اعداد و شمار کا ناٹک!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان کی معاشی ٹیم کے سربراہ، مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے اکانومی کے بارے میں اچھی اچھی خبریں سنائی ہیں، ان کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں کافی عرصے کے بعد لارج سکیل مینو فیکچرنگ کی صنعتوں کی پیداوار میں پانچ فیصد ترقی ہوئی ہے۔ بالخصوص سیمنٹ، فرٹیلائزرز اور آٹو موبائلز کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق برآمدات میں بھی گوناگوں اضافہ ہو رہا ہے، کرنسی بھی مستحکم ہو رہی ہے اور غیر ملکی زرمبادلہ میں بھی 13 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، اسی طرح مالیاتی شعبے میں ایف بی آر نے محصولات جمع کر نے میں چار فیصد اضافہ کر کے اپنے ٹارگٹ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور حکومت کی آمدنی اخراجات سے زیادہ ہے لہٰذا اس کو مرکزی بینک سے قرضے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

تاہم انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ڈیٹ سروسنگ کی وجہ سے کچھ مشکلات ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے قوم کے حوصلے مزید بلند کرنے کے لیے یہ بھی فرمایا کہ ملک کی سو ٹاپ کمپنیوں کی منافع کمانے کی صلاحیت میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ حفیظ شیخ کے یہ ریمارکس کہ تمام بنیادی انڈیکیٹرز بہتر ہیں، بیرونی اور اندرونی اعداد و شمار کے مطابق چاروں طرف سے اکانومی کے بارے میں اچھی خبریں آ رہی ہیں، گندم بھی وافر مقدار میں موجود ہے پھر بھی غریب آدمی مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت اور خراب گورننس کے ہاتھوں پس رہا ہے۔

یہ طبقہ ان باتوں سے محظوظ ہی ہو سکتا ہے کہ حفیظ شیخ ان کے زخموں پر پھاہا رکھنے کے بجائے مذاق کے موڈ میں لگتے ہیں۔ یہ وہ سنگین مذاق ہے جو ہر حکمران پاکستان کے عوام سے کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب، آصف زرداری کے دور صدارت میں بھی اسی منصب پر فائز تھے اس وقت انہوں نے کون سے ایسے جوہر دکھائے تھے جو اب دکھائیں گے۔ انہوں نے یہ نوید بھی سنائی کہ آئی ایم ایف کا وفد (جو پاکستان کے لیے پروگرام کی پہلی قسط طے کر کے گزشتہ ایک سال سے غائب ہے ) اب دوبارہ پاکستان آ رہا ہے۔

شاید آئی ایم ایف کے سابق اعلیٰ عہدیدار حفیظ شیخ کی یہ مراد تھی کہ پاکستان کی اکانومی کی حالت اتنی اچھی ہو گئی ہے کہ بین الاقوامی اداروں کے وفد وزارت خزانہ کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر لائن لگا کر پہلے سے ہی قرضے لینے کے لئے کھڑے ہیں۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف اس بات پر شاکی تھا کہ نئے پروگرام کے اہداف پورے کرنے کی صلاحیت نظر نہیں آ رہی اور کوویڈ 19 کی وبا نے ان اہداف کے حصول کو نا ممکن بنا دیا ہے۔ نیز ایک اہم سوال جو یہاں پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی اکانومی کی حالت اگر اتنی ہی اچھی ہے تو آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نئے پروگرام کی کیا ضرورت ہے۔

اصل وجہ سب کو معلوم ہے کہ یہاں اکانومی تاریخی طور پر قرضوں اور مغرب کی حاشیہ برداری کی بنا پر ملنے والی امداد پر ہی پلی بڑھی ہے۔ اللہ بھلا کرے ’امریکہ بہادر کا‘ جو ماضی میں خدمات سرانجام دینے کے عوض پاکستان پر اربوں ڈالر نچھاور کرتا رہا۔ بدقسمتی سے وہ دور لد گیا جب اس کی معیشت کو پالنے کے لیے سیٹو اور سینٹو جیسی کمیونسٹ مخالف دفاعی تنظیموں کا رکن بنایا گیا۔ اس سے پہلے جنوبی کوریا کی جنگ میں اور بعد ازاں ساٹھ اور ستر کی دہائی میں سیٹو اور سینٹو جیسی تنظیمیں بنیں جنہوں نے پاکستان کو اربوں ڈالر امداد فراہم کی۔

1965 ء کی جنگ میں بھی امریکہ ہمارا ساتھ چھوڑ گیا، ہم حیران تھے کہ ہم تو کمیونسٹوں کے خلاف امریکہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور وہ ہمارا ساتھ دینے کے بجائے بھارت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس کے بعد قریباً جنرل ضیا الحق کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے فوری بعد ہی پاکستان کی افغانستان میں پھر لاٹری نکل آئی اور سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے لیے اربوں ڈالر کی امداد ملنے لگی۔ پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی نائین الیون کے بعد پاکستان کے وارے نیارے ہو گئے۔

بدقسمتی سے پاکستان کے حکمرانوں کی نا اہلی کے نتیجے میں آج تک ایسی پالیسیاں تشکیل ہی نہیں دی گئیں جن سے غریب آدمی کا بھی بھلا ہو۔ انگریزی اخبار ’ڈان‘ میں اقتصادی امور کے ایک ماہر، جو وزیراعظم کی اکانومی ایڈوائزری کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے ایک مضمون لکھا ہے۔ ان کے مطابق 1970 سے 2020 تک گزشتہ پانچ دہائیوں میں اکانومی کی اوسطاً گروتھ سات اعشاریہ دو فیصد سے کم ہوتے ہوتے 2.3 یعنی نصف رہ گئی ہے۔ مضمون نگار کے مطابق 1980 سے اب تک جنوبی ایشیا کے ممالک میں سب سے زیادہ فی کس آمدنی میں سری لنکا سب سے آگے بڑھا ہے۔

سری لنکا کی فی کس آمدنی میں 14 گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بنگلہ دیش جو ایک وقت میں پاکستان کا حصہ تھا اور ہمارے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نام نہاد مشیر یہ کہتے تھے کہ پاکستان اس لیے ترقی نہیں کر سکتا کہ اسے نصف سے زیادہ غریب ترین آبادی کو پالنا پڑتا ہے، اس عرصے میں بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی 3.8 گنا بڑھی ہے۔ یہی حال بھارت کا ہے اس کی فی کس آمدنی 7.7 گنا بڑھی ہے۔ یعنی اس عرصے میں 1980 سے لے کر آج تک پاکستان کی فی کس آمدنی جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔

اس عرصے میں پاکستان کو انتہائی نامساعد اقتصادی حالات کا سامنا رہا ہے۔ اس مایوس کن صورتحال کے باوجود اکثر ایسے ممالک جو ہم سے بھی پیچھے تھے بہت آگے نکل گئے۔ لیکن ہم ہیں کہ بڑی ڈھٹائی سے اپنی ڈفلی بجائے جا رہے ہیں۔ نت نئے مداری یہاں آ کر اپنی پٹاریوں سے پرانے تماشے نکال کر ناٹک سجا لیتے ہیں۔ ایک عجیب سا تضاد ہے۔ جنوبی ایشیا کے اکثر ممالک میں بری بھلی جمہوریت ہے۔ پاکستان بھی ماضی میں فوجی آمریتوں کا مقابلہ کر کے جمہوریت کا سفر ایک قدم آگے دو قدم پیچھے کی طرح طے کر رہا ہے۔

جب تک ہم بعض بنیادی حقیقتوں کا اعتراف کر کے انہیں درست نہیں کرتے پاکستان کے عوام غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتے چلے جائیں گے۔ مثال کے طور پر اسلام کے نام پر مساوات کا درس دینے والے حکمران تا حال موجودہ غیر منصفانہ نظام کو ختم کرنا تو کجا اس طرف پیش رفت بھی نہیں کر سکے۔ غیر ترقیاتی اخراجات کا جائزہ لیں تو طاقتور طبقات جن میں بیوروکریسی بھی شامل ہے کے اخراجات اور اللے تللے اتنے زیادہ اور غیر منصفانہ ہیں کہ پاکستان کا موجودہ اقتصادی ڈھانچہ زیادہ دیر تک یہ بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •