی مطلوب ہے تو ”ان“ کے نقش قدم پر چلو، اسی طرح گندی گندی گالیاں دو، اسی طرح گلی گلی کفر کے فتوے بانٹو۔ اسی طرح دہشت پھیلاؤ، آئے روز ملک بند کر دو، سڑکوں پر غنڈہ گردی کرو، لوگوں کو اذیت پہنچاؤ تا کہ تمہاری دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں۔

پاکستان میں مقبول ہونے کا انتہائی سادہ سا کلیہ ہے کہ اپنی تحریر میں اور اپنی تقریر میں آغاز اور اختتام میں دو تین حدیثیں بیان کرو اور بیچ میں اشفاق احمد، واصف علی واصف یا قدرت اللہ شہاب کے اقوال کا ذکر کرو، گھٹیا قسم کا مزاح پیدا کرو۔ جب تحریر یا تقریر پک جائے تو اس پر مذہب کا تڑکہ لگاؤ اور ڈش عوام کے سامنے پیش کردو آپ یقیناً دنوں میں مقبولیت کا سفر طٰے کر لیں گے، ٹی وی ٹاک شوز میں آپ کو مدعو کیا جائے گا، بڑے بڑے اخباروں میں آپ کو کالم لکھنے کی پیش کش کی جائے گی۔ ذرا اپنے مشہور دانشوروں کی ایک لسٹ بنائیں اور پھر دیکھیں کہ ان میں سے کتنے دانشوری کے کسی بھی معیار پر پورا اترتے ہیں۔ جو واقعی دانشور ہیں ان کو کوئی جانتا تک نہیں۔

پاکستانی معاشرہ اپنی اساس میں ایک نام نہاد مذہبی اور روایتی معاشرہ ہے۔ روایتی اور مذہبی معاشرے میں منبر بہت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور ہمارا منبر ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو کہ معاشرے کا ایک ٹھکرایا ہوا، چندوں پر پلنے والا، کم پڑھا لکھا، احساس کمتری کا مارا ہوا، اور عصری علوم سے نابلد طبقہ ہے، یہ طبقہ آج بھیی صدیوں پہلے کے زمانے میں زندہ ہے، منبر پر اس انتہاپسند اور کم پڑھے لکھے طبقے کے قابض ہونے کی وجہ سے معاشرے کی ترقی معکوس کا سفر بہت ہی تیز ہو گیا ہے۔

ایک ڈھلوان کا سفر ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر کوئی شارٹ کٹ سے غازی اور ہیرو بننے کے چکر میں ہے، کچھ خبر نہیں کہ کب کوئی کس کو کافر کہہ کر مار دے اور راتوں رات ہیرو بن جائے، روز کوئی نہ کوئی احمدی جنت کے ٹکٹ کے حصول کے لئے دن دہاڑے قتل کر دیا جاتا ہے، قتل کرنے والوں نے انہی منبروں سے شہ پائی ہے۔ ان کو صبح و شام بتایا جاتا ہے کہ یہ کافر ہیں اور ان کو مار کر تم بغیر کسی حساب کتاب کے جنت میں داخل ہو جاؤ گے جہاں تمہیں انواع و اقسام کی نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا اور تم دن رات ستر ستر فٹ کی حوروں کے جھرمٹ میں شراب کی نہر کے کنارے جام پر جام چڑھاؤ گے، عیش ہی عیش ہوگی اور کوئی غم نہ ہوگا۔

یہ اسی منبر کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ تقریباً روزانہ کسی نہ کسی اقلیت کے کسی فرد کو جنت کے حصول کے لئے مار دیا جاتا ہے، یہ اسی تربیت کا فیضان ہے کہ ہندو اور عیسائی کمسن لڑکیوں کو اغوا کر کے اور زبردستی مسلمان بنا کر ان سے بیاہ رچایا جاتا ہے اور ثواب کے ساتھ ساتھ اپنی ہوس بھی مٹائی جاتی ہے۔

منبر پر بیٹھنے والے کو اعلی تعلیم یافتہ، قرآن و حدیث پر عبور اور عصری علوم کا ماہر نہیں تو کم ازکم اس کی سدھ بدھ ضرور ہونی چاہیے، اس کو کنویں کا مینڈک بہر حال نہیں ہونا چاہیے، اس نے اگر ملک سے باہر سفر کیا ہو، دو چار ممالک کی معاشرت، ان کے رہن سہن کا بغور مشاہدہ کیا ہو تو ممکن ہے کہ اس کے ذہن کی گرہیں کھلیں۔ کم از کم یہ نہ ہو کہ اس نے اپنی پوری زندگی میں اپنے ملک بلکہ اپنے شہر کی سرحد سے باہر قدم بھی نہ رکھا ہو، اور جدید علوم کی الف ب سے بھی نا واقف ہو۔ اس کا وعظ فحاشی کی تکرار سے شروع ہوکر، عورتوں کے پردے سے ہوتا ہوا مخالف فرقے کے پیروکاروں پر کفر کے فتوے پر ختم ہوتا ہو۔

اگر منبر انہی لوگوں کے ہاتھ رہا تو یقین رکھیں اس ترقی معکوس کے سفر کو مزید پر لگ جائیں گے، ہر گلی اور ہر محلے میں غازی پیدا ہوں گے، جنت کی چاہت میں قتل و غارت کا بازار گرم ہو گا، ایدھی کو کافر کہا جاتا رہے گا، ڈاکٹر روتھ فاؤ کو جہنمی ہونے کی نوید سنائی جاتی رہے گی، ڈاکٹر عبدالسلام کے چہرے پر سیاہی ملی جاتی رہے گی، اور یہ ملک اور یہ معاشرہ رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔

لیکن جنازے کے شرکاء کی تعداد سے مرنے والے کی عظمت کا اندازہ لگانے والے جان لیں کہ انتہا پسند معاشروں میں انتہا پسندوں کے جنازے اتنے ہی بڑے ہوتے ہیں۔ اگر یقین نہیں آتا تو پڑوس میں 18 نومبر 2012 کو بال ٹھاکرے کی آخری رسومات میں آنے والے لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ایک دفعہ ضرور دیکھ لیں۔ ان شااللہ افاقہ ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •