نکولا ٹیسلا کی داستان حیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی تاریخ میں کچھ ایسے نایاب افراد پیدا ہوئے جنہوں نے سچے علم کی خاطر عظیم کارنامے سرانجام دیے۔ اور کبھی بھی اپنے کارناموں پر فخر تک نہ کیا۔ پیسہ، عزت شہرت اور مقام کی تمنا کیے بغیر کچھ افراد نے انسانیت کی فلاح اور اس کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ نکولا ٹیسلا ایک ایسے ہی بے لوث، عظیم، قابل اور شاندار انسان تھے کہ آج انہیں دنیا ”بیسویں صدی کے موجد“ کی حیثیت سے یاد کرتی ہے۔ ہم سب کی آج کی تحریر نکولا ٹیسلا کے بارے میں ہے۔

آج سے ٹھیک 164 سال پہلے 1856 کی نو اور دس جولائی کی درمیانی رات کو اس وقت کی طاقتور سلطنت آسٹریا اور موجودہ کروشیا میں ایک سربین فیملی میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی۔ جب یہ بچہ پیدا ہو رہا تھا تو اس وقت آسمانی بجلی شدت سے کڑک رہی تھی۔ گھر میں خوف اور اندھیرے کا راج تھا۔ بچے کی دائی نے پیدائش کے وقت اسے ’اندھیرے کا بچہ‘ کا خطاب دے ڈالا۔ بچے کی ماں نے دائی کو فوری جواب دیتے ہوئے کہا۔ ’نہیں، یہ روشنی کا بچہ ہے‘ ۔

ماں کی بات درست ثابت ہوئی۔ اس روشنی کے بچے نے آگے چل کر انسانیت کو ایک ایسی ٹیکنالوجی سے متعارف کرایا کہ تاریخ انسانی ہمیشہ کے لئے بدل گئی۔ ہمیں روشنی یا بجلی کی موجودہ شکل دکھانے والے اس بچے کا نام نکولا ٹیسلا تھا۔ یہ بچہ آگے چل کر تاریخ کے ان گنے چنے لوگوں میں شمار ہوا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے ہم بیسویں صدی میں داخل میں ہوئے اور ان ہی کی وجہ سے بہت سے نئے کام اور بہت سی نئی ٹیکنالوجیز وجود میں آئیں۔

کہتے ہیں کہ ٹیسلا کو بجلی اور اس سے related ایجاد کرنے کا شوق شاید اپنی ماں کو دیکھ کر ہوا جو کہ اکثر اپنے گھریلو کام کاج کے لئے چھوٹی موٹی چیزیں خود ایجاد کر کے اپنے کاموں کو آسان کرتی رہتی تھیں۔ ٹیسلا نے آسٹریا کے بہترین تعلیمی اداروں سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ 1884 میں ٹیسلا امریکہ پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے مشہور موجد تھامس ایڈیسن کی کمپنی میں نوکری کرلی۔ اس ملازمت کے دوران ٹیسلا نے ایڈیسن سے بہت کچھ سیکھا۔

تنخواہ کے معاملے پر ایڈیسن کی وعدہ خلافی سے دل برداشتہ ہو کر ٹیسلا نے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد ٹیسلا نے مختلف کمپنیوں میں کام کیا۔ یہ وہ دور تھا جب بجلی یا الیکٹرسٹی کا انقلاب رونما ہو رہا تھا۔ اس دور میں ٹیسلا کی کمپنی، ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک اور ایڈیسن کی کمپنی کے درمیان بجلی کے سسٹم اے سی اور ڈی سی کی جنگ چھڑ گئی۔ ٹیسلا کا اے سی سسٹم، طویل فاصلے تک ہائی وولٹیج ہائی فریکوئنسی کرنٹ پہنچانے کی صلاحیت کی بنا پر کامیاب رہا۔

یہ بات بھی شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ 1893 میں شکاگو میں ہونے والے ورلڈ کولمبین ایکسپو میں ٹیسلا نے پہلی بار اے سی سسٹم کی افادیت کے بارے میں اتنا شاندار ڈیمونسٹریشن دیا کہ اے سی سسٹم ہی دنیا میں رائج ہوا اور آج بھی یہی رائج ہے۔ اس زمانے میں جب دنیا میں تیل کی قلت یا کلین انرجی کا تصور کرنا بھی محال تھا، ٹیسلا نے 1895 میں نیاگرا آبشار پر دنیا کا سب سے پہلا ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ لگایا تھا۔ ٹیسلا کا نام الیکٹریکل انجینئرنگ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص ’ٹیسلا کوائل‘ کی وجہ سے نہیں بھول سکتا۔

ٹیسلا کوائل آج بھی ہمارے استعمال میں آنے والے تقریباً سبھی برقی آلات کا ایک بنیادی جزو ہے۔ اسی طرح ایکس رے، ریڈار، ریموٹ کنٹرول، وائرلیس کمیونیکشن، نیون لائٹس، ارتھ یا زمین کی فریکوئنسی کی دریافت، لیزر گن ٹیکنالوجی، جدید الیکٹرک موٹر، اور اسی طرح کے بے شمار آلات اور ٹیکنالوجیز کے نظریات نیکولا ٹیسلا نے پیش کیے تھے۔ ٹیسلا آٹھ زبانیں جانتے تھے جس میں سربین، انگلش، چیک، جرمن، فرنچ، ہنگیرین، اٹالین اور لاطینی شامل تھیں۔ ان کی یادداشت فوٹو گرافک تھی یعنی وہ صرف ایک بار دیکھ کر پوری کتاب یاد کر لیتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ بنا کوئی ڈرائنگ بنائے صرف اپنے دماغ میں آئے آئیڈیا کی مدد سے مشینیں بنایا کرتے تھے۔

موت کے بعد دنیا نے ایک عرصے تک ٹیسلا کو بھلائے رکھا اور ان کے نام اور کام کو وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جس کے وہ حقیقی معنوں میں حقدار تھے، لیکن پچھلی صدی کے آخر میں ان کے حوالے سے ہونے والی نئی تحقیق کے بعد، ان کے نام اور کام کے حوالے سے کم از کم سائنسی دنیا میں آگاہی میں اضافہ ہوا ہے تاہم عوامی سطح پر آج بھی ان کا نام زیادہ نہیں جانا جاتا۔ ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق، جاپان میں کچھ سال پہلے آنے والے سونامی اور اس کے نتیجے میں ان کے ایٹمی پاور پلانٹ کو پہنچنے والے نقصانات اور اس حادثے کے ماحول پر پڑنے والے اثرات کے پیش نظر جاپان نے چاند کی سطح پر سولر پینل لگانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

منصوبے کے مطابق، چاند کی سطح پر لگنے والے ان پینلز سے توانائی حاصل کی جائے گی جسے لیزر اور مائکرو ویوز کے ذریعے زمین پر منتقل کیا جائے گا۔ یہ توانائی دنیا بھر کی ضروریات کے لئے کافی ہو گی۔ یہ رپورٹ پڑھ کر دل میں پہلا خیال ٹیسلا کا ہی آیا جنہوں نے آج سے تقریباً سو برس پہلے 1900 میں اپنے مشہور زمانہ ٹیسلا ٹاور منصوبے پر کام کا آغاز کیا تھا۔ ان کا یہ منصوبہ دنیا کے لئے ایک سستا اور مسلسل بجلی اور انفارمیشن کی ترسیل کے لئے تھا جو کہ سترہ سال بعد، فنڈز کی کمی یا عدم دستیابی کی وجہ 1917 میں بند کرنا پڑا۔

فنڈز فراہم کرنے کی ذمہ داری مشہور سرمایہ کار جے پی مورگن نے لی تھی تاہم جب انہیں اندازہ ہوا کہ اس منصوبے کی کامیابی کی صورت میں ’عام انسانوں‘ کو ’بالکل مفت بجلی‘ ملنے لگے گی تو انہوں نے اس منصوبے کو مزید فنڈز دینے سے انکار کر دیا۔ ٹیسلا، جو کہ مرتے دم تک کبھی بھی ایک مکان کے مالک نہ بن سکے اپنے مالی حالات کی وجہ سے اس منصوبے پر تالا ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔

ٹیسلا اور ان کے اس منصوبے کے حوالے سے 2008 میں فوربز میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں گوگل کے کو فاؤنڈر لیری پیج کا کہنا تھا؛ ”ٹیسلا کی کہانی ایک اداس کر دینے والی داستان ہے۔ وہ اپنی کسی بھی چیز کو کمرشلایز نہ کر سکے۔ وہ اپنی ریسرچ جاری رکھنے کے لئے بھی بمشکل کما پاتے تھے۔ اور پھر اسی طرح اپنی ساری زندگی ہوٹلوں میں گزارنے والا یہ درویش شخص، نیو یارک کے ایک ہوٹل کے کمرے میں، 1943 کی جنوری کی سات تاریخ کو اس دنیا سے چلا گیا۔

ٹیسلا انتہائی قابل موجد اور انجنیئر تو تھے ہی لیکن جو چیز سب سے زیادہ اہم تھی کہ وہ حقیقی معنوں میں مستقبل دیکھ سکتے تھے اور ساری زندگی وہ اس مستقبل کی تعمیر میں لگے رہے۔ ٹیسلا تاریخ انسانی میں ایک ایسی شخصیت کے طور پر جانے جائیں گے جنہوں نے حقیقی معنوں میں مستقبل کی تعمیر و ترقی اور اس کی فلاح کے لئے بے لوث ہو کر کام کیا۔ یہ وہ چیز ہے جو ٹیسلا کو ہمیشہ بلند رکھنے کے لئے کافی ہے۔ سائنس، سپیس ریسرچ، EVOLUTION اور بھائی چارے کے فروغ اور ان شعبوں میں ٹیسلا کی خدمات اور ان کے نظریات کے اثرات کو مانتے ہوئے اقوام متحدہ 10 جولائی کو ’ٹیسلا ڈے‘ کے نام سے موسوم کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے نام کا میوزیم بھی سربیا کے شہر بلغراد میں قائم ہے۔ ٹائم میگزین نے 1931 میں ان کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے کور پر اس سرخی کے ساتھ چھاپا تھا؛

”All the world ’s his power house“ ۔‘ پوری دنیا ان کا پاور ہاؤس ہے ’۔ اور یقیناً ٹیسلا کرہ ارض کو ایک پاور ہاؤس بنا کر دنیا کے تمام انسانوں کو ہمیشہ کے لئے مفت بجلی فراہم کرنا چاہتے تھے۔ ٹیسلا کے بارے میں ماہرین اب یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے وقت سے آگے کی سوچ رکھنے والا ایک شان دار موجد تھا۔ بجلی اور اس کے استعمال نے آج کی دنیا کے انسان کو جس طرح اور جس حوالے سے متاثر کیا ہے، اس میں سب سے اہم کردار ٹیسلا کا ہی ہے۔

وہ نہ صرف اپنے زمانے پر اثر انداز ہوا بلکہ اس کی ایجادات آج بھی دنیا بھر کے انسانوں کے لیے رحمت بنی ہوئی ہیں۔ ٹیسلا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چوبیس گھنٹوں میں صرف دو گھنٹے سوتے تھے۔ ان کی زندگی میں ایسا بھی ہوتا تھا کہ وہ وہ مسلسل 84 گھنٹے تک کام کرتے رہے تھے۔ ٹیسلا نے اپنے لیے جو دو لیبارٹریاں بنائی تھیں ان میں جلنے والے بلب کسی بھی تار کے بغیر چلتے تھے۔ آج جب ہم وائی فائی یا وائر لیس ٹیکنالوجی کا نام سنتے ہیں تو اس سارے خیال کا منبع ٹیسلا کا یہ نظریہ ہی تھا کہ بجلی یا توانائی کی بغیر کسی واسطے کے ترسیل کر کے اسے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ انسانیت پر ٹیسلا کے احسانات کا شمار کرنا ممکن نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •