فلم بینوں کے دل وحید مراد کے لئے کب دھڑکنا بند ہوئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1983 کے گیارہویں مہینے کی تیئس تاریخ کو جب یہ افسوسناک خبر منظر عام پر آئی، تو فلم سے دلچسپی رکھنے والے اور دلچسپی نہ رکھنے والے سبھی، یک دم افسردگی کی حالت میں آ گئے۔ ایسے جیسے، پاکستان کے پہلے اور سدا بہار پوپ سونگ ”کو کو کورینہ“ کی آڈیو ہمیشہ کی لیے خاموش ہو گئی ہو یا جیسے اس کی رنگارنگ متحرک بلیک اینڈ وائٹ وڈیو کو، ساکت کر دیا گیا ہو!

اس موقع پر نامور ادیب مستنصر حسین تارڑ کے تاثرات دریا کو کوزے میں بند کردینے کے مترادف ہیں جو انھوں نے مرحوم کی آخری رسومات میں شرکت کے بعد قلم بند کیے ( اور نئی نسل، اس میں دی گئی مثال سے وحید مراد کی مقبولیت کا اپنے طور پر اندازہ بھی کر سکتی ہے ) :

”۔ وہ پاکستانی فلمی دنیا کا سب سے بڑا سپر سٹار تھا جس کے ساتھ عوام نے اور خاص طور پر ‎نوجوان نسل نے ٹوٹ کر محبت کی۔ شاید آج کا شاہ رخ خان بھی اس سے بڑھ کر پسندیدگی کے جنون سے دوچار نہیں ہو سکا۔ اس کا ہیئر سٹائل دلیپ کمار کے بعد ایک فیشن کی صورت اختیار کر گیا!“

فنکاروں، ساتھی اداکاروں اور پرستاروں کے غمزدہ ریمارکس کے دوران، اس سناٹے میں بعض ( بلکہ کافی ) تجزیہ کاروں کی یہ آواز بھی سنائی دی کہ ”ان کے دل کی دھڑکن اسی دن بند ہو گئی تھی جب مداحوں کے دل ان کے لئے دھڑکنا بند ہوئے تھے۔“ منو بھائی نے بھی اپنے کالم ”جنگل اداس ہے“ میں ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا اور مستنصر حیسن تارڑ نے بھی درج بالا تحریر میں ان ہی خیالات کو آگے بڑھایا۔

آج 2020 کا ماہ نومبر، گویا سینتیس برس گزر گیئے، ہیرو کو مداحوں اور فلم بینوں سے بچھڑے، مگر روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر موجود محبت اور اظہار محبت سے سجے، سال ہا سال کے دلکش مناظر اور ان کا سلسلہ در سلسلہ، خود جواب دہ ہے کہ فلم بینوں کے دل، وحید مراد کے لئے کب دھڑکنا بند ہوئے تھے!

یہ جاننے کے لیے کہ فلمساز سے اداکار، اداکار سے ہیرو اور ہیرو سے سپر اسٹار کے سفر میں، وہ کیسے، لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بنتے چلے گئے اور پھر ایسی دل موہ لینے والی شخصیت کے لیے ، ایسے مشاہدے اور تجزیے کیسے اخذ کیے گئے، اس کے لئے ہمیں اس ہمہ جہت شخصیت کی فنی زندگی کی طرف مڑ کر دیکھنا ہو گا۔

فلمی حلقوں میں، شہرت اور کامیابی کی داستان رقم کرتے ہوئے، وحید مراد اور وحید مراد کے جواں سال اور پر عزم دوستوں کے تخلیقی اشتراک کو بہت مانا اور سراہا گیا اور بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان ( کم و بیش) فور فرینڈز نے اپنے باہمی ملاپ سے وہ نام کمایا جو پاکستان فلم انڈسڑی میں کم فنکاروں کے حصے میں آیا ہو گا۔ وحید مراد کے ہم راہ، غیر معمولی ہدایت کار پرویز ملک، منفرد موسیقار سہیل رعنا اور خوبصورت گیت نگار مسرور انور، اس فکری ملاپ کے بنیادی روح رواں رہے اور سکرین پر، پلے بیک سنگر کی حیثیت سے احمد رشدی کی سریلی آواز، اس ٹیم کی صوتی پہچان بنی۔

ایک سے بڑھ کر ایک، تخلیقی صلاحیت رکھنے والے ان ہم خیال اور ہم مزاج دوستوں کا یکجا ہونا، درحقیقت ذہانت، جما لیات اور مہارت کا ایسا مجموعہ تھا کہ اس سے اچھے اور بہتر کی توقع ہی کی جا سکتی تھی۔

یکے بعد دیگرے ملنے والی کامیابیوں نے، فور فرینڈز کے اس سفر میں ناقابل فراموش سنگ میل نصب کیے اور نہ جانے، ان کے ذہنوں میں اور کتنے خواب، تعبیر کے منتظر رہے ہوں گے مگر جلد ہی ان دوستوں کے لئے وہ دوراہا مقابل تھا، جہاں سے انفرادی پرفارمینس کے جداگانہ راستوں کی بنیاد رکھی گئی۔

اسی موڑ پر، وحید مراد کے لیے ایک چیلنج، علاوہ نئے امکانات کی جستجو کے، اپنے لیے ایک نئی ہیروئن کی تلاش بھی تھی، یہ چیلنج زیبا کی شادی کی صورت میں نمودار ہوا (اور اس رائے سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو کہ اس کے نتیجے میں پاکستان فلم انڈسٹری، ایک نہایت دیدہ زیب اور حقیقتاً بے مثال جوڑی سے محروم ہوئی)

ہیروئن کی تلاش میں ( شبنم کی صورت میں ) سمندر پار سے فوری کامیابی کے باوجود، یہ بحران وقفوں سے جاری رہا اور کیریر کے لیے چیلنج بنا رہا مگر حقیقتاً ان کے لیے بہتر سکرپٹ اور بہتر پروڈکشن ٹیم کی تلاش، بالواسطہ اور بلاواسطہ، ان پر مسلسل اثر انداز ہوتی رہی۔ وہ ہیرو جس کی ابتدا خوش قسمتی کے استعارے سے ہوئی تھی، اور جو اپنے دوستوں کی رفاقت میں فاتحانہ نمودار ہوا تھا، اب با لکل بر عکس حالات سے دو چار تھا۔

ان کے ادا کیے جانے والے ثانوی، معاون اور غیر اہم کرداروں سے ان کی اپنی عدم دلچسپی، بیگانگی اور لا تعلقی نمایاں نظر آنے لگی۔ فلم بین اور ان کے مداح ارمان، ہیرا اور پتھر، دیور بھابھی، کنیز، انسانیت، عندلیب، جاگ اٹھا انسان، جوش، دل میرا دھڑکن تیری، جیسی فلموں اور کرداروں کے تمنائی تھے، مگر جو کچھ سامنے آ رہا تھا وہ ان کے امیج کے لئے سراسر، نہ صرف نامناسب بلکہ منفی طور سے دور رس اثرات کا حامل تھا۔ اس صورت حال میں، نئے ہیروز کی آمد کے ساتھ ساتھ، ملٹی اسٹارز فلموں کے رجحان نے بہتر کردار اور کردار نگاری کے امکانات کو بتدریج مزید محدود کرنا شروع کیا۔

یوں سکرین کے معا ملات ایک طرف اور آف سکرین، والدین کا بچھڑنا، اپنی صحت کے مسائل اور پھر روڈ ایکسیڈنٹ، سب نے مل کر صورت حال بہت گمبھیر بنا دی۔ ابتدا ”جس کی پہچان“ فرینڈز ”تھے، اب اس چو مکھی لڑائی میں تنہا تھا۔ تاہم اس موقع پرایک نام کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گی اور وہ فلم“ جب جب پھول کھلے ”۔“ محبت زندگی ہے ”۔“ پھول میرے گلشن کا اور ”اپنے ہوئے پر ائے“ کے تخلیق کار اقبال اختر ہیں جنہوں نے آزمائش کی ان گھڑیوں میں مقدور بھر، ممکنہ حد تک ساتھ دیا۔ کیریر کے اختتامی حصے میں سب سے اچھی (اور شاید سب سے کامیاب) فلموں کا کریڈٹ انھی کو جاتا ہے۔

یہاں اس بات کی ستائش نہ کرنا زیادتی ہوگی جب ایسی شدید نوعیت کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی صورت حال میں اپنی تمام تر توانائی اور ہمت کو مجتمع کر کے خود کو منوانے کی تڑپ کے ساتھ، انھوں نے آخری ذاتی فلم بنانے کا ارادہ باندھا، تسلسل سے تاخیر کے سبب اقبال یوسف کی ہدایات میں بننے والی، یہ فلم ان کی زندگی میں مکمل نہ ہو سکی، ( اور نہ ہی ان کی ذاتی فلموں کے معیار سے ہمکنار ہو سکی ) تاہم اس فلم کا ٹائٹل ( ہیرو ) شعوری یا لاشعوری طور پر ان کے تب کے جذبات کی ترجمانی ضرور کرتا ہے۔

وہ فلم ساز اور سرمایہ کار جو یہ سمجھنے لگے تھے کہ وحید مراد کے لیے فلم بینوں کے دل دھڑکنا بند ہو گئے ہیں، اگر آج بھی ہم میں موجود ہیں، تو وہ ضرور وحید مراد کی ان سینتیس برسوں کے دوران عوامی مقبولیت اور سدا بہار پسندیدگی پر ضرور محو حیرت ہوں گے کہ ( ان کے مشاہدے کے بر خلاف ) ہیرو اور پرستاروں کا تعلق اتنا گہرا، دیرپا اور مثالی بھی ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •