جنازہ: مقبولیت کی دلیل ہے یا قبولیت کا پیمانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کا معاملہ اب اللہ کے سپرد ہے۔ ان کے افکار و اقوال کے بارے میں ہر شخص کو رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔ راقم کے نزدیک تو مرحوم افتخار عارف کے اس شعر کی عملی تصویر تھے

رحمت سید لولاک پر کامل ایمان
امت سید لولاک سے ڈر لگتا ہے

اگر راقم مرحوم کی توصیف میں کچھ کہنا چاہے (اگر یہ توصیف کے زمرے میں آتا ہے ) تو یہ کہے گا کہ مذہب بطور سیاسی ہتھیار ہر دور میں استعمال ہوتا رہا ہے لیکن پچھلے چند برس میں اس کا سب سے موثر استعمال مرحوم نے کیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جو رونق پہلے فیض آباد دھرنے نے لگائی وہ دوبارہ نہیں لگ سکی۔ فیض آباد دوئم اور سوئم میں نہ کسی میڈیا ہاؤس کے مالک نے دینی جذبے سے مغلوب ہو کر دیگوں کا اہتمام کیا، نہ پی ٹی آئی کے حامیوں نے دھرنے میں شامل ہونے کے لئے اپنی قیادت پر دباؤ ڈالا اور نہ ہی ’ان‘ کی طرف سے ’اپنے لوگوں‘ پر نرمی برتنے کا بن مانگے مشورہ آیا۔

فیض آباد دوئم میں تو الٹا لینے کے دینے پڑ گئے جب فیض آباد اول کے خمار میں قید تحریک لبیک کا روئے سخن ’ان‘ کی طرف ہو گیا۔ نتیجتاً کارکنوں کو ’ادھر بہت مار پڑ رہی ہے، میں مشکل سے بچ کر آیا ہوں‘ جیسے پیغامات ریکارڈ کرانے پڑے، ایک مرکزی لیڈر مختصر جیل یاترا کے بعد خرابی طبیعت کا بہانہ بنا کر تحریک سے ریٹائر ہو گئے اور مولانا رضوی مرحوم کچھ عرصہ سرکاری مہمان رہے۔

راقم کا موضوع تحریک لبیک کی سیاست یا مولانا رضوی مرحوم کا کردار نہیں بلکہ ان کے جنازے پر ہونے والے چند تبصرے ہیں۔ راقم کے پاس چونکہ وقت ضائع کرنے کے اور کئی طریقے ہیں اس لئے آزاد و بیباک ٹی وی چینل دیکھنے کا تردد نہیں کرتا۔ سوشل میڈیا کے توسط سے پتہ چلا کہ مرحوم کا جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ کسی بھی بڑے جنازے کے پس پردہ محرکات پر تبصرہ آرائی ایک فطری سا عمل ہے۔ لیکن مولانا مرحوم کے جنازے پر چند تبصرے پڑھ کر یوں محسوس ہوا کہ مولانا کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں نے دلیل و منطق کی بھی تدفین کر دی۔

قاضی حسین احمد مرحوم کی صاحبزادی محترمہ سمیعہ راحیل قاضی نے مولانا مرحوم کے جنازے کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے امام حنبل کا ایک قوم نقل کیا ہے جس کے مطابق انہوں نے اپنے مخالفین کے بارے میں کہا تھا کہ ہمارے درمیان حق اور باطل کا فیصلہ ہمارے جنازے کریں گے۔ محترمہ قاضی نے مولانا رضوی مرحوم کے نام کے ساتھ رحمتہ اللہ علیہ کا اضافہ بھی کیا ہے۔

محترمہ بین الاقوامی مسلم خواتین یونین کی سربراہ ہیں اور دینی موضوعات پر لیکچر دیتی ہیں۔ اس لئے گمان یہی ہے کہ بزرگان دین کے اقوال کو سیاق و سباق سے الگ کر کے دیکھنے کے مضمرات سے بخوبی آگاہ ہوں گی۔ مولانا مرحوم کو حق پر سمجھنا اور ان کے نام کے ساتھ رحمتہ اللہ علیہ لکھنا محترمہ کا استحقاق ہے لیکن امام حنبل کے ایک خاص تناظر میں دیے گئے قول کو حق و باطل کے مابین تمیز کرنے کے عمومی معیار کے طور پر پیش کر کہ راقم کی نظر میں محترمہ نے علمی بددیانتی کا ارتکاب کیا ہے۔ جیسا کہ متوقع تھا محترمہ کے جواب میں کئی لوگوں نے دیگر کئی مذہبی و غیر مذہبی شخصیات کے جنازوں کے حوالے دے کر محترمہ سے راہنمائی چاہی اور جہاں تک راقم دیکھ پایا انہیں کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔

ایک اور ٹویٹ جس راقم کی توجہ حاصل کی وہ محترم شاہین صہبائی کی طرف سے تھی۔ صہبائی صاحب ایک دبنگ سابق ایڈیٹر کی شہرت رکھتے ہیں جنہوں نے جنرل مشرف کے دباؤ میں آنے کی بجائے جلاوطنی کو ترجیح دی۔ محترم کا دعوٰی ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کو میاں صاحب کے ساتھ میثاق جمہوریت کا مشورہ انہوں نے دیا تھا۔ دور موجود میں محترم عمران خان صاحب کے شدید ترین حامیوں میں شمار ہوتے ہیں اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں اپنے گراں قدر تجزیوں سے نوازتے رہتے ہیں۔

صہبائی صاحب کے بقول مولانا رضوی مرحوم کے جنازے کو دیکھ کر اپوزیشن کے لیڈروں کو غشی کے دورے پڑ رہے ہیں کہ وہ اتنے لوگ کیسے اکٹھے کریں گے اور دعوی کیا ہے کہ کرونا کا بہانہ بنا کر اپوزیشن لاہور کا جلسہ منسوخ کر دے گی۔ اپوزیشن کو لاہور کا جلسہ تو یقیناً منسوخ کر دینا چاہیے کہ ایسے ماحول میں جب کرونا تیزی سے پھیل رہا ہے ایک غیر ضروری اجتماع کا انعقاد انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ لیکن صہبائی صاحب نے جنازے سے جلسے کا جو تعلق جوڑا ہے وہ یا تو اتنا باریک نکتہ ہے کہ راقم جیسی موٹی عقل والے اسے سمجھنے سے قاصر ہیں یا سابق مدیر محترم مولانا مرحوم کے جلسے کی آڑ میں اپوزیشن کو رگڑنے کی کوشش میں وہ کر بیٹھے ہیں جسے روز مرہ کی زبان میں بونگی مارنا کہتے ہیں۔

مولانا مرحوم کی شخصیت اور سیاست کے کئی پہلو سنجیدہ تجزیے کے متقاضی ہیں۔ بقول نصرت جاوید صاحب ہم جیسے اندھی عقیدت و نفرت میں مبتلا معاشروں میں سنجیدہ بحث کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے۔ ان کے رائے سے اتفاق کیے بغیر چارہ نہیں لہذا مولانا مرحوم کے باب میں گمان یہی ہے کہ یار لوگ اسی بحث میں پڑے رہیں گے کہ جنازے کا حجم محض مقبولیت کی دلیل ہے یا قبولیت کا پیمانہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •