سعودی موساد اتحاد ہو گیا؟ اب پیر نورالحق قادری صاحب کس کو الزام دیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پرانے زمانے کی فلموں میں اکثر یہ منظر دیکھنے کو ملتا تھا کہ ایک خوبرو ہیرو چھپ کر اپنی منگیتر کو ملنے آ رہا ہے۔ خواہ منگیتر کا دل بلیوں اچھل رہا ہو وہ شرما کر یہی کہتی رہتی تھی کہ ہائے اللہ! اگر کسی نے دیکھ لیا تو کیا ہو گا۔ قیامت آ جائے گی۔ اور اگر بعد میں کوئی سہیلی یہ پوچھے کہ کون آیا تھا؟ تو یہ منگیتر نظریں جھکا کر یہی کہتی تھی ”چل شریر۔ میں تجھ سے نہیں بولتی۔“

کچھ ایسا ہی منظر آج کے دن عالمی سیاست میں نظر آ رہا ہے۔ پہلے تو امریکہ کے قریب الفراغت وزیر خارجہ پومپیو صاحب نے سعودی عرب اور اسرائیل سمیت سات ممالک کا دورہ کیا۔ شاید یہ دیکھنے آئے تھے کہ ہیرو اور ہیروئن کی ملاقات کے لئے کون سا سیٹ مناسب رہے گا؟ اس کے بعد اچانک اسرائیلی میڈیا سے یہ خبر سنی کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نے سعودی عرب کی سرزمین پر پہنچ کر سعودی ولی عہد سے کامیاب مذاکرات بھی کر لیے۔

ٹائمز آف اسرائیل اور یروشلم پوسٹ جیسے اسرائیلی خبروں نے فوری طور پر شادیانے اور بغلیں بجانی شروع کیں کہ ان دونوں میں ایجاب و قبول ہو گیا۔ اور اس ملاقات میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ یوسی کوہن بھی شامل تھے۔

پڑھنے والوں کو یاد ہو گا کہ پاکستان کے وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری صاحب نے اس سال 11 اگست کو ایک پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کیا تھا کہ اصل میں پاکستان میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کی پشت پر موساد کا ہاتھ ہے۔ بلکہ پاکستان میں جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے را کے ساتھ موساد کا نام بھی سننے میں آتا ہے۔

ملاقات کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ امریکہ کے منتخب ہونے والے صدر جو بائیڈن نے یہ عندیہ دیا ہے کہ کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے تنازعہ میں باراک اوبامہ کی پالیسی کی طرف واپس جائیں گے۔ اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ میں امریکہ کو دوبارہ شامل کیا جائے گا۔ اس ملاقات کا اہتمام اس لئے کیا گیا تھا تاکہ اس صورت حال پر اسرائیل اور سعودی عرب کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ اور یہی خبریں مل رہی ہیں کہ دونوں میں مکمل ہم آہنگی پائی جا رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفر کرتے ہوئے جہازوں کو سعودی عرب میں قیام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

ایک سعودی مشیر نے تو شرما کر اقرار کیا کہ دونوں کی ملاقات ہوئی ہے اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ ایک اسرائیلی چینل پر سینئر اسرائیلی صحافی نے نہلے پر دہلا مارا کہ کیوں ناحق شور کرتے ہو یہ دونوں پہلے بھی کئی مرتبہ مل چکے ہیں۔

بہر حال سعودی عرب والوں کی مرضی کہ وہ کس کو گھر پر بلاتے ہیں اور کس سے راہ و رسم بڑھاتے ہیں۔ ہم تو صرف یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اب ہم پاکستانی ہر چیز کا الزام کس کے سر دھریں گے؟ ہمارے وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری صاحب تو یہ فرما رہے تھے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے پیچھے موساد کا ہاتھ ہے۔ اور اب پتہ چلا کہ سعودی عرب اور موساد آپس میں تعاون کر رہے ہیں۔

اگر آئندہ سے ہم نے موساد کا نام لیا تو یہ سعودی عرب کے اتحادیوں پر الزام ہوگا۔ ہم اپنے برادر ملک کے اتحادیوں کو الزام کس طرح دے سکتے ہیں؟ دوسرے علماء کی طرف فضل الرحمن صاحب بھی اپنے مخالفین کو صیہونی ایجنٹ قرار دیتے رہے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا وہ اب سعودی فرمانرواؤں کو بھی اس قسم کے القابات سے نوازیں گے یا یہ اعزاز صرف پاکستانیوں کے لئے مخصوص ہے۔

اور وفاقی وزیر فواد چوہدری صاحب نے کچھ ماہ پہلے یہ اقرار کیا تھا کہ بہت سے پاکستانی مدرسے سعودی عرب سے مالی مدد لے رہے ہیں۔ اور ہم جانتے ہیں کہ ”اہل مدرسہ“ تو کسی ایسے شخص کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے جس کا اسرائیل سے کچھ بھی تعلق ہو؟ پتہ نہیں یہ سعودی فیوض اب جاری رہتے ہیں کہ جذبہ خودی کے تحت ان کو لوٹا دیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات، سوڈان اور بحرین تو اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔ اور اگر اسرائیلی اخبارات کی اطلاعات درست ہیں تو سعودی عرب اور اسرائیل مشترکہ پالیسی تیار کر رہے ہیں۔ اور ان کی افواج بھی آپس میں تعاون کریں گی اور ان کی خفیہ ایجنسیاں بھی آپس میں تعاون کریں گی۔ اب جو ملک سعودی عرب کے ساتھ عسکری تعاون کرے گا کیا وہ اسی پالیسی کا حصہ ہو گا جسے اسرائیل کی رضامندی سے تیار کیا جائے گا؟ اس بارے میں پڑھنے والے خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے عوام اور حکمران اپنی آزادانہ پالیسی بنانے کا پورا حق رکھتے ہیں۔ لیکن بہتر ہوگا کہ عوام کے سامنے مکمل حقائق رکھ کر اور ان کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جائیں۔ اور فیصلے ریاض میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہونے چاہئیں۔ اور پاکستان کے عوام کی خواہش اور ان کے مفادات کو سامنے رکھ کر ہونے چاہئیں۔ لیکن اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ جو گروہ اب تک اہل پاکستان کو جہاد کی فرضیت ذہن نشین کراتے رہے اور یہ کہتے رہے کہ یہ یہودی تمہارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ تمہیں ان سے نبرد آزما ہونا ہے۔ آج وہی گروہ ان طاغوتی طاقتوں سے بغل گیر ہیں۔

اور یہ پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا ہے کہ ایک سعودی عہدیدار اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی تصدیق کرتا ہے اور دوسرا اس کی مکمل تردید کرتا ہے۔ جب اسرائیل بن رہا تھا تو بالکل ایسا ہی ڈرامہ اس وقت بھی کیا گیا تھا۔ اسرائیل کے پہلے صدر ویز مین نے اپنی خود نوشت Trial and Error میں تحریر کرتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے ان سے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ ہم اسرائیل بنانے کے منصوبے میں تمہاری مدد کریں گے اور اس کے ساتھ ابن سعود [شاہ عبد العزیز ابن سعود یعنی موجودہ سعودی بادشاہ کے والد ] کو مشرق وسطیٰ کا باس بنانا چاہتے ہیں۔

اور شاہ عبد العزیز ابن سعود کے مشیر خاص اور دوست فلبی نے ویز مین سے کہا کہ اگر امریکی صدر روز ویلٹ اور چرچل ابن سعود سے کہہ دیں کہ وہ تمہارے منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں اور ابن سعود کے لئے قرض کا انتظام کر دیں تو تمہارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اور دوسری طرف شاہ عبد العزیز ابن سعود نے امریکی صدر کے نمائندے کو کہا کہ وہ اس تجویز کی حمایت پر فلبی سے بہت ناراض ہیں اور اب انہیں اپنی حکومت میں داخل بھی نہیں ہونے دیں گے۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ فلبی سب کچھ ابن سعود کی ہدایت پر کر رہے تھے۔

(Trial And Error p 427.432)

کچھ ایسا ہی منظر اس وقت نظر آ رہا ہے۔ ایک طویل عرصہ سے ہم عرب ممالک کے اشاروں پر سر دھڑ کی بازی لگانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے ہم اپنے فیصلے اپنے طویل المیعاد مفادات کو پیش نظر رکھ کر کریں۔ نواز شریف صاحب یا کوئی اور وزیر اعظم ہٹنے کے بعد جبری رخصت کہیں اور بھی گزار سکتے ہیں۔ یا جب پرویز مشرف صاحب کی طرح کسی سابق صدر کو انگلستان میں گھر خریدنے کی ضرورت ہو تو اس کا انتظام پاکستان کے خزانے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ سعودی بادشاہ سے عطیہ لینا ضروری نہیں۔ اور اسی طرح پیپلز پارٹی کی قیادت دوبئی کے علاوہ کہیں اور بھی رہائش اختیار کر سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ان سہولیات کے لئے ہم پاکستان کے مفادات کو ہی قربان کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •